قصور میں عمران خان کا جلسہ ختم ہوتے ہی شرکاءکرسیاں اور دوسرا سامان اٹھا کر فرار ہو گئے۔
تحریک انصاف نے اقتدار ملنے سے پہلے ہی لوٹ مار کا راستہ اپنا لیا ہے‘ قصوری نے بھی ڈاکوﺅں اور چوروں کو اکٹھا کرکے بڑا شو کیا ہے‘ ویسے وزیراعظم کی کرسی تو ایک ہے‘ لیکن جماعت میں شامل افراد میں سے ہر کوئی اس پر بیٹھنے کا متمنی ہے۔ مجمع اکٹھا کرنے کیلئے قصوری نے اعلان کر رکھا ہو گا کہ جلسے میں موجود مال ”مالِ غنیمت“ سمجھ کر لے جانا۔ یہ آپ لوگوں کے ہی خون پسینے کی کمائی ہے۔ پانچ سال وزیر خارجہ رہ کر قصور کا رخ نہ کرنےوالے نے عوام کو چند کرسیاں دیکر ٹرخا دیا۔ لال مسجد میں آپریشن ڈرون حملوں کی کھل کر حمایت‘ اکبر بگتی کے قاتل مشرف کے ساتھ مل کر جشن منانے‘ چیف جسٹس کو معزول کرنے کی حمایت کرنیوالوں کی جوق در جوق تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ لوگ تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں یا عمران خان (ق) لیگ میں چلے گئے ہیں۔ دو سابق وزراءخارجہ کی شمولیت سے اس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ عمران خان میاں اظہر بننے جا رہے ہیں‘ بالآخر زمان پارک میں بیٹھ کر میاں اور خان یوں گویا ہونگے....
عجیب اعتبار اور بے اعتباری کے درمیاں ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے
تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتہ نہ تھا
تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے
تحریک انصاف مشرف کی باقیات کی پناہ گاہ بنتی جا رہی ہے‘ ابھی تو لوگ مہنگائی اور بھوک کے مارے کرسیاں اٹھا رہے ہیں‘ اگر حالات کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یقیناً یہ سیاست دانوں کی بوٹیاں نوچنے پر آجائینگے۔ لوگ سٹیج کا قالین اور بینرز تک لے بھاگے‘ اگر یہ سلسلہ نکل کھڑا ہوا تو پھر ہر سیاست دان الطاف حسین اور طاہر القادری کی طرح ٹیلی فونک لیڈر بننے کی کوشش کریگا کیونکہ نوبت سیاست دانوں کے کپڑے اتارنے اور گاڑیاں چھیننے تک آپہنچے گی۔
٭....٭....٭....٭
سابق قومی ٹیسٹ کرکٹر مشتاق احمد شادی کے 17 سال بعد ولیمہ کرینگے۔
چار بچوں کے باپ مشتاق احمد پھر سے دلہا بننے کیلئے بے تاب ہیں۔ وہ سرخ لہنگے میں ملبوس محترمہ کو بھی سٹیج پر لائیں گے لیکن 17 سال قبل کا شباب تو لوٹ کر نہیں آئیگا۔ چوڑیوں کی چھن چھن ہو گی اور نہ ہی مبارکبادیں‘ دینے والوں کا تانتا بندھے گا‘ مشتاق احمد کی زوجہ کی خدمت میں پروین شاکر کا شعر حاضر ہے‘ اس پر بھی وہ غور کریں تاکہ مشاق کا چاہا پورا ہو جائے۔
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماﺅں گی
میں اپنے ہاتھ سے تیری دلہن سجاﺅں گی
سپرد کرکے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ آﺅں گی
اگر ایسا ہو گیا تو مشتاق کیلئے تو سونے پر سہاگہ ہو گا۔ گردش ایام ہے۔ اگر مشتاق عام پاکستانی ہوتا تو مہنگائی کے اس دور میں کسی کونے کھدرے میں مرغی کی طرح بچوں کو پروں کے نیچے چھپا کر بیٹھا ہوتا‘ انہیں اب بھی اپنے ولیمے کے اعلان سے رجوع کر لینا چاہیے اور جو خرچ اس پر آئیگا‘ وہ کسی غریب کی بچی کے ہاتھ سرخ کرنے پر لگا دیں۔ لاکھوں بچیاں پیا گھر سدھارنے کے خواب آنکھوں میں بسائے کسی مسیحا کی منتظر ہیں۔
پچھلے دنوں تو ایک قومی کھلاڑی نے اپنی شادی پر ایسے پیسہ لٹایا جیسے سیاست دان انتخابات میں لٹاتے ہیں۔ اس سے کئی پریاں اپنے شہزادوں کے گھر پہنچ سکتی تھیں۔ لیکن وہ حیرت بھری نظروں سے اس جوڑے کو دیکھتی رہیں۔ 17 سال کے بعد مشتاق کے دوستوں کو یہ پوچھنے کی ضرورت تو محسوس نہیں ہوگی کہ یہ ولیمہ حلال ہے یا ....؟ کیونکہ اب انکے چاربچے بھی ہو چکے ہیں۔
٭....٭....٭....٭
لاہور پولیس خود قبضہ گروپ بن گئی‘ مختلف محکموں کی عمارات میں 16 تھانے قائم کر دیئے۔ زمین پولیس ڈیپارٹمنٹ کے نام منتقل کرانے کیلئے متاثرہ محکموں کے افسران کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
ہم ملک کے دوسرے صوبوں کی بات تو نہیں کرتے‘ لیکن پنجاب پولیس اس قدر بے لگام اور شاد کام ہے کہ یوں لگتا ہے کہ یہ صوبہ پولیس کا پنجاب‘ ان ٹو پنجاب بن چکا ہے۔ بدتمیزی‘ بداخلاقی‘ بدخصالی‘ بدعملی اور اب قبضہ گری پنجاب پولیس کا وطیرہ بن چکا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ صوبے کی زمام پولیس کے ہاتھ میں دے دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب جن کا حسن کارکردگی‘ انتھک خدمات اور غریب لوگوں کی شنوائی عام اور مقبول ہے‘ اس کو یہ نابکار پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ٹکے کا نہیں رہنے دیا کیونکہ عام آدمی تو یہی سمجھتا ہے کہ یہ سب پنجاب حکومت کی ناک تلے ہو رہا ہے اور گورنر پنجاب سے کوئی پوچھے کہ میمو ہٹا کر اپنے جوتے کی نوک پر پولیس کی کارکردگی کو رکھیں تاکہ انکی نیک نامی کا بھی آغاز ہو۔ اب تو یہی حل ہے کہ جن سرکاری محکموں میں پولیس نے سولہ تھانے بنا لئے ہیں‘ وہ محکمے سولہ تھانوں میں اپنے دفاتر شفٹ کر دیں مگر کیا کیا جائے کہ انکے پاس وردی ہے نہ بندوقیں‘ اسی لئے تو قبضہ کے بعد ان محکموں کو پولیس ڈیپارٹمنٹ کے نام منتقل کئے جانے کا بھی پروگرام شروع ہو چکا ہے۔
پولیس ہوش کے ناخن لے‘ یہ نہ ہو کہ حکومت میں تو شاید اتنی جان نہیں‘ یا پھر وہ پریشان ہے کہ پولیس کی شان میں گستاخی کی تو کہیں وہ جوابی گستاخی نہ کر دے۔ ہم نے تو سڑک پر ایک پولیس والے کویہ کہتے بھی سنا‘ جاﺅ سی ایم کو کہہ دو‘ ہمیں اسکی بھی پرواہ نہیں‘ وہ ہمارا کیا بگاڑ لے گا۔ ان حالات میں مقبوضہ محکمہ اس بے مروت کی مرمت کرے۔ عدالت میں جا کر اور کیا کر سکتا ہے۔