اتوار11 ؍رمضان المبارک‘1431ھ‘22 ؍ اگست 2010ء

ـ 22 اگست ، 2010
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے: کاروباری برادری لاکھوں متاثرین کی بحالی کیلئے آگے بڑھے، تاجر10 دیہات پر مشتمل زونز تعمیرکرنے کی ذمہ داری لیں، حکومت تعاون کرے گی۔
صدر زرداری نے بڑی اچھی تجویز دی ہے، مگر وہ سرمایہ دار حکمرانوں سے بھی کہیں کہ وہ اپنا سرمایہ واپس لا کراس کارخیر میں شامل ہوجائیں، کیونکہ انکے بھی بڑے بڑے کاروبار ہیں، ظاہر ہے کوئی غریب با صلاحیت آدمی تو حکومت میں شامل ہی نہیں ہوسکتا،تاجر برادری اگر صدر صاحب کی تجویز پر عمل کرلے تو وہ سیلاب زدگان کی خاطر خواہ مدد کرسکتے ہیں، اللہ کی راہ میں سرمایہ خرچ کرنے کا یہ بہترین موقع ہے اور اس میں بڑا منافع ہے یہ ملک سترہ کروڑ عوام کا ہے، جن کے وسیلے سے حکومت بنتی ہے تجارت چلتی ہے اگر یہ عوام ڈوب گئے تو حکومت اور تجارت دونوں ڈوب جائیں گے، اس لئے اپنے آپ کو بچانے اور آخرت سنوارنے کا یہ بہترین موقع ہے۔
صدر صاحب سیلاب کا نوٹس لے رہے ہیں امریکی سیلاب کا بھی نوٹس لیں کہ انہوں نے ہمارے دو شہر اپنے مفاد کیلئے ڈبودئیے، یہ ظلم اقوام متحدہ کے نوٹس میں بھی لانا چاہئے، بلکہ حق تو یہ ہے کہ وطن عزیز کو امریکی اڈوں سے پاک کردیاجائے کیونکہ یہ اڈے ہماری ملکیت ہیں۔
٭…٭…٭…٭
جنرل (ر) حمید گل نے کہا ہے امریکہ شہباز اور شمسی ائربیس سے ایران پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکیوں نے وہاں بڑا سیٹ اپ بنا رکھا ہے پاکستانی حکام کوداخلے کی اجازت نہیں، امریکی اڈہ بچانے کیلئے 2شہر ڈبو دئیے گئے۔
جنرل صاحب صاحبِ دل ہیں اور گاہے بگاہے حق اگلتے رہتے ہیں، مگر اُن کی باتوں کو عوام کے سوا کوئی حکمران جاننے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا، وہ خطروں کا قطب نما ہیں اور بروقت اطلاع دے دیتے ہیں، مگر زمین جنبد نہ جنبد گل محمد کے مصداق حکومت دانستہ نوٹس نہیں لیتی اس لئے کہ اسے امریکہ سے اجازت لینی پڑتی ہے، شہباز ائر بیس ہمارا ہوتے ہوئے بھی ہمارا نہیں، اور امریکہ جو پاکستان کا خیر خواہ بننے کی منافقت کر رہا ہے اُس نے شہباز ائر بیس پر مکمل قبضہ کرکے اُسے سیلاب سے بچانے کیلئے دوشہر ڈبو دئیے ہیں کیا اسکے بعد بھی ہم یقین کرلیں کہ امریکہ ہماری مدد کر رہا ہے ایران ہمارا برادر دوست اسلامی ملک ہے، اگر اس کے خلاف شہباز اور شمسی ائر بیس جو ہمارے ہیں استعمال ہوتے ہیں تو اس سے بڑی غداری مسلم اُمہ کے ساتھ کیا ہوگی جو امریکہ ہم سے کرانا چاہتا ہے۔ کیا ہمارے حکمران امریکہ کے سامنے اتنے بے بس ہوگئے کہ اس کی اجازت کے بغیر چھینک بھی نہیں مارسکتے ظاہر ہے اُنہیں امریکہ سے کوئی فائدہ تو پہنچ رہا ہے جو وہ اُس کے اس قدر’’ تھلے‘‘ لگے ہوئے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے: حکمرانوں نے عوام کو سیلاب کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
حکمرانوں نے سچ پوچھو تو عوام کو بھارت امریکہ اور اسرائیل کے رحم و کرم پرچھوڑ دیا ہے، امریکہ نے زور زبردستی کرکے پاکستان کو اُس کمینے دشمن کی امداد قبول کرنے پر مجبور کردیا جو سیلاب کا باعث بنا۔
عوام اس کے سوا کیا کرسکتے ہیں کہ قرآن شریف ہاتھوں میںلے کر سیلاب کے آگے کھڑے ہوجائیں اور دعائیں کریں، اے این پی جو کالا باغ ڈیم کی مخالف ہے اب دیکھ لے کہ اسکے متروں نے اُسکے ساتھ کیا کیا، جماعت اسلامی سمیت تمام دینی جماعتیں اپنی اپنی بساط کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچ کر مدد کر رہی ہیںلیکن یہ سیلاب تو سیلابِ بلا ہے، جو کسی طرح ٹل ہی نہیں رہا۔
دنیا بھر سے امداد آرہی ہے مگر اس کوحقداروں تک پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے سیلاب نے تو آنا تھا سو آگیا اس لئے کہ کالا باغ ڈیم بنا اور نہ کوئی اور ڈیم، صرف سیاسی سیلاب ہے جو قوم کو ڈبو رہا ہے یہ سیلاب حکمرانوں سیاستدانوں سمیت پوری قوم کے لئے درس عبرت ہے، بالخصوص جب تک سیاستدان حکمران اپنا قبلہ راست نہیں کرتے یہ آفات و بلیات نہیں ٹلیں گی، فاعتبرو ایا اولی الابصار۔
٭…٭…٭…٭
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنمائوں نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے میاں نواز شریف کی طرف سے کمیشن کی تجویز پر آمادگی پر شدید رد عمل کا اظہارکیا ہے اور کہا ہے کہ وزیراعظم سے وضاحت طلب کی جائے کہ انہوں نے پارٹی کی سینئر قیادت کو نظر انداز کرتے ہوئے میڈیا کے سامنے میاں نواز شریف کی تجویز پر کیوں آمادگی ظاہر کی۔
کیا چیف ایگزیکٹو سینئر قیادت کے زمرے میں نہیں آتے پیپلز پارٹی کے جو سینئر رہنما ایک با اختیار وزیراعظم سے وضاحت طلب کرنے کی بات کر رہے ہیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ سینئر رہنما سیلاب زدگان کی امداد میں تنہائی چاہتے ہیں، قوم تو بڑی خوش ہوگئی تھی کہ اپوزیشن اور حکومت سیلا ب کے معاملے پر ایک ہوگئی ہے اور ایک مشترکہ کمیشن بنا کر سیلاب زدگان کی امداد کو تیز اور فعال بناناچاہتی ہے آخر ایسی اچھی تجویز پر آمادگی ظاہر کرنے پراس قدر غصہ کیوں؟
وزیراعظم تو اپوزیشن لیڈر کے گھر بھی چلے جاتے ہیںاس پر تو کوئی رد عمل کبھی سامنے نہیں آیا، کہیں ایسا تو نہیں کہ سارا ثواب پیپلز پارٹی خود کمانا چاہتی ہے بہر صورت یہ کار خیر ہے اگر اس کے حصول میں میاں صاحب نے کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مشترکہ کمیشن بنانے کی تجویز دی اور ملک کے وزیراعظم نے نیک دلی سے قبول کرلی تو کونسا کفر ہو جاتا‘ اگر اس پر عمل بھی ہو جاتا۔ سیلاب میں بھی موجاں لٹیناں نیں تے فیر لُٹو!
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter