تازہ ترین:

جمعۃ المبارک ‘ 6؍ صفر المظفر1431ھ‘ 22 ؍ جنوری 2010ء

ـ 22 جنوری ، 2010
سینٹر ایس ایم ظفر نے کہا ہے‘ بطور پاکستانی تذلیل نہیں کرا سکتا اور انہوں نے یہ کہہ کر امریکہ نہ جانے کا اعلان کر دیا۔
ہم ایس ایم ظفر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے امریکہ کی نئی امیگریشن پالیسی کیخلاف بطور احتجاج امریکہ نہ جانے کا اعلان کر دیا ہے‘ خدا کا شکر ہے کہ سترہ کروڑ پاکستانیوں میں سے ایک تو غیرمند نکلا‘ غیرت مند تو اور بھی کئی ہیں مگر انہوں نے اپنی غیرت امریکہ کے ہاں گروی رکھ دی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایس ایم ظفر کی غیرت کیا رنگ لاتی ہے اور کتنے اور غیرت مند میدان عمل میں نکلتے ہیں۔ ایس ایم ظفر صاحب اگرچہ کشتِ ستم نہیں پھر بھی انکی غیرت صحیح سالم ہے‘ امریکہ ان کا پسندیدہ ملک ہے اور انکے وہاں کئی دوست بھی موجود ہیں مگر انہوں نے اپنے شوق کو اپنی غیرت پر قربان کر دیا۔ ایک وہ بھی ہیں کہ جن کی انگلی میں موچ آجائے تو وہ کپڑے اترنے کی پرواہ کئے بغیر امریکہ کا رخ کرتے ہیں۔
امریکہ کی مسلمانوں سے ’’محبت‘‘ کا یہ عالم ہے کہ اس نے چودہ اسلامی ملکوں پر نئے امیگریشن قوانین لاگو کر دیئے ہیں‘ خدا کرے کہ مسلم امہ میں سے چودہ غیرت مند تو نکلیں‘ مگر اسکی توقع نہیں کیونکہ مسلمانوں کی اکثریت امریکہ جانے ہی کو فخر سمجھتی ہے۔ بہرحال ممکن ہے کہ یہ پہلا قطرہ موسلادھار بارش بن جائے۔
٭…٭…٭…٭
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے‘ امریکی اخبار کو کوئی انٹرویو نہیں دیا۔
ڈاکٹر قدیر خان نے سچ کہا ہے کہ مغربی میڈیا لفافہ بردار صحافیوں سے کام لیتا ہے اور کہانیاں گھڑ رہا ہے۔ جمہوری حکومت مجھ پر عائد پابندیاں نہیں اٹھا رہی‘ مجھ سے کوئی غیرملکی ایجنسی تفتیش نہیں کررہی۔
امریکہ کی یہ کوشش ہے کہ وہ محسنِ پاکستان قدیر خان کو بحیثیت ایک مجرم کے پیش کرے اور افسوسناک بات تو یہ ہے کہ ہماری جمہوری حکومت نے بھی ان پر پابندی عائد کر رکھی ہیں۔ پاکستان ایک آزاد خودمختار ایٹمی ملک ہے‘ مگر امریکہ نے اپنے گٹھ جوڑ کے ساتھ اسکی خودمختاری کو پامال کر دیا ہے اور پاکستان میں اتنا دم خم بھی نہیں چھوڑا کہ وہ اسکے سامنے اف تک بھی کر سکے۔
قدیر خان ہمارے ہیرو اور ملک کا نادر سرمایہ ہیں‘ مغربی دنیا یہ چاہتی ہے کہ امریکی اشارے پر وہ خان صاحب کو رسوا کرے اور اس کیلئے اس نے صحافی کرائے پر لے رکھے ہیں جو آئے روز خان صاحب کے بارے میں من گھڑت کہانیاں شائع کرتے رہتے ہیں۔ آج اگر پاکستان کا وجود قائم ہے تو اس کا کریڈٹ قدیر خان کو جاتا ہے۔ یہی وہ تکلیف ہے جو امریکہ سے سہی نہیں جاتی۔
امریکہ کے سائنس دان دنیا کے مہلک ترین ہتھیار بنا رہے ہیں‘ ہمارے میڈیا کو چاہئے کہ اسے ہائی لائٹ کریں اور وہ ملک جو قدیر خان کے ایک ایٹم بم بنانے سے خائف ہے‘ اس کے خطرناک ہتھیاروں سے دنیا کو آگاہ کرے۔
٭…٭…٭…٭
برطانوی ہائوس آف لارڈز کے تاحیات رکن لارڈ نذیر نے کہا ہے کہ بھارت اور اسرائیل مہذب دنیا کے دہشت گرد ترین ممالک ہیں۔
یہ بات دنیاکو آج پتہ چل رہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہود و ہنود دنیا کی شرپسند ترین حکومتیں ہیں اور تاریخ جب کریدے گی تو ہر دہشت گردی کے پیچھے انہی کا ہاتھ برآمد ہو گا۔ امریکہ تو یہودیوں کا کھلونا ہے اور اس کھلونے کو بھی جلد ہی پتہ چل جائیگا‘ یہودی اسے کس طرف لے جا رہے ہیں۔
اندرون خانہ اسرائیل اور بھارت کی تمام تر منصوبہ بندیاں مل کر تیار ہوتی ہیں۔ لارڈ نذیر کی یہ جرأت مندی ہے کہ انہوں نے دنیا کے دو بڑے بدمعاشوں کو ڈنکے کی چوٹ پر بے نقاب کیا ہے‘ مگر شاید امریکہ سے وہ بھی ڈرتے ہیں‘ ورنہ ان بدمعاشوں کا سرغنہ تو وہی ہے۔ آج امریکہ بھی پاکستان میں جو کچھ کر رہا ہے‘ وہ یہودیوں کے اشارے پر ہو رہا ہے اور بھارت اس سلسلے میں برابر کا شریک ہے۔ یہ دونوں ملک یہ بھی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں ایسے غدار ڈھونڈے جائیں جو نظریہ پاکستان کو سبوتاژ کریں۔
امریکہ کا عالم اسلام کے پیچھے پڑ جانا بھی یہودی اور بھارتی سازش ہے۔ شاید قدرت یہی چاہتی ہے کہ مسلمانوں کو اس قدر تنگ کیا جائے کہ وہ بجنگ آمد پر اتر آئیں اور یہ ایک دن ہو کر رہے گا۔ کیونکہ مسلم امہ میں سست رفتار سہی مگر بیداری کی ایک لہر پیدا ہو چکی ہے۔ آج مسلمانوں کا دنیا کے ہر خطے میں موجود ہونا مغرب کیلئے خوف کی علامت ہے مگر وہ کسی طرح بھی اسلام اور مسلمانوں کا پھیلائو روک نہیں سکیں گے۔
٭…٭…٭…٭
خاوند نے کلہاڑی کے وار کرکے بیوی کی دونوں ٹانگیں کاٹ دیں۔
یہ وہ جہالت ہے‘ جسے حکومت کی بھی سرپرستی حاصل ہے‘ پاکستان میں عورتوں کے حقوق جس قدر پامال ہوتے ہیں‘ اتنے شاید ساری دنیا میں نہیں۔ ایک معمولی سے گھریلو جھگڑے پر کاہنہ کے علاقے میں خاوند کا بیوی کی دونوں ٹانگیں کاٹ ڈالنا‘ بہت بڑا المیہ ہے۔ اس طرح کے واقعات اب روزانہ کا معمول ہیں‘ جس کی سب سے بڑی وجہ جہالت کا عام ہونا ہے اور حکومتی ذمہ دار قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مجرم کو سزا سے بچانے کی کوشش ہے۔ ایسے جرم کے کسی ایک مجرم کو بھی اگر شہر کے چوراہے میں سزا دی جائے تو آئندہ کوئی ایسا نہ کرے۔ ہمارے ہاں جرم کی جو نوعیت بن چکی ہے‘ اس کا تقاضا ہے کہ سزا سرعام دی جائے۔ اگر کاہنہ کے اس شخص کی دونوں ٹانگیں چوراہے میں کاٹ دی جائیں تو ایسے جرائم کٹ کر رہ جائیں گے۔ ہمارے ہاں حقوق نسواں کا بل بھی پاس ہوا ہے‘ این جی اوز بھی موجود ہیں‘ سماجی ادارے بھی کام کر رہے ہیں مگر وہ اس طرح کے واقعات پر ریلی اور سیمینار سے آگے نہیں بڑھتے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter