کرزئی کا حسن تابعداری دیکھئے کہ یہ تک کہہ ڈالا‘ امریکی فوج کے طویل قیام کیلئے مذاکرات کر رہے ہیں۔
کرزئی !جو مرضی ہے‘ کربھئی لیکن ایک نوشتہ دیوار نہ بھولنا کہ افغانستان کے کالے پہاڑوں نے کبھی سفید چمڑی کو رہنے نہیں دیا‘ ادھیڑا ہے‘ اور اب تو آپ بھی اس فہرست کے گل سرسبد ہیں۔ دیکھنا کہ اچکنے والے کیسے اچک کر غداروں کی اجتماعی قبر میں گنجائش پیدا کرتے ہیں۔ امریکہ اتنا کمزور تو ہو گیا ہے کہ اسے اپنے قیام کیلئے اب اپنی اس کٹھ پتلی کا سہارا لینا پڑا ہے جو پتلی گر کے دھاگے سے کٹنے والی ہے اور ذلتوں کی پاتال میں گرنے والی ہے۔ امریکی فوج تو اپنے مردے بجلی کے جھٹکے دے کر جلا رہی ہے بھلا اس سے مذاکرات کرینگے یا مدارات؟ کرزئی اگر یہ سمجھتے ہیں کہ بھاگتے ہوئے امریکی اسے ساتھ لے جائینگے تو وہ ان سے وہی سلوک کرینگے جو ہلاکو نے اس غدار سے کیا تھا جس نے شہر کی چابیاں اسکے حوالے کی تھیں۔بوسٹن میں ان کا افغان ریستوران انکے بغیر بھی چلتا رہے گا۔ افغانستان کے طالبان تورابورا کے پتھر بن چکے ہیں‘ ان کو توڑنا ممکن نہیں۔ کرزئی کیوں اپنی ٹوپی اور سبز کوٹ کی عزت بھی نہیں رہنے دے رہے؟
امریکہ ہنوز اپنی ناکامی کو چاٹنے کے باوجود افغانستان میں طویل قیام کی کیوں سوچے گا‘ کرزئی کو معلوم ہو چکا ہے کہ امریکہ غداروں کو بے یارو مددگار چھوڑ کر جانیوالا ہے اس لئے اب لاکھ مذاکرات کرلے‘ امریکہ یہاں طویل قیام نہیں کرنیوالا۔ کرزئی نے جو افغان ورغلا کر ڈالروں کی چمک دکھا کر ایک افغان فوج تیار کرلی ہے‘ وہی اسکی پیٹھ میں کچھ تو گھونپیں گے۔ کرزئی نے خود کو اس قابل ہی نہیں رہنے دیا کہ اس سے کہا جائے تاہم اقبال کا پیغام امریکہ سے مذاکرات کرنے سے پہلے سن لیں....
رومی بدلے‘ شامی بدلے‘ بدلا ہندوستان
تو بھی اے فرزندِ کہستاں اپنی خودی پہچان
٭....٭....٭....٭
آئی ایس پی آر نے وضاحت کی ہے‘ صدر سے آرمی چیف کی ٹیلی فونک گفتگو سے منسوب باتیں بے بنیاد ہیں‘ صرف ایک منٹ بات ہوئی ‘ وہ بھی تیمارداری یا مزاج پرسی کی حد تک۔
صدر سے آرمی چیف کی ایک منٹ دورانیے کی بات کو فسانہ گل و بلبل بنا دینا اور اجڑے چمن کی تفصیلی روداد بیان کرنے جیسی داستان بیان کرنے کی باتیں صرف باتیں ہیں‘ باتوں کا کیا اور ان میں گلاب تلاش کرنا ایسے ہے جیسے کوئی کوڑے کے ڈھیر پر گلدستہ تلاش کرے۔ صدر گرامی قدر اس صحت سے صحتمند ہو چکے ہیں جس کیلئے آرمی چیف کی صدر سے صرف 60 سیکنڈ بات ہوئی اور صحت کے بارے پوچھا‘ لیکن یار لوگوں نے اتنی مختصر بات کا بتنگڑ بنا کر 72 گھنٹے کی کہانی بنا دی۔ یہاں کہانی کاروں کی کمی نہیں۔ ایسے لوگوں کی مثال وہی ہے‘ ”جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا“ بھلا کبھی دل کی بات بھی سامنے آتی ہے اور وہ بھی بات کرتا ہے۔ صدر اور آرمی چیف کے دل تو اب ویسے بھی گونگے ہو چکے ہیں اس لئے کہ ماضی کی گویائی نے حال کا حال بھی چھین لیا اور یہ ایک منٹ کی بات تو فیصلہ کن تھی کہ....
فقط اک بات سے ہو گیا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو جو کہنے کو کچھ بھی تو بھلا کیا کہئے
کیانی صاحب نے زرداری کی بھرپور اطاعت کی‘ انہوں نے جواباً بھرپور ملامت کی‘ یہ اور بات ہے کہ ملامت زیر سماعت ہے‘ اس لئے....ع
ہم کچھ نہیں بولے گا‘
ہم بولے گا تو بولو گے کہ بولتا ہے
آرمی چیف ان دنوں نیٹو حملے اور میموگیٹ کے بارے پریشان ہیں‘ اس لئے ان کو زرداری صاحب سے ویسے بھی کسی ”رومانس کی ضرورت یا فرصت نہیں“۔ البتہ زرداری صاحب کہہ سکتے ہیں....
کانوں کیتی اساں نال بس وے
کوئی ”دوش“ اساں دا دس وے
٭....٭....٭....٭
ایوان میں امریکہ کا لفظ سنتے ہی ایسا لگا جیسے ایوان کو سانپ سونگھ گیا۔
ہمارے ایوان میں اور کچھ ہو نہ ہو‘ زوردار تقریریں‘ نعرے خوب فضا میں بلند ہوتے اور انکے جواب بھی دیئے جاتے ہیں۔ چودھری نثار علی خان تقریروں‘ نعروں کے چیمپئن ہیں‘ مگر ان کا بھی ایک نعرہ مستانہ ”امریکہ“ کا کوئی جواب نہ آیا۔ گویا کوئی حق میں تھا‘ نہ مخالف‘ مخالفت کی یہ قسم امریکہ کو ضرور سمجھ آگئی ہو گی اور ہمارا ایوان تو اب سمجھ ہی گیا ہے۔ یہ ایران کا ایوان ہے جہاں مرگ بر امریکہ کا نعرہ اتنی بار بلند ہوتا ہے کہ امریکہ بہت نیچے چلا جاتا ہے۔ ایوان میں امریکہ کا نعرہ لگا مگر پورے ایوان کو سانپ سونگھ نہیں بلکہ کاٹ گیا تھا۔ چودھری نثار علی خان سے بھی دیواریں کہتی رہیں....
کچھ تو کہیئے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالب غزل سرا نہ ہوا
بس ایک خاموشی تھی‘ گویائی کی سی‘ مگر لفظوں میں آنہ سکی کہ خوف بھی تھا اور نفرت بھی‘ اگر امریکہ ہمارے ایوان سے نکل گیا ہے تو باقی جگہوں سے بھی نکل جائے۔ کیا بے شرمی و ہٹ دھرمی کا ریکارڈ قائم کرنا ہے تو ہم مان گئے اور جان گئے اور کیا صلوٰاتیں سننا چاہتا ہے‘ جان چھوڑے اور اپنی راہ لے کہ جاگ اٹھا ہے سارا وطن۔ جس ایوان میں امریکہ زندہ باد کا نعرہ نہ لگ سکا‘ وہاں بھلا میمو کےخلاف کیا ہو گا؟ نائن الیون کے ڈرامہ نے امریکہ کو نفرین و مکروہ ترین کا درجہ دے دیا اور کلمہ گو تو اب شاید اسکی طرف نہ بڑھیں اور ظاہری کلمہ گو حضرات کو اب انکے حضور کوئی جھکنے نہ دےگا کہ....
زبان سے کہہ بھی دیا لاالٰہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ جو مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
ہم اس سانپ کے شکر گزار ہیں‘ جس نے ارکان کو سونگھ کر انہیں حسن کی خوشبو بھی بھلا دی۔