ایک تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پارٹی رہنمائوں سے خطاب کر رہے ہیں اور سٹیج پر بالترتیب چودھری نثار علی خان‘ میاں شہباز شریف‘ غوث علی شاہ اور راجہ ظفرالحق بیٹھے ہیں۔
اگر قومی جماعت مسلم لیگ (ن) کی یہی ترتیب رہی کہ سٹیج پر پانچ پنجابی اور ایک سندھی رہنماء تشریف فرما ہیں اور وہ سندھی رہنماء بھی نظر انداز کئے جا رہے ہیں کیونکہ (ن) کی سیلابی کمیٹی میں سندھ سے بھی غوث علی شاہ غائب ہیں۔ پہلے ان سے صدارت چھینی گئی تھی‘ اب کمیٹی کی رکنیت کے قابل بھی نہیں سمجھا‘ اللہ انہیں جاوید ہاشمی کے حشر سے بچائے۔ مسلم لیگ نون ملک کی ایک بڑی قومی سیاسی پارٹی ہے‘ اس کو پورے ملک کی نمائندگی کرنا ہے‘ اگر پانچ رہنمائوں میں سے ایک سندھی اور باقی پنجابی ہیں تو اس سے سندھ کو اور دوسرے صوبوں کو کیا پیغام جائیگا؟ اس لئے آپ ہی اپنی ادائوں پر ذرا غور کریں اور پارٹی کو پورے ملک کی ایک نمائندہ جماعت بنائیں تاکہ نظریہ پاکستان کے مقاصد عملاً پورے ہوں جوکہ مسلم لیگ (ن) کے منشور کا حصہ ہے۔
میاں نواز شریف نے سیاست کی ساری وادیاں دیکھ لی ہیں‘ خدا جانے انکی ژرف نگاہی سے یہ نکتہ کیسے نکل گیا؟ بہرحال اب بھی وقت ہے کہ یہ تاثر نہ پیدا ہونے دیا جائے کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب کو زیادہ ترجیح دیتی ہے کیونکہ یہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ہے‘ پنجاب مسلم لیگ (ن) نہیں‘ میاں نواز شریف ہماری بات کو پہلے ہی سے مانتے ہونگے‘ اس لئے ہم اس غلطی کو غیرارادی صرفِ نظر کے زمرے میں شمار کرتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
فیصل آباد میں سول ہسپتال کے عملہ نے تین ہزار روپے کی خاطر بچہ بدل دیا‘ ایم ایس نے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی ہدایت کر دی۔ بیٹی‘ بیٹے کی جگہ رکھ دی گئی اور بیٹا‘ بیٹی کی جگہ۔
اگر ہسپتالوں کے عملے کا یہی حال رہا تو لوگ پھر سے پرانے سسٹم پر آجائیں گے اور گھر دائی بلا کر کیس کرالیا کرینگے۔ عملے کے جن افراد نے یہ کام کیا ہے‘ ان کو ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد قرار واقعی سزا دی جائے۔ بالخصوص سرکاری ہسپتالوں کا نظام بہت خراب ہو چکا ہے‘ جن ہسپتالوں میں بچے بدلے جاتے ہیں‘ وہاں عملہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ جس ملک میں تین ہزار کے عوض بچہ بدلا جا سکتا ہے‘ وہاں تین لاکھ کے بدلے کیا نہیں بدلا جا سکتا۔
پہلے اس بات کی دھوم تھی کہ غلط ٹیکہ لگانے یا تاخیر سے طبی امداد پہنچانے سے مریض جاں بحق ہو گیا‘ اب یہ کسر باقی تھی کہ بچے بھی بدلے جانے لگے۔ اگر کرپشن ہماری رگوں میں دوڑنے لگی ہے‘ تو خون کہاں دوڑتا ہے؟ اگر ہم اپنے کالموں میں سیاسی فلسفے اور ادق موضوعات کے ذریعے اپنا علمی مظاہرہ کرنے کے بجائے کرپشن کی ہر قسم کیخلاف سیدھے سادے انداز میں قوم کی تربیت کریں اور اگر منبرِ رسول کا قوم کی اصلاح اور خوف خدا دلانے کیلئے استعمال کیا جائے تو بگڑے ہوئے معاشرے کی اصلاح ہو سکتی ہے۔
ڈیرہ مراد جمالی میں شہریوں کے قرآن شریف دکھانے پر پانی نے رخ تبدیل کرلیا۔
اللہ کی کتاب میں اتنا اثر ہے کہ وہ سیلابی ریلے کا رخ موڑ سکتا ہے‘ اگر اسکے مطالب و مفاہیم کو ایمانی قوت کے ساتھ اختیار کیا جائے تو 57 اسلامی ملکوں کا قبلہ راست ہو سکتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ معجزے پیغمبر دکھایا کرتے تھے‘ اب وہ زمانہ ہے کہ قرآن نے خود پیغمبر کا کردار ادا کیا۔ اگر ہم صدق دل سے قرآن کو سمجھیں اور عمل کریں تو قرآنی معجزوں کی برسات ہو جائے‘ اسی لئے تو کہا گیا ہے…؎
گر تو میخوا ہی مسلمان زیستن
نیست ممکن جز بقران زیستن
(اگر تم چاہتے ہو کہ مسلمان ہو کر جیو‘ تو ایسا ہونا قرآن کو ترک کرکے زندہ رہنے سے ممکن نہیں)
عینی شاہدین کے مطابق سندھ سے آنیوالے ریلے نے کیسرتھر کینال میں شگاف ڈالا تو اوستہ محمد کے شہری قرآن حکیم اٹھا کر خانپور پل پر آئے اور پانی کو قرآن کا واسطہ دیا تو دیکھتے ہی دیکھتے پانی نے اپنا رخ بدل لیا۔ اسی طرح حضرت عمرؓ کے عہد میں مصر کے لوگوں نے دریائے نیل کی شکایت کی کہ وہ ہر سال آبادیوں کا رخ کرلیتا ہے‘ حضرت عمرؓ نے دریائے نیل کے نام خط لکھ کر اس میں ڈالنے کا حکم دیا‘ اسکے بعد کبھی نیل نے شہروں کا رخ نہیں کیا۔ اگر ایمان کامل ہو تو پھر…ع
گفتہ او گفتہ اللہ بود گرچہ از حلقوم عبداللہ بود
(اس کا کہا اللہ کا کہا ہوتا ہے‘ اگرچہ بظاہر وہ اللہ کے بندے کی زبان سے ادا ہوتا ہے)
٭…٭…٭…٭
قائمہ کمیٹی کا شہباز ایئربیس متاثرین سیلاب کیلئے استعمال نہ کرنے پر اظہار تشویش‘ سیکرٹری صحت نے کہا ہے‘ بیس امریکی فوج کے پاس ہے‘ اسکی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کر سکتے۔
شہباز ایئربیس پاکستان کا ہے‘ جہاں سے ڈرون حملے تو ہو سکتے ہیں‘ مگر سیلاب زدگان کو اس مشکل گھڑی میں امداد نہیں پہنچائی جا سکتی۔ امریکہ کے دو منہ ہیں‘ جن میں ایک سے وہ منافقت اگلتا ہے اور دوسرے سے ہمدردی اور یہ ہمدردی بھی مخصوص مقاصد کیلئے ہے۔ سیکرٹری صحت بے چارہ کیا کرے‘ جب پورا سیکرٹیریٹ کچھ نہ کر سکے‘ امریکہ کے سامنے یہ عاجزی اور انکساری کیا ہمیں سیلاب سے بچا لے گی؟ حیرت ہے کہ ہم اپنا ہی ایئربیس اپنے لئے استعمال نہیں کر سکتے‘ کیا یہ امریکہ کا جزوی قبضہ نہیں؟
قائمہ کمیٹی برائے صحت نے سندھ میں سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے جیکب آباد کے شہباز ایئربیس کو استعمال نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہباز ایئربیس پر امریکی قبضے کے باعث متاثرین کو مدد نہیں پہنچائی جا سکتی‘ ان متاثرین میں 5 لاکھ 46 ہزار خواتین اور پانچ سال عمر تک کے دو لاکھ 72 ہزار بچے شامل ہیں‘ قائمہ کمیٹی قائم ہو کر شہباز ایئربیس کھلوائے‘ اگر ہم اپنے ہی ملک میں اتنے بے بس ہیں تو پھر ہمیں بھارت کے آلو بھی قبول کرنے پڑیں گے ۔