تازہ ترین:

اتوار‘ 27 صفر المظفر 1433ھ‘ 22 جنوری 2012

ـ 22 جنوری ، 2012
اثر چوہان نے ” سینیٹر“ مظفر مرزا کی سینیٹر بننے کی نوخیز تمنا پر ایک ایسی سفارشی نظم میاں نواز شریف کے نام لکھی ہے کہ وہ سینیٹر نہ بن سکے تب بھی سینیٹر مظفر مرزا کہلائیں گے،اُنکی نظم کا عنوان ہے ” میرا یار مظفر مرزا ہُن سینٹ دا ٹکٹ اک منگدا اے“ ملاحظہ ہو....
میرا یار مظفّر مرِزا ہُن، سینٹ
دا ٹکٹ اِک مَنگدا اے
میں جاننا، ایس نُوں، لڑکپن توں، منگن توں، اکا سنگدااے
میرا یار مظفّر مِرزا ہُن، سَینٹ دا ٹکٹ اِک مَنگدا اے
نِکّا بھائی، منوّر مِرزا دا،تے سرگودھے دی جّم پَل اے
پر، شاہد رَشید دا کہنا اے ” مَینوں لگدا اے، ایہہ جھنگ دا اے“
ایہہ بندہ علّامہ، فہامہ اے، تے اُردو ادب دا، گاما اے
ایہدے مُرشد مجید نظامی نیں، نہیں چیلا، کِسے ملنگ دا اے
ایہہ، ساٹھا باٹھا، لگدا اے،تے وال وی، سارے کالے نیں
جِیویں رانا ثنا اللہ، رنگدا، اوویں، یار میرا وی، رنگدا اے
نہ خُوش ہوندا، نہ غم کردا، ایہہ چُپّ چپیتے‘ کم کردا
اینہے، دو سو ڈینگی، مارے نیں، ایہہ دُشمن، کیٹ پتنگ دا اے
ایہہ پڑھدا نمازِ پنج گانہ، تے پنجے عَیب شرعی، کوئی ناں
نہ شراب، کباب نُوں مُنہ لاوے، نہ رسِیا، رباب تے چنگ دا اے
دفتر توں سدّھا گھر جاندا ، جاندا تبلیغی جماعت نال
نیکاں کول، بہندا کھلوندا، اے نہ سنگی کِسے، کسنگ دا اے
ایہدے عِلم و فضل، دِیاں دُھمّاں پئیِاں، پنڈاں وِچّ، تے شہراں وِچّ
جِیواں پڑھیاں لِکھیّاں، لوکاں وِچّ چرچا، خانہ فرہنگ دا اے
مَیں، رفاقت ریاض دی، موٹر تے، کمپین چلاواں گا، ایس دی
کِیہ ہویا جے، میرے یاروانگ، میرا وی مسئلہ، کھنگ دا اے
میں رائے ونڈ، جاواں گا اثر، تے عرض کراں گا شریفاں نُوں
دیو ٹکٹ، مظفّر مرزا نُوں، ایہہ بندہ، تُہاڈے ڈھنگ دا اے
اثر چوہان ....رستم زمان،گاما پہلوان
٭....٭....٭....٭....٭....٭....٭
وزیراعظم جس گاڑی پر سپریم کورٹ گئے‘ اسکی نمبر پلیٹ جعلی نکلی۔
اب تو صرف قائداعظم کا بنایا ہوا پاکستان ہی اصلی ہے‘ کیونکہ اسکی ڈپلیکیٹ نہیں بن سکتی‘ باقی سب کچھ جعلی ہے۔ وزیراعظم کی گاڑی جعلی نمبر پلیٹ کے ساتھ فراٹے بھرتی عدالت پہنچی‘ یہ کوئی اچھا شگون نہیں۔ اس گاڑی کی بھی تحقیق کرلینی چاہیے جسے وہ چار سال سے اس طرح چلا رہے ہیں‘ جیسے فلموں میں گاڑی نہیں نظارے چلتے ہیں اور دیکھنے والوں کو گاڑی چلتی دکھائی دیتی ہے۔ ہر چند کہ حکومت ہے مگر عوام کو ٹکٹ دیکر اجاڑ نگر بھیج دیا گیا تاکہ وہ خوب انجوائے کریں اور حکمران اپنی ”مضبوط“ کرسیوں کے احساس کےساتھ عوام سے الگ ہر طرح کی چیزوں سے لطف اندوز ہوں۔
ایک نوجوان شام کو اپنی گرل فرینڈ کے پاس آیا اور کہنے لگا‘ ڈارلنگ ہماری آج شام بڑی پرلطف گزرے گی‘ میں نے سینما کی تین ٹکٹیں خریدی ہیں‘ گرل فرینڈ نے پوچھا لیکن ہم تو دو ہیں۔ نوجوان نے کہا‘ ایک ٹکٹ تمہاری ممی کیلئے‘ ایک تمہارے ڈیڈی اور ایک تمہارے بھائی کیلئے۔ اب عوام غربت‘ لوڈشیڈنگ‘ بیروزگاری‘ بدامنی کے ٹکٹ لےکر مست الست ہیں اور حکمرانوں کے موج میلے کا نوٹس نہیں لیتے جبکہ حکمران عوام سے جان چھڑا کر چکنے چپڑے بیانات دیکر فارغ البال خوشحال ‘ مال و مال عیش و نشاط میں غرق ہیں اور ملک پاتال میں غرق۔ چار برسوں میں جعلی کے لفظ نے جتنا فروغ پایا ہے‘ اس کا عروج یہ ہے کہ وزیراعظم کی گاڑی کا نمبر پلیٹ تک جعلی ہے۔ اللہ جانے یہاں کیا کیا جعلی ہے‘ اس ملک کو تو جعلسازی کی نگری اور جیتے جاگتے ملک کو جیکی بنا دیا گیا ہے۔
ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ٹرینرز کے اپریل یا مئی میں پاکستان آنے کا امکان ہے۔
ہماری افواج اس درجہ مشاق اور اپنے پیشے کا ادراک رکھتی ہیں کہ انہیں نااہل امریکی فوج سے تربیت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں اس لئے وہ پرے پرے ہی رہے۔
میرے کول اپنا اے دلدار
تے امریکیاں نوں پراں کرو
امریکہ کو پاکستان سے اتنا ہی پیار ہے تو مسٹر منٹر ہی کافی ہے بشرطیکہ اسکی بھی مانیٹرنگ کی جاتی رہے۔ امریکہ اب ماضی کی یاریاں‘ دلداریاں‘ عیاریاں‘ مکاریاں ترک کر دے کہ ہم نے اس سے بہت دور ٹھکانے بنالئے اور وہ ہے کہ ہمیں نوچنے کے نئے بہانے بنالئے۔ امریکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے پیٹرن پر آگیا ہے مگر ہم اب مزید نہیں ڈسے جائینگے اور نہ ہی ہماری امریکہ میں مقیم سفیر شیری رحمان مردانہ وار زنانہ وار کریگی اور حقانی جیسی فیاضی نہیں دکھائیں گی اور ایک ویزہ بھی کسی امریکی کو جاری نہیں کرینگی۔ پاکستان کے عوام کو جو مسلسل زک پہ زک امریکہ نے اپنے گھس بیٹھئے داخل کرکے پہنچائی ہے اس کا انجام یہ ہے کہ کوئی بھی پاکستانی کسی امریکی کو اس دھرتی پر قدم رکھنے کی اجازت نہیں دیگا اور ازخود کارروائی کریگا کیونکہ وہ غلامان امریکہ کو بھی جان گئے ہیں۔ ہمارے حکمران بے فکر رہیں‘ ان کے آقاﺅں سے ہمارے غیور عوام ہی نمٹ لیں گے۔ خدا کرے کہ امریکی ٹرینرز اور انکے بھیجنے والوں تک ہماری یہ للکار پہنچ جائے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter