وکالتی لائسنس معطل ہونے پر بابر اعوان نے کہا ”واللہ خیرالرازقین“
اب کی بار تو بابر کو یہ شعر پڑھنا چاہیے تھا....
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
بابر اعوان رزق تو تب بھی آپ کو ملتا تھا‘ جب جلسوں میں پانی پلاتے تھے‘ جعلی ڈاکٹر بننے کے باوجود آپ کا رزق بند نہیں ہوا۔ کیا آپ کا رزق وکالتی لائسنس کےساتھ مشروط ہے؟ اللہ تعالیٰ تو کفار کا رزق بھی بند نہیں کرتا‘ لیکن انہیں نافرمانی پر دھتکار کر جہنم میں پھینک دیا جاتا ہے لیکن ”باربر“ کی گردن میں جو سریا لگا ہوا تھا‘ کل اسے توڑ دیا گیا۔ مبارک ہو پیپلز پارٹی والوں کو‘ بھٹو کیس بچ گیا ہے ورنہ بابر اسے کھوہ کھاتے لگانے پر تلا ہوا تھا۔ عدلیہ کے نوٹس سے ”ککھ“ تو نہیں ہلا لیکن جعلی ڈاکٹر ہل گیا ہے۔ کالاکوٹ اتر گیا اب تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال سے ”ڈاکٹریٹ“ کا ”پوشل“ بھی اتر جائے۔ اب لنڈورا ماہی کیسا لگے گا۔ ٹوئٹر پر عنقریب وہ یہ شعر کہنے والے ہیں....
کج انج وی راہواں اوکھیاں سن
کج گل وچ ”غرور“ دا طوق وی سی
کج ”پی پی“ دے لوگ وی ظالم سن
کج سانوں مرن دا شوق وی سی
اب دربار بری امامؒ حاضری دیں‘ یا رائیونڈ تبلیغی جماعت کیساتھ چلہ لگائیں‘ اب کی بار جو دھبہ لگ گیا ہے‘ یہ تیزاب سے ہی صاف ہو گا۔ بابر نے اب بھی معطلی پر ایوان صدر کی طرف دیکھا لیکن خیر نہ ڈلنے پر پھر خدا کی طرف دیکھا۔ ایسے نام نہاد مذہبی سکالرز پر واری جانا واں۔
٭....٭....٭....٭
بھارت کو شراب کی ایکسپورٹ کی خبر پر جے یو آئی (ف) کا سینٹ میں احتجاج۔
پیپلز پارٹی نے ام الخبائث میں ملک کو خودکفیل کر دیا ہے‘ امین فہیم نے اس مقصد کیلئے بھارت سے تجارت کا آغاز کیا تھا‘ زرداری اینڈ کمپنی دنیا کو کیا تاثر دینا چاہتی ہے‘ زرداری صاحب ایسی تجارت پر لعنت بھیجیں۔ یہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں‘ ہم بت شکن ہیں‘ بت فروش نہیں۔ بھٹو نے ایک جلسے میں کہا‘ تھکاوٹ اتارنے کیلئے تھوڑی سی پی لیتا ہوں‘ ان مولویوں کی طرح حلوہ نہیں کھاتا۔ اب وہ تھوڑی تھوڑی جمع ہو کر نوبت ایکسپورٹ کرنے تک پہنچ چکی ہے۔
ہم گیس‘ بجلی‘ گندم‘ چاول اور سبزیاں اگر ایکسپورٹ کرتے تو سر اٹھا کر جیتے‘ لیکن حکومت کی خودکفالت نے پوری قوم کے سر جھکا دیئے ہیں۔ بھکاری کو پیسوں سے غرض ہوتی ہے‘ وہ اس گہرائی میں نہیں جاتا کہ حلال کی کمائی ہے یا حرام کی؟ مسٹر ہنڈرڈ پرسنٹ بھی جائز ناجائز اور حلال و حرام کی تمیز سے بالاتر ہو کر تجارت کر رہے ہیں‘ امین فہیم شرابی تجارت میں مگن ہیں‘ اسی لئے کابینہ کے ماتمی اجلاسوں میں بھی نظر نہیں آتے۔ آجکل غم دور کرنے کیلئے امین فہیم پھر ساقی کا کردار ادا کر رہے ہونگے....
ہاں ساقیا وہ جام حقیقت شتاب دے
پھر تازہ دم بنائے قوا جب جواب دے
کیونکہ آجکل پی پی کے اعضا جلد جواب دے جاتے ہیں۔
٭....٭....٭....٭
مرکزی رہنماءجے یو آئی حافظ حسین احمد سے تحریک انصاف کی قیادت کے رابطے جاری۔
جمعیت علماءاسلام میں حافظ حسین کا طوطی بولتا ہے‘ لیکن مولانا ڈیزل کو ایسا طوطا اچھا نہیں لگتا جو انہیں ”چونچ“ مارنے کی طاقت رکھتا ہو۔ جمعیت کا جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمان کا ہم جثہ ہی ہے‘ جمعیت نے گزشتہ چار سال سے حافظ حسین کے بال و پر کاٹے ہوئے ہیں‘ بس سادہ انسان ہیں‘ ڈیزل لینے اور دینے کے عادی نہیں ورنہ آج کم از کم سینیٹر تو ضرور ہوتے۔ حافظ صاحب اپنا گھر اچھا ہو یا برا‘ وہی بہتر ہوتا ہے۔ اسے سونامی میں بہنے کی ضرورت نہیں‘ جہاں محرم اور غیرمحرم کی تمیز نہ ہو۔ آپ نے اگر اڑنا بھی ہوا تو اس سج دھج سے اڑیئے گا کہ پگڑی کی شان سلامت رہے۔ اسد اللہ خان غالب کا واقعہ حافظ حسین کیلئے پیش ہے۔
”غالب نے پیشین گوئی کی کہ میں فلاں سال مر جاﺅں گا‘ دلی میں اس سال طاعون کی وباءپھوٹی‘ ہر گھر اور ہر گلی سے کئی جنازے اٹھ گئے لیکن غالب زندہ رہا۔ احباب نے کہا‘ حضور اس سال تو آپ نے مر جانا تھا‘ ایک خلق خدا چلی گئی اور آپ زندہ رہے‘ اپنے عہد کے نابغہ نے کہا.... میرا نام اسد اللہ خان غالب ہے‘ میں اس طرح کے انبوہ مرگ کا حصہ کیسے بن جاتا کہ صبح و شام جنازے اٹھ رہے ہیں‘ کوئی جان ہی نہ پائے کہ غالب کا جنازہ کونسا ہے؟ مروں گا تو اکیلے اور اس شان سے کہ دنیا دیکھے گی۔“ آپ اس ”مرگ انبوہ“ کا حصہ مت بننا اگر بالفرض آپ نے کسی ”حسینہ“ کا ہاتھ تھامنا ہی ہے تو کم از کم مناسب وقت کا انتظار کرنا اور ڈانس گانے بجانے والے انقلاب خان کے سونامی میں مت بہنا۔ آپ جیسے آدمی کیلئے اگر اور کچھ نہیں تو کم از کم مسجد کی خطابت تو حاضر ہے۔ عمران آجکل جن زلیخاﺅں کے جھرمٹ میں ہے‘ پگڑی اور داڑھی والا حافظ تو ویسے بھی وہاں اچھا نہیں لگتا۔ بقول شاعر....
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ ”حافظ“ رہے بے داغ
٭....٭....٭....٭
”مشرف فیصلے ڈکٹیٹر کی طرح کرتے ہیں“ فواد چودھری نے پارٹی چھوڑ دی۔
فواد تھوڑے ہور چوپ لینے سی
سابق ڈکٹیٹر کی حمایت کرنے پر قوم سے معافی مانگیں‘ بٹیر افگن کی عقل پہلے ٹھکانے آچکی ہے‘ اب فواد بھی پھل کھا کر تھوتھو کر رہا ہے۔ دیکھیں علی سیف کی ”سیف“ کب چلتی ہے‘ پھر مشرف پاﺅں میں گھنگھرو باندھ کر اور گلے میں تسبیح ڈال کر کہیے گا....
علی دا ملنگ میں تے علی دا ملنگ
تویں حیدری ملنگ میں وی حیدری ملنگ
نعرہ گج وج ہر کوئی مارا دا
فواد نے مشرف کو سیڑھی لگا کر چھت پر پہنچایا‘ اب سیڑھی کھینچ لی‘ ابھی اسلام آباد ایئرلائن سے بھی سیڑھی کھینچی جائیگی پھر سبز چولا پہن کر علی دا ملنگ ہی بننا پڑیگا۔