تازہ ترین:

پیر ‘29 ؍ شوال ا لمکرم 1430 ھ‘ 19 ؍ اکتوبر 2009ء

ـ 19 اکتوبر ، 2009
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک کی جامعات نظریاتی جنگ کی اساس ہیں آئندہ پانچ برسوں میں تعلیمی بجٹ کو قومی پیداوار کے سات فی صد تک بڑھایا جائے گا اور اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں 20 فی صد تک اضافہ کیا جائے گا۔
ہمارے ملک میں جس شعبے کو یتیم بنایا گیا اور جن تعلیمی اداروں کو یتیم خانہ، یہ اسی کا ثمر ہے کہ آج ہم محتاج ہیں۔ تعلیم اگر عام کی گئی ہوتی اور ملک کے چپے چپے پر یونیورسٹیاں قائم کی جاتیں۔ آج کے سنگین حالات میں صدر پاکستان آصف علی زرداری کا تعلیم کے شعبے کی بابت انتہائی اہم اعلان کرنا غنیمت ہے۔ ان سے پہلے ساٹھ برس تک اس ملک میں اسی طرح کے دعوے کئے جاتے رہے مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے دو پات۔ ہمیں بجا طور پر یہ امید ہے کہ صدر تعلیم کے شعبے میں اپنے کہے کو عملی جامہ بھی پہنائیں گے۔ انہوں نے اپنے تفصیلی اعلان میں اعلیٰ تعلیم کو 20 فی صد تک اضافہ دینے کا کہہ کر ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔
٭…٭…٭…٭
امریکہ کے صدر اوباما ایک عوامی اجتماع کے دوران ایک 9 سالہ بچے کے سوال پر ششدر رہ گئے۔ اس نے کہا کہ لوگ آپ سے نفرت کیوں کرتے ہیں۔ صدر اوباما نے جواب میں کہا کہ منتخب صدر ہوں جس نفرت کی بات تم کرتے وہ محض سیاست ہے۔
لگتا ہے کہ امریکہ کا 9 سالہ بچہ اگر یہی بات پنجابی میں کہتا تو یوں ہوتا کہ کالا شاہ کالا میرا کالا اے صدر تے گوریاں نوں پراں کرو۔ امریکی بچے نے تو غیر سیاسی طور پر کہا تھا صدر صاحب لوگ آپ سے نفرت کیوں کرتے ہیں البتہ صدر نے اس کا جواب سیاسی دیا۔ جان چھڑانے کی یہ کوشش قابل ستائش ہے۔ امریکہ میں جس سے لوگ دوستی کرتے تھے آج وہ اسے دشنام دیتے ہیں اور یہ بڑی کمائی امریکہ کے لئے بش فیملی سے لے کر اوباما تک نے کی ہے۔ آج دنیا میں 9 سالہ بچہ بھی آگاہ ہے کہ لوگ ہمارے صدر سے نفرت کرتے ہیں۔ ظاہر ہے اس کو اس کی وجہ کا بھی پتہ ہو گا۔ امریکہ نے علم کے زور پر جو خیر سگالیاں سمیٹی تھیں وہ بارود کے دھوئیں میں اڑا دیں۔
٭…٭…٭…٭
کوٹ لکھپت جیل کے قیدیوں نے ناقص کھانا ملنے پر بھوک ہڑتال کی اور کہا کہ رشوت دینے والے قیدیوں سے رعایت برتی جاتی ہے اور پیسے نہ دینے والوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ سپرننٹنڈنٹ ، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اور جیل فیکٹری کے چیف کو تبدیل کیا جائے۔
سلاخوں کے اسیر، زلفوں کے اسیر نہیں ہوتے جو چوپڑیاں کھاتے اور وہ بھی دو دو، پاکستان میں جہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے وہاں جیلوں کا بھی حال بُرا ہے۔ ہمیں یہ نہیں سمجھ آتی کہ ہمارے ہاں جس کو وردی پہنا دو اس نے گویا بے دردی اُڑھ لی۔ وردی ایک اتھارٹی ہے جسے ناجائز کاموں کے لئے لائسنس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جیلوں میں بھتہ چلتا ہے، منشیات فراہم کی جاتی ہیں اور اس طرح مجرموں کو مزید مجرم بنا دیا جاتا ہے تاکہ مجرم ایک دفعہ پھر جرم کی دنیا میں چلا جائے۔ بعض اوقات یوں لگتا ہے کہ جیلیں آزاد ہیں اور شہر پا بہ زنجیر۔ صدر پاکستان جہاں اور اچھے اچھے کام کر رہے ہیں جیلوں کی طرف بھی توجہ دیں کیونکہ ان کا اپنا آٹھ سالہ جیل میں رہنے کا تجربہ ہے۔
٭…٭…٭…٭
اسرائیل نے اپنے شہریوں کو بھارت میں سفر کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ ہدایات سیکورٹی خدشات کے باعث جاری کر دی ہیں۔ اسرائیل میں انسداد دہشت گردی کے ادارے نے کہا ہے کہ بھارت میں اسرائیلی شہریوں پر حملے کا خدشہ ہے۔
اسرائیلی جواب دیں کہ آخر ان کو کیوں خطرہ ہے۔ آج یہ جو دنیا میں خونی کی ہولی برپا ہے کیا اس کے پیچھے صیہونیت کارفرما نہیں؟ کیا اس سے بڑی دھاندلی کوئی ہو سکتی ہے کہ کوئی کسی سے اس کا گھر چھین کر اپنا بنا لے۔ فلسطین اسرائیل سمیت ایک ریاست تھی انکل سام نے بڑی عیاری اور چالاکی سے اپنے اسرائیلی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے فلسطین کو کاٹ کر اس میں سے سیزیرین حرامی بچہ نکالا اور اسے اس طرح سے محفوظ رکھا پالا پاسو کہ جیسے ماں اپنے بچے کی رکھشا کرتی ہے ۔ فلسطین میں اسرائیل کے مظالم کا بڑا سایہ مقبوضہ کشمیر پر بھی پڑا ہے بلکہ یوں سمجھئے کہ بھارتی نیتاؤں نے مقبوضہ کشمیر کو بھی اسرائیل بنا دیا ہے۔ یہودیوں کی مقدس کتاب میں لکھا ہے کہ وہ کبھی ریاست نہیں بنائیں گے اور دنیا میں بکھر کر رہیں گے۔
٭…٭…٭…٭
وزیر خزانہ شوکت ترین نے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ پاکستان پر غیر ملکی قرضوں کا حجم 54 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
دھیان رکھا جائے کہ کہیں شوکت ترین شوکت عزیز نہ بن جائیں کیونکہ وہ بھی جب انٹرویو دیا کرتے تھے تو خود بھی باغ باغ ہوتے تھے اور قوم کو سبز باغ دکھاتے دکھاتے آج اپنے یار کے ہمراہ نیویارک کے پُرآسائش فلیٹ میں آسودہ ہیں۔ ویسے شوکت ترین بہترین آدمی ہیں۔ ان سے توقع ہے کہ وہ کم از کم اتنا تو کریں کہ امریکہ کو خوش کرنے کے لئے جو خطیر رقم ضائع کی جا رہی ہے۔ اس کا سلسلہ بند کریں اور کوئی چارہ کریں کہ پاکستان 54 ارب ڈالر کے قرضوں سے نجات حاصل کر لے۔ آج پاکستان کو اپنی معیشت کے لئے دولت کی ضرورت ہے اور یہ دولت ہمیں امریکہ کا ساتھ دے کر حاصل نہیں ہو گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے ملکی وسائل بالخصوص صنعت اور زرعی شعبے پر توجہ دے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter