جمعۃ المبارک ‘ 4؍ربیع الاوّل 1431ھ‘ 19 ؍ فروری 2010ء

ـ 19 فروری ، 2010
سپیکر قومی اسمبلی فہیمدہ مرزا نے قائد حزب اختلاف چودھری نثار کو چائے پر بُلا لیا۔
منصب کوئی بھی ہو لیکن جب کسی خاتون اور مرد کے درمیان ہلکی پھلکی نوک جھونک ہوتی ہے تو اک شاعرانہ ماحول پیدا ہو جاتا ہے اور خاص کر ایسے میں تو لطف دوچند ہو جاتا ہے جب ایک خاتون نوک جھونک کے بعد چائے پر بُلا لے۔ ہماری پارلیمنٹ اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ دھان پان خاتون اسکی سپیکر ہیں اور انکے وجود سے ایوان کی فضا کتنی ہی تلخ ہو جائے نسوانی آواز کی جلترنگ سے نغمگیں نغمے میں بدل جاتی ہے۔ بدھ کے روز قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان اور سپیکر قومی اسمبلی محترمہ فہمیدہ مرزا کے درمیان ہلکی سی جھڑپ جمہوریت کا حسن ہے اور اس جھڑپ میں فہمیدہ نے جو رول ادا کیا وہ قابل صد ستائش ہے جھڑپ ہمیشہ اختلاف رائے سے پیدا ہوتی ہے اور ایوان جمہوریت میں اختلاف کا پیدا ہونا باعث رحمت ہے مگر یہ ضروری ہے نوک جھونک اتنی دور نہ جائے کہ منانے کی گنجائش ہی نہ رہے۔ قومی مسائل بہت زیادہ ہیں اور حل کے وسائل بہت کم یہ تو اچھا ہوا کہ ملک کے حالات سازگار ہو گئے اسکے مثبت اثرات ہمارے ایوانوں پر بھی پڑیں گے۔ فہمیدہ مرزا متحمل مزاج سپیکر ہیں اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ نثار علی خان اپنے خان ہونے کا ثبوت دیتے رہتے ہیں قائد حزب اختلاف تو ایوان کا باپ ہوتا ہے اور سپیکر اسکی ماں‘ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ آج ممی نے میری تمہیں چائے پہ بلایا ہے۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ قاف لیگ کی تقریب میں مشرف کی حمایت پر شیرافگن کو سٹیج سے اتار دیا گیا۔
شیرافگن جو اب شغال افگن بن چکے ہیں یکے از جان نثارانِ مشرف ہیں اور حکومت کے مزے لینے کیلئے مشرف کے ساتھی بنے تھے انکی یہ بات بڑی صحیح ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ (ق) کے سینئر ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کھل کر کہہ دیا کہ مشرف نے ق لیگ بنائی اور ہم نے پانچ سال تک حکومت کے مزے لوٹے۔ ڈاکٹر شیرافگن مشرف کے جرائم کے بہت بڑے وکیل تھے اور ایسے دلائل گھڑتے رہتے تھے جن سے مشرف کی جے ہو۔
ڈاکٹر صاحب نے مشرف کے عدلیہ کے بارے میں اقدامات کی حمایت کی اور عدلیہ پر شدید نقطہ چینی کی جس پر انہیں سٹیج سے اتار دیا گیا۔ ویسے انکی یہ بات صحیح ہے اس پر چودھری برادران کو غور کرنا چاہیے کہ مسلم لیگ (ق) مشرف نے ہی ایجاد کی اور پانچ سال تک وہ ہر ق لیگی کو بہتے ہوئے چشمے سے سیراب کرتے رہے اب اپنے اَن داتا کے خلاف اجلاس کرنا ان کو زیب نہیں دیتا۔ کیا مسلم لیگ (ق) صد قِ دل سے یہ تسلیم کر سکتی ہے کہ جو کچھ شیرافگن نے کہا وہ بالکل ہی غلط تھا بلکہ انہوں نے تو اپنے آقا سے وفاداری نبھائی‘ جہاں تک عدلیہ کی مخالفت کا تعلق ہے تو ان میں اگر حمیت نام کی چیز ہے تو کہہ دیں کہ عدلیہ نے ایک آمر کی مخالفت کر کے ملک و قوم کو جمہوریت عطا کی۔ شیرافگن کیلئے مشورہ ہے کہ وہ مشرف کے پاس جائیں اور مسلم لیگ (ق) کو پھر سے زندہ کر کے موجودہ مسلم لیگ (ق) کو سٹیج سے اتار دیں۔
گھوٹکی کے علاقے خان گڑھ میں نواز شریف نے عرب شہزادے کیساتھ پرمٹ لئے بغیر 18 تیتر شکار کئے۔
نواز شریف اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ آٹھ سال جلاوطنی کے مزے لئے اور اب ایک بڑی سیاسی پارٹی کی حیثیت سے عرب شہزادوں کیساتھ تیتر شکار کرتے ہیں‘ سندھ حکومت نے گلہ کیا ہے کہ میاں صاحب نے اس سے پرمٹ لئے بغیر شکار کیا۔ عیش و نشاط کے دلدادہ ہمارے سیاست دان اس ملک کو کیا دے سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ کو چاہیے کہ جنگلی جانوروں کے شکار کیلئے سرے سے پرمٹ ہی بند کر دیں‘ کیونکہ ہمارے ہاں جنگلی جانور اور قیمتی پرندے ناپید ہوتے جا رہے ہیں یوں تو ہمارے سارے سیاست دان شکاری ہیں مگر کم از کم جنگلی حیات کو تو شکار نہ کریں۔ مہمان شہزادوں نے پاکستان کو شکار گاہ بنایا ہوا ہے خدا جانے اس شکار کا دائرہ کتنا وسیع ہے میاں صاحب کی تو اچھی بھلی شہرت ہے انہوں نے اگر اس قوم کی قیادت کرنا ہے تو غریبانہ طرز زندگی اختیار کریں اور دولت غریبوں میں تقسیم کر دیں تاکہ معلوم ہو کہ مسلم لیگ اصل مسلم لیگ بنتی جا رہی ہے۔ ہماری ان سے درخواست ہے کہ وہ صوبہ سرحد کا نام بدلنے پر اتفاق نہ کریں جیسا کہ سرانجام خان نے کہا ہے کہ اتفاق ہو چکا اعلان نواز شریف کرینگے۔ جس طرح پاکستان کا نام 62 سال سے پاکستان ہے اسی طرح صوبہ سرحد کا نام بھی 62 سال سے چلا آ رہا ہے وہاں کے عوام کا ایسا کوئی مطالبہ نہیں کہ اس نام کو بدلا جائے یہ اسی طرح کا سیاسی سٹنٹ ہے جس طرح کا سٹنٹ کالاباغ ڈیم کو بنا دیا گیا ہے۔
٭…٭…٭…٭
حکومت نے متنازعہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا اور وزیراعظم نے کہا سپریم کوٹ کی سفارشات اور فیصلوں پر مکمل عمل درآمد کریں گے۔
وزیراعظم ایک حکومت کے بہترین سپوکس مین ہیں انہوں نے قوم کو جو خوشخبری دی ہے اس کیلئے قوم انکی شکر گزار ہے کہ انہوں نے دو اداروں کے تصادم کو خوبصورتی سے ٹال دیا۔ وزیراعظم گیلانی کا اچانک جسٹس افتخار کے عشائیے میں پہنچ جانا اور یہ کہنا کہ میں کھانا کھانے آیا ہوں ایسا اقدام ہے جس سے سرخ اندھیری کا خطرہ ٹل گیا اور حکومت عدلیہ کا اختلاف ختم ہو گیا۔ موجودہ حکومت سے توقع ہے کہ وہ جمہوریت کو لیکر آگے بڑھتی جائیگی اور عوام کے اصل مسائل حل کرنے پر توجہ دیگی تاکہ ووٹ دینے کا مقصد ضائع نہ ہو۔
ملک کے تمام بڑے اداروں کو اس بات کا بھی احساس رہنا چاہیے کہ شیطانی ہاتھ بھی اپنا کام کر رہے ہیں۔ اگر عدلیہ کے فیصلے اسی طرح مانے جاتے رہے تو کوئی اختلاف نہ ہو گا بلکہ جمہوریت کی ریل پٹڑی پر چُھک چُھک چلتی رہے گی اور روز بروز اسکی رفتار میں اضافہ ہوتا جائیگا۔ اداروں کے تصادم کیلئے سازش پھر بھی ہوتی رہے گی اسلئے کہ دشمن نہ صرف آس پاس ہے بلکہ اندر بھی موجود ہے۔ اب سلطانی ٔ جمہور مستحکم ہے اور عدلیہ آزاد ‘ یوں سمجھئے کہ پاکستان ایک بار پھر آزاد ہو گیا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter