تازہ ترین:

ہفتہ 20 جون 2009 ء

ـ 19 جون ، 2009
وزیراعلیٰ نے پرائمری ٹیچرز کا بنیادی سکیل 9 ایلیمنٹری اساتذہ کا 14 کرنے کا اعلان کردیا، 5 سال پورا کرنے والے لیکچرار کو ریگولر کردیا گیا۔
اگرچہ وزیراعلیٰ نے حالیہ بجٹ میں تعلیم کیلئے مطلوبہ رقم میں کمی کی تاہم اساتذہ کے مسائل حل کرنے اور انہیں مطمئن کرنے کا اعلان تعلیم کے شعبہ میں مثبت کردار ادا کرے گا، پنجاب میں تعلیم عام کرنا ایک ایسا فریضہ ہے، جسے زبانی طور پر تو بہت بیان کیا گیا، لیکن عملاً اس مد میں حکومت پنجاب نے کوئی انقلابی اقدام نہیں کیا، ہمارے مسائل کی اکثریت کا سبب ناخواندگی ہے، صوبہ بھر کے دیہی علاقوں میں سکولوں کا جال بچھا دیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے تعلیم حاصل کرسکیں۔ اکثر غریب والدین اپنے بچوں کو لیبر پر لگا دیتے ہیں، جو کہ انتہائی ظلم ہے، حکومت والدین کے مسائل حل کرے تاکہ وہ اپنے ناخواندہ بچوں کو برضا و رغبت سکول بھیجیں، اس سلسلے میں مربوط منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، حکومت کا ماٹو ہونا چاہئے کہ کوئی بچہ غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہ سکے۔
٭٭٭٭٭
ہیلری کلنٹن نے کہا ہے: پاکستان کی تشویش مسترد کی جاتی ہے، بھارت سے سول نیوکلیئر سمجھوتہ پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔
ہیلری کے سٹائل سے لگتا ہے کہ وہ جیسے بش کابینہ کی فرد ہوں، پاکستان محض امریکہ کی خاطر اتنا کچھ کررہا ہے کہ پورا ملک جنگ کے شعلوں میں جل رہا ہے، لیکن پھر بھی انڈے کہیں اور کڑ کڑ کہیںکے مصداق امریکہ بھارت کی تائید و حمایت میں کافی آگے نکل جاتا ہے، ہیلری کلنٹن نے جب سے قلمدان وزارت سنبھالا ہے، کبھی مقبوضہ کشمیر کے بارے کوئی بیان تک نہیں دیا، بلکہ بھارت کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو اور مستحکم کرنے میں رطب اللسان ہیں، اوباما کوچاہئے کہ وہ اپنی خارجہ امور کی وزیر کو پاکستان کا رستہ بھی دکھائیں، اور یوں ستم ظریفی نہ کریں، بھارت، کھلم کھلا پاکستان سے دشمنی نبھا رہا ہے، اور بظاہر امریکہ والی منافقت بھی برت رہا ہے۔ یہ بات غلط نہیں کہ امریکہ اسرائیل بھارت کا پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ ہو چکا ہے، بھارت کے حق میں امریکن وزارت خارجہ کا جھکائو اور اُسے فائدہ پہنچانے کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے، پاکستان اپنی نہیں امریکہ کی جنگ لڑ رہا ہے، اسی لئے یہ صلہ مل رہا ہے۔
٭٭٭٭٭
پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے کہا ہے: ضرورت سے زیادہ طاقتور وزیراعظم نہیں چاہئے۔
فوزیہ وہاب فکر نہ کریں وزیراعظم اتنے بھی طاقتور نہیں وہ نرم و گداز شخصیت کے مالک ہیں، صدر بھی زیادہ اختیارات والا نہیں چاہئے، بہر صورت محترمہ چاہتی ہیں کہ صدر کے اختیارات کی بات نہ کی جائے اور وزیراعظم آگے بڑھنے کی کوشش نہ کریں، بالعموم پارلیمانی جمہوری معاشروں میںوزیراعظم زیادہ بااختیار ہوتا ہے اور صدر کو بطور کسٹوڈین اپنے دائرہ اختیار میں رہنا چاہئے۔ فوزیہ وہاب نے کہا کہ زرداری کسی آمر کی خوشامد کرکے صدر نہیں بنے، جب آمر موجود ہی نہ تھا تو ایسی صورت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ویسے قدرتی طور پر یہ ہو رہا ہے کہ صدر اور وزیراعظم میں طاقت کا توازن کچھ کچھ پیدا ہونے لگا ہے۔ اپوزیشن کی الزام تراشی سے بھی خوفزدہ نہ ہوں یہ تو بولتی ہے آپ کو اونچا اڑانے کے لئے۔
٭٭٭٭٭
منموہن سنگھ نے مقبوضہ کشمیر کی تمام جماعتوں اور گروپوں کو مذاکرات کی دعوت دے دی۔
شاید پھر سے گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے کا موسم آگیا ہے، اور موہن پیارے کو پھر سے دورہ پڑا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی تمام جماعتوں اور گروپوں کو مذاکرات کی دعوت دے ڈالی، شاید وہ یہ چاہتے ہوں کہ پاکستان کو سردست اس ایشو ہی سے نکال باہر کیا جائے۔ اور دنیا کو دکھا دیا جائے کہ وہ جن کے سروں پر سات لاکھ فوج بٹھا رکھی ہے، وہاں کے لوگوں کے ساتھ حکومت کو کسقدر دلچسپی و ہمدردی ہے، اور یہ مسئلہ پاکستان کا نہیں، حالانکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کا مدعا یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں سے رائے لی جائے کہ وہ آزاد ہو کر کس کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں، گویا فیصلہ کشمیری عوام نے کرنا ہے جو اسے نہیں کرنا چاہئے، بھارت اگر واقعی مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے تو استصواب کرائے، تاکہ کشمیری اپنی قسمت کا خود فیصلہ کریں، مگر ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کی دعوت، محض پراپیگنڈا ہے، اور دنیا بھر کو یہ یقین دلانا ہے کہ وہ کشمیریوں سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور ان کے لئے دل میں ہمدردی رکھتے ہیں، وہ کشمیر کشمیریوں کے حوالے نہیں کرے گا، محض ’’لارالپا‘‘ لگائے رکھے گا۔
٭٭٭٭٭
لاہور شہر کے مسائل یوں تو بہت ہیں، مگر ایک عذاب ناقابلِ برداشت ہے، کہ ٹھیکیدار کھدائیاں کرکے بھاگ جاتے ہیں، سڑکوں کی مرمت اس طرح کرتے ہیں کہ جیسے پھوڑے کو چھیڑ کر اُس کی مرہم پٹی نہ کی جائے، اس کے علاوہ سیوریج کے مسائل ہیں جن کے منہ مگر مچھ کی طرح کھلے ہیں، اور سب سے بڑا مسئلہ تجاوزات کا ہے، جو اصل بازار کو چھپائے ہوئے ہیں، بارہا انہیں ہٹانے کے باوجود یہ اگلے روز ہی اُگ آتی ہیں، اور صاف پتہ چلتا ہے کہ متعلقہ محکمے نے رشوت لے کر پھر سامان بھی واپس کردیا اور یوں پھر سے فٹ پاتھ غائب ہوگئے۔ شمالی لاہور سے شکایات کے انبار موصول ہو رہے ہیں، کہ ایک طرف سیوریج کھلا پڑا ہے تو دوسری طرف سڑک ٹوٹی ہوئی ہے، بعض سڑکوں پر پتھر ڈال کر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ پیدل چلنے کے لائق بھی نہیں رہیں، حکومت پنجاب شہر سے تجاوزات ہی ہٹا کر دکھا دے تو مانیں گے یہ نہ ہو کہ ایک دن تجاوزات اُٹھ جائیں اور دوسرے روز پھر وہیں موجود ہوں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter