جمعة المبارک‘ 25 صفر المظفر 1433ھ‘ 20 جنوری 2012
ـ 20 جنوری ، 2012
آئی جی سندھ کی خاطر پرواز میں تاخیر نہ کرنے پر پی آئی اے کے ڈپٹی منیجر کو انکے خاندان سمیت گرفتار کرکے تھانے میں بند کر دیا گیا اور ڈپٹی منیجر کے گھر کے تقدس کو بھی پولیس نے پامال کیا۔
اللہ جانے یہ عوام کی حکومت ہے یا یہ ملک پولیس سٹیٹ ہے؟ قانون اور ضوابط پر عمل کرانے والے آئی جی نے بروقت جانیوالی پی آئی اے کی پرواز میں تاخیر کرنے کا حکم دیا اور انکے پروٹوکول آفیسر نے پی آئی اے کے ڈپٹی منیجر کے گھر میں پولیس کی نفری داخل کرکے تھانے میں بند کردیا کہ اتنے میں کسی طرح منظور وسان جاگ اٹھے اور ڈپٹی منیجر پی آئی اے کو انکے خاندان سمیت رہا کراکر ایس ایچ او کو معطل کر دیا۔ وسان وزیر داخلہ سندھ ہیں‘ کیا ان کا حکم صرف ایس ایچ او پر چلتا ہے؟ آئی جی نے ”آئی جی“ نہیں کہا‘ ایک اچھی خبر پی آئی اے کے بارے میں سنی کہ سکھر کی پرواز بروقت چلی گئی لیکن وہ بھی شاید آئندہ سننے کو نہ ملے کیونکہ پی آئی اے کے ڈپٹی منیجر آئندہ ایسی غلطی نہیں کرینگے اور آئی جی غلطیاں کرتے رہیں گے کیونکہ وہ انسپکٹر جنرل پولیس سندھ ہیں۔ کیا وسان صاحب اس آئی جی سندھ کو اس حرکت پر نہیں پوچھیں گے اور پی آئی اے کے کسی ذمہ دار آفیسر کے گھر میں پولیس داخل ہونے پر کوئی کارروائی نہیں کرینگے یا آئی جی سندھ کو بھی استثنیٰ حاصل ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ سکھر جانے کیلئے طیارے کو اپنے آنے تک روکے رکھیں۔
اگر حکمران کسی ضابطے کے پابند ہوتے تو یوں نہ ہوتا‘ جیسے استاد نے شاگرد سے کہا‘ ”تمہارا یہ سارا مضمون غلط ہے۔ میں تمہارے والد سے شکایت کرونگا۔ شاگرد نے کہا‘ سر یہ مضمون میرے والد صاحب ہی نے لکھا ہے۔“ جب اوپر غلطی ہوگی تو نیچے بھی یہی کچھ ہو گا۔
٭....٭....٭....٭
بیرسٹر فروغ نسیم کہتے ہیں: حکومت کو عدلیہ کے حکم پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔
حکومت کی طبیعت اس لئے بھی خراب ہوئی کہ....
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
سپریم کورٹ نے جو فیصلے دیئے‘ اگر ان پر عمل کرلیا جاتا اور تاخیری حربے اختیار نہ کئے جاتے تو آج پیپلز پارٹی کا سپریم کورٹ میں بار بار اتنا جمگھٹا نہ ہوتا۔ بابر صاحب تو اپنے بندر کو لے کر اللہ پر تکیہ کر چکے ہیں اور عدالت کا رخ نہیں کرتے۔ جتنا ان دنوں سپریم کورٹ اور پیپلز پارٹی کے درمیان خاصا گہرا رومانس چل رہا ہے اور عوام کے سروں پر لوڈشیڈنگ کا بانس چل رہا ہے‘ پیپلز پارٹی خاصی خوش قسمت ہے کہ چار سال امریکہ کی جنگ اور عدالتی جنگ میں گزر گئے۔ رہ گئی گورننس تو اسے ان کو گڈ بنانے کا موقع ہی نہیں مل رہا اور شاید وہ اسے گڈ گورننس میں بدلنا بھی نہیں چاہتی کہ اس طرح اسکی گھریلو گورننس خراب ہوتی ہے۔ بہرحال حکمرانوں نے گورننس خراب تو کیا کی کہ خود بھی خراب ہو گئے اور شاید اب وہ نئے مینابازار میں کھرے ثابت ہونگے یا کھوٹے۔ یہ معاملہ یا ”کھوتا کھوہ“ میں گر گیا اگر ذرا سا بھی اعتدال سے کام لیا جاتا اور دھرتی قلعی کراکے ساری رات نہ ناچتے تو آج انکے گوڈے گٹے درست ہوتے۔ آئندہ انتخابات میں جن لوگوں نے کبھی پی پی سے پینگ ڈالی تھی‘ وہ اب کسی پنگھوڑے میں ہی جھولے لیں گے۔ جو مضمون پیپلز پارٹی نے رقم کیا ہے‘ وہ اتنا مختصر ہے کہ جیسے ایک استاد نے ایک بچے سے کہا‘ سب نے دو صفحوں کا مضمون دودھ پر لکھا ہے‘ اور تم نے دو سطروں یعنی استثنیٰ اور توہین عدالت پر ہی ختم کر لیا‘ کیوں؟ بچے نے جواب دیا‘ ’جناب میں نے خالص دودھ پر مضمون لکھا ہے۔
٭....٭....٭....٭
حالات کی نزاکت دیکھتے ہوئے مسلم لیگ (ن) میدان میں اتر آئے جبکہ مسلم لیگ فنکشنل کے صوبائی صدر احمد محمود نے کہا ہے: تمام مسلم لیگیں اکٹھی ہو جائیں تو کوئی ان کو الیکشن میں نہیں ہرا سکتا۔
حالات کی نزاکت کا مطلب ہے کہ موقع ہے‘ چوتاﺅٹنے کا‘ تیل ملنے کا‘ کسرت کرنے کا اور داﺅ پیچ کی مشق کرنے کا۔ میاں صاحب وڈے اب تو باقاعدہ پہلوان لگتے ہیں۔ حریف پہلوانوں نے ایسی کسرت کی ہے کہ انکے تو گوڈے گٹے بیٹھ گئے ہیں اور لوگ باگ اس انتظار میں ہیں کہ انکی استثنیٰ توہین عدالت والے پہلوانوں سے کشتی لڑنا اب انکا بھی حق ہے گاس لئے وہ بھی ووٹنگ بوتھوں پر اپنے داﺅ پیچ دکھائیں گے اور اب تو ووٹر بھی سارے کھرے ہونگے۔ بوگس کا گزر نہ ہو گا اس لئے پھجے کو آرڈر دیں اور امرتسری ہریسے والے کو بھی کہ ذرا معیار اور اونچا کر دیں۔ چودھری نثار علی اور اسحاق ڈار کو سردائی تیار کرنے پر لگا دیں‘ رہ گیا سونامی اور پی پی اپنے لگڑبگوں سمیت تو لگتا ہے کہ سوئی جاتی عمرہ پر ٹک گئی ہے۔
پیپلز پارٹی کے پاس مہمان اداکار چودھری شجاعت حسین کو بھی جپھی مار کر اپنے اکھاڑے تک لایا جا سکتا ہے۔ دوسری جتنی مسلم لیگیں ہیں‘ ان کو بھی تزک و احتشام سے دعوت نہیں بلکہ ریڑھے پر لاد کر لایا جائے کہ آﺅ ہم سب ایک تھے‘ ایک رہیں گے اور قائد کے پاکستان کی تعمیر کیلئے قائد ایک اور نیک مسلم لیگ بنا کر رہیں گے۔ سیاست دوراں کی قسم اگر میاں نواز شریف اس سنہری وقت‘ موقع اور دستور سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو یہ لیگی قاشیں مل کر لیگی خربوہ بن سکتی ہیں۔ پی پی نے مئے دانش پی پی کر خود کو زیادہ عقل مندی کی بنیاد پر آج بھی اور کل کیلئے بھی کارآمد بنا لیا ہے۔ ہاں تو رہ گئی مشرف کی مسلم لیگ‘ اسکے ساتھی چھوڑ رہے ہیں یا پاکستان سے دور رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اسکی فکر نہ کریں۔
٭....٭....٭....٭
بابر اعوان نے کہا ہے‘ قوم جانتی ہے‘ شریف برادران مقدر کے سکندر ہیں‘ سپریم کورٹ سے ایک اور مقدمہ جیتنے پر مبارکباد دیتا ہوں۔
ہم تو کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون حاضر ہے‘ پھر سے اپنی سابقہ ڈیوٹی جوائن کرلیں اور بھر بھر مشکاں پانے کا مقدس فریضہ انجام دیں اور اب کبھی سپریم کورٹ کا رخ نہ کریں کہ وہاں اب ڈگڈگی بجاﺅ بھی تو وہی غالب کا حال ہوتا ہے۔ ”پہ تماشا نہ ہوا“۔ شریف برادران کو مقدر کا سکندر مان کر انہوں نے مبارکباد دیدی ہے اس سے اچھے نتائج برآمد ہونگے۔ ویسے بابر اعوان نے ہماری ایک نہ مانی وگرنہ وہ بھی سکندرنہ سہی‘ نام کے تو ظہیرالدین بابر رہتے۔ اب تو وہ بے نام ہو گئے ہیں‘ بدنام ہم کہتے نہیں کہ یہ اچھا لفظ نہیں‘ خود بابر صاحب بھی بڑی اعلیٰ زبان بولتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں