گورنر پنجاب کی ”خوشنوائی“ ملاحظہ ہو‘ میمو کو جوتی کی نوک پر رکھ کر ہوا میں اڑا دینگے۔
گویا گورنر صاحب بھی وہی کام کرینگے جو حقانی اور منصور اعجاز نے کیا کہ میمو کو ہوا میں اڑا کر پوری دنیا میں عام کر دیا۔ اب ایک سنہری پنجرے میں بند ہے‘ دوسرا امریکہ کے کموڈ میں ڈبکیاں مارتا اور امریکن کہلاتا پھرتا ہے۔
لطیف کھوسہ کے بارے میں فارسی مثال ان کا پیرہن بنائی جا سکتی ہے کہ برعکس نام زندگی نہند کافور (الٹا حبشی کا نام کافور رکھ دیا) میمو اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی اور محترم عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس کو جوتی کی نوک پر رکھنا میمو کے کسی خوفناک آرٹیکل تک پہنچنے سے پہلے عدالت عظمٰی کی بے حرمتی بھی ہے‘ گویا سپریم کورٹ جس میمو کی اس قدر تندہی سے Hearing کر رہی ہے‘ وہ ایک حقیر کاغذ کا پرزہ ہے؟
جو گورنر کے جوتے کی نوک پر ہے۔ ان کا جوتا کسی موچی نے بنایا ہے یا احمدمختار نے کفش دوزی کی ہے۔چھوٹا منہ بڑی بات تو سنا تھا بڑا منہ چھوٹی بات کبھی نہیں سنا تھا....
منہ اس کا اتنا خوب نہیں میر باز آ
نادان پھر اس کو منہ بھی لگایا نہ جائے گا
اتنا بڑا گورنر ہاﺅس اور اتنا چھوٹا سا گورنر‘ گورنر ہاﺅس تو سائیں سائیں کرتا ہو گا۔ میمو کو جوتے کی نوک پر رکھنے کے بجائے اگر وہ امریکہ کی غلامی کو جوتے کی نیت بنا لیتے تو یہ گورنر ہاﺅس خواتین یونیورسٹی بن جاتا اور لطیف کھوسہ کو پنجاب کی خواتین اچھے لفظوں میں یاد کرتیں اور یہ کارنامہ وہ 2013ءسے پہلے ہی کر ڈالیں۔
٭....٭....٭....٭
مشرف کہتے ہیں‘ باہر بیٹھا ملکی تباہی کا تماشا نہیں دیکھ سکتا‘ اسکے ساتھ ہی انہوں نے آئندہ ماہ وطن واپسی کا اعلان کر دیا۔
جس نے پونے نو سال ملک کے اندر سیریر آرائے اقتدار ہو کر ملک تباہ کرنے کا تماشا دیکھا‘ وہ اب اوروں کو بھی تو تباہی کا حق دے اور یہ تکلف نہ کرے کہ باہر بیٹھا ملک کی تباہی کا تماشا نہیں دیکھ سکتا۔ بے شک وہ باہر کسی بندر کا تماشا دیکھ لیں‘ یا پھر خود اپنے گریبان میں دیکھ کر ملکی تباہی دیکھنے کا شوق پورا کرلیں۔
البتہ یہ جو ان کا آئندہ ماہ وطن واپسی کا اعلان ہے‘ تو اگر وہ زرداری صاحب سے مشورہ کرلیتے تو لگے ہاتھوں وہ ان کو بھی اپنے خصوصی جہاز میں لیتے آتے۔
بس اتنی سی تکلیف کرنا تھی کہ مشرف صاحب دوبئی آجاتے‘ راستے میں دونوں جب موروثی قسم کی گفتگو کرتے تو کتنا لطف آتا اور وہ کلیاں جو مشرف انکے حوالے کر گئے تھے‘ زرداری انہیں بتلائیں گے کہ کتنے ناز سے انہیں پھول بنایا گیا اور اب تو انکے گرد کانٹوں کا حصار بھی کھڑا ہو گیا ہے۔ مشرف کانٹوں سے بچ نکلنے اور کلیوں میں پھنسنے کے اتنے ماہر ہیں کہ میمو کے بارے میں انہیں ہی مفید مشورے دے دینگے اور اس بات کا عین امکان ہے کہ مشرف کی طبعی شرافت اور زرداری کا مال و زر مل کر کچھ ایسا رنگ لے آئے کہ یار لوگوں کو یاد آجائے....
رنگ پیراہن کا خوشبو زلف لہرانے کا نام
موسم گل ہے‘ تیرے وطن میں آنے کا نام
٭....٭....٭....٭
تین متاثرین نے سکھ مذہبی قیادت کو درخواست دی ہے کہ 1984ءکو سکھوں کے قتل عام میں ملوث امیتابھ بچن بھی ملوث تھے۔
یہ تین سکھ متاثرین 1984ءاس لحاظ سے قابل قدر ہیں کہ انہوں نے نہایت دیانت کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ 1984ءمیں سکھوں کا جو قتل عام‘ قتالہ ہند نے کرایا تھا‘ اس میں امیتابھ بچن بھی شامل تھے۔
اس سے یہ تو معلوم ہوا کہ وہ ایکٹر بعد میں اور قاتل پہلے ہیں اور سکھوں کو بھی اس تاریخی حقیقت سے سبق سیکھنا چاہیے کہ اگر 1947ءمیں وہ ہندو کی چال کا شکار نہ ہوتے تو جو لاکھوں انسان تقسیم ہند کے دوران شہید ہوئے‘ ان میں سے آج تقریباً اکثر زندہ ہوتے اور اپنی کوششوں کے پھل کو انجوائے کرتے اور آج مسلمان سکھ مل کر بھارت کو فکس اپ کرتے مگر ہمارے سکھ دوست نہ جانے کیوں اتنے بھولے بن جاتے ہیں کہ بنیا جو مسلمانوں سے بڑھ کر ان کا دشمن ہے اور گولڈن ٹیمپل کو جس طرح خون میں نہلایا گیا اور سکھوں کا خون اس بے دردی سے بہایا گیا کہ اس بے دردی سے تو کسی نے کبھی گھر کا گندا پانی بھی نہیں بہایا۔
سکھ جو گرونانک جیسی ہستی کے پیروکار اور میاں میر جیسے مسلمان صوفی کے عقیدت مند ہیں‘ تو ان کا قارورہ کیسے ہندوﺅں سے مل سکتا ہے؟ امیتابھ بچن بنیادی طور پر لتا منگیشکر کی طرح ایک متعصب ہندو ہے اور لتا ہی کی طرح باوجود کئی دفعہ بلانے پر بھی پاکستان نہیں آیا۔
اسی طرح وہ بھارت کی سرزمین پر سکھوں کے وجود کو برداشت نہیں کر سکتا۔ سکھ بہادر ہیں‘ جو کام انکی کرپان کر سکتی ہے‘ وہ ہندو کی چالاکی نہیں کر سکتی۔ اس لئے اب جبکہ اصل بات سامنے آگئی ہے تو سکھ خالصتان بنانے میں دیر نہ کریں اور یہ کہتے رہیں....
گڈی آئی گڈی آئی نارووال دی
”ہندوواں“ دے سینے اتے آگ بال دی
٭....٭....٭....٭