ہفتہ 10 ؍رمضان المبارک‘1431ھ‘21 ؍ اگست 2010ء

ـ 21 اگست ، 2010
صدر زرداری نے قوم کو پیغام دیا ہے کہ نماز جمعہ کے بعد اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعائیں مانگی جائیں۔
صدر زرداری نے مقدور بھر دوا کی اور اب دعا کا پیغام دیا ہے‘ جو کہ ایک اچھی بات ہے‘ اگر ہمارے حکمران اللہ کی طرف رجوع کرلیں تو انکی دوا اور مداوا بھی تیربہدف ثابت ہو۔ صدر صاحب کچھ بھی ہوں مگر اپنے رب کو یاد رکھتے ہیں‘ جس کا پوری قوم پر مثبت اثر پڑیگا۔ ہمارا دین ایک بہت بڑی طاقت ہے مگر ہم اس کا صحیح استعمال نہیں کر رہے۔ دعا بھی مانگتے ہیں اور بھیک بھی‘ اگر دین پر عمل کیا ہوتا تو یہ کرپشن نہ ہوتی اور آج ہم اتنے وسائل اور دولت کے حامل ہوتے کہ دوسروں کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ صدر صاحب نے نوٹ کیا ہو گا کہ ایک مقام پر لوگ ہاتھوں میں قرآن لے کر کھڑے ہو گئے اور سیلاب سے کہا‘ اپنا رخ بدل لو اور سیلاب نے فوراً رخ بدل لیا‘ لیکن یہ ایماندار لوگ ہونگے‘ جو قرآن کے معجزے میں یقین رکھتے تھے‘ کاش سب پاکستانی ایسے ہو جائیں۔
دعا میں بڑی قوت ہے اور اگر سچ پوچھیں تو اس ملک کو ہمیشہ دعائیں چلاتی رہی ہیں‘ حکمران ڈوبتے رہے ہیں‘ رمضان المبارک کا رحمتوں بھرا مہینہ ہے‘ ساری قوم اگر روزے کو اپنی زندگی کے معمولات پر بھی لاگو کرلے تو یہ ملک قائداعظم کا پاکستان بن سکتا ہے۔ اگر ہم ان آسمانی آفات کو بغور دیکھیں تو ان میں ہمارا ہاتھ بھی شامل ہے اور حکمرانوں سیاست دانوں کا تو پورا دھڑ شامل ہے۔ بہرصورت جیسا کہ صدر صاحب نے کہا ہے‘ اب وقتِ دعا ہے‘ اس لئے کہ دوا تو ہم لٹا بیٹھے۔
٭…٭…٭…٭
امریکی وزیر خارجہ ہلیری نے کہا ہے‘ پاکستانی سیاست دان نمبر بنانے کے بجائے متاثرین کی مدد کیلئے متحد ہو جائیں۔
ہمیشہ دشمن کو مقابل کے عیبوں کا زیادہ پتہ ہوتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ ہلیری نے ٹھیک ٹھیک نشاندہی کی ہے مگر وہ ایک جگہ ڈنڈی مار گئی ہے کہ سیاست دانوں کا نام لیا ہے‘ حکمرانوں کا ذکر نہیں کیا‘ یہ تو سگے اور سوتیلے والا برتائو ہے۔
ہمارے سیاست دانوں کے پاس بڑا دان ہے‘ اب وقت ہے کہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کریں اور ان غریبوں سے چندہ نہ مانگیں جو پہلے ہی خالی ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں۔ جہاں تک حکمرانوں کا تعلق ہے تو وہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہی عمل کرلیں اور اپنی دولت واپس لے آئیں تو فلڈ میں کافی ریلیف مل سکتا ہے۔ ہلیری یہ بھی تو سوچیں کہ امریکہ نے اب تک تقریباً ستر کروڑ ڈالر امداد کا اعلان تو کیا ہے مگر یہ امداد ابھی ڈوبنے والوں تک پہنچی نہیں‘ ہم اسکے سوا اپنے ’’یار‘‘ امریکہ سے کیا کہہ سکتے ہیں…؎
ترے وعدے پر جئے تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
٭…٭…٭…٭
مقبوضہ کشمیر میں یوم اسیران کے موقع پر بھارتی درندوں نے فائرنگ کرکے تین کشمیری شہید کر دیئے اور درجنوں زخمی کر ڈالے۔
کوئی ایک سیلاب ہو تو بند باندھا جائے‘ مقبوضہ کشمیر میں 63 برسوں سے جو خون کا سیلاب بہہ رہا ہے‘ کبھی ہم نے اور باقی دنیا نے اس پر بھی توجہ دی؟ کیا یہ انسانوں کی دنیا ہے‘ یا حیوانوں کی کہ بھارت زور زبردستی سے کشمیریوں کی ریاست پر قابض ہے اور جب وہ بھارتی درندوں کے اس ناجائز قبضے کیخلاف احتجاج کرتے ہیں تو انہیں گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے پاس وہ قراردادیں موجود ہیں‘ جن پر نہرو کے دستخط بھی موجود ہیں‘ وہ کیوں ان کا اچار ڈال کے بیٹھا ہوا ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو یو این اور اپنا نام یو ایس او رکھ لے تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ وہ انسانیت کا دمساز نہیں‘ امریکہ کا غلام ہے۔ کپتان جعفری نے کیا خوب کہا تھا‘ یو این او میں یو ایس اے کا یو ہے‘ باقی نو ہی نو‘ U.N.O
کیا اس بھری انسانی دنیا میں کوئی نہیں جو بھارت پر کشمیر کو آزاد کرنے کیلئے دبائو ڈالے‘ رہ گئی ہماری بات تو ہماری فوج کو امریکہ نے اپنے کام پر لگا رکھا ہے اور ہم بھارت کے شردھالوئوں کے آلوئوں سے مستفید ہو رہے ہیں اور امن آشا سے آشائیں لگائے بیٹھے ہیں۔ آج سیلاب سمیت ہم پر جتنی آفتیں ٹوٹ رہی ہیں‘ ان میں بھارتی ہاتھ ملوث ہے اور یہاں یہ عالم ہے کہ حکمران بھارت کو دشمن کہنے کے بھی روادار نہیں۔ وہ بھلا کشمیر کیلئے کیا کرینگے؟
من از بیگانگاں ہرگز ننالم
کہ بامن ہر چہ کرد آں آشنا کرد
(میں بیگانوں کا شکوہ نہیں کرتا کہ میرے ساتھ جو کچھ کیا اپنوں نے کیا)
٭…٭…٭…٭
وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے‘ متاثرہ علاقوں میں پانی کے ٹینک 48 گھنٹے میں پہنچنے چاہئیں اور انہوں نے حکام کو جواب دیا ہے کہ خود ان علاقوں میں گیا ہوں‘ آپ کیوں نہیں جا سکتے؟
وزیر اعلیٰ جہاں سیلاب زدگان کی اتنی امداد کر رہے ہیں‘ وہ حکام کے بھی ’’گوڈے گٹے‘‘ چیک کرالیں تاکہ وہ بھی سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچیں اور شہباز شریف کو سولوفلاٹ کا طعنہ نہ دیں۔ یہ تو انتہائی نیکی کا کام ہے‘ اس میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کے بجائے‘ پنجاب کے وزراء کو ازخود موقع پر پہنچنا چاہیے اور اس کام میں گورنر صاحب کو پیش پیش ہونا چاہیے۔ اب وقت ہے تیزی اور جلدی کا‘ یہ نہ ہو کہ تاتریاق از عراق آوردہ شود ماگزیدہ مردہ شود کے مصداق امداد اس وقت پہنچے‘ جب کوئی لینے والا خدانخواستہ باقی نہ رہے۔
سب سے اہم بات حکومت کے ذمہ یہ بھی ہے کہ وہ اس بات پر نظر رکھے کہ وہ جو مختلف کیمپ لگے ہوئے ہیں‘ وہ امداد سیلاب زدگان تک پہنچا بھی رہے ہیں یا نہیں؟ صاف پانی کے ٹینک کہیں جنگی ٹینک ثابت نہ ہوں اور انہیں جلد از جلد موقع ضرورت پر پہنچنا یقینی بنانا چاہیے۔ شہباز محو پرواز ہے اور بذات خود سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچ رہے ہیں‘ ہم انہیں اسکے سوا کیا شاباش دے سکتے ہیں…ع
ایں کار از تو آید مرداں چنیں کند
(یہ کام آپ ہی کر سکتے ہیں اور مرد ایسا ہی کرتے ہیں)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter