تازہ ترین:

پیر ‘ 23 محرم الحرام 1433ھ‘19 دسمبر 2011ئ

ـ 19 دسمبر ، 2011
روزنامہ نوائے وقت کے ایڈیٹر نے کہا ہے: دیکھنا ہے صدر بینظیر کی برسی پر تقریر کہاں کرتے ہیں جبکہ اعجاز الحق نے کہا ہے: صدر زرداری اگر لند ن نہیں پہنچے تو دبئی میں اپنا دیدار کرادیں۔ صدر زرداری بینظیر کی برسی پر تقریر کرسی کے نیچے سے کریں گے کیونکہ وہ بھی ان دنوں وینا جیسے مسائل کا شکار ہیں شاید دونوں عریانی چھپانے کی تلاش میں ہیں یہ اور بات ہے کہ دونوں کی عریانیاں مختلف ہیں، ہماری دعا ہے کہ دونوں کو کُھل کر اپنے ملک میں اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا ہو،میمو کیس خیرو عافیت سے گذر جائے اور وینا ملک کو بھی طاہر مطہر مان لیاجائے جیسے انہوں نے جو کچھ کیا وہ بھی میمو کیس ہی تھا جو منصور اعجاز نے گھڑا تھا۔ اعجاز الحق اُس والد کے فرزند ہیں جن کے دستخطوں سے زرداری کے سسر کو پھانسی دی گئی اور وہ قلم اب بھی چودھری شجاعت کے پاس ہے جس کے ذریعے بھٹو جیسے لیڈر کا سر قلم کیا گیا۔ زرداری کی یہ رواداری ضرب المثل ہے کہ چودھری صاحب کو قاتل قلم سمیت اپنا پہلو گرم رکھنے کیلئے ساتھ رکھا ہوا ہے،زرداری جن حالات سے گذر رہے ہیں وہ تکلیف دہ ہیں ان کا دل بہلانے کو یہ شعر اچھا ہے....
ہرکلی کہتی ہے کِھل کر ترے دیوانے سے
دیکھ نکلی ہے پر ی سج کے پری خانے سے
جناب مجید نظامی کو اپنے مردِ حر کی فکر ہے کہ وہ بینظیر کی برسی پر تقریر کہاں سے کرینگے اگر انہوں نے خطاب دہندہ کی لاج رکھنی ہے تو ایوان صدر آکر کھلے میدان میں کہہ دیں....
آو تقریر کریں عالم مدہوشی میں
کون کہتا ہے زرداری کو بینظیر یاد نہیں
٭....٭....٭....٭....٭
روس میں ہندوﺅں کی مقدس کتاب بھگوت گیتا کو انتہا پسندی پھیلانے والا ادب قراردیدیا گیا۔عدالت کل اپنا فیصلہ سنائے گی اور من موہن سنگھ اس وقت روس کا دورہ کر رہے ہوں گے۔ ہم روس کے اس اقدام کو اچھا نہیں سمجھتے کیونکہ امریکہ کے صدر بش نے بھی کہا تھا قرآن دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے، کتاب کسی کے مذہب یا دین کی بھی ہو اُس کو ہدفِ ہتک بنانا اخلاقی زمرے میں نہیں آتا لیکن یہ ضرور ہے کہ اگر روسیوں نے گیتا پڑھی ہوگی اور اُسے انتہا پسندی پھیلانے والا ادب قرار دیا ہوگا تو انہوں نے قرآن حکیم کا مطالعہ بھی کیا ہوگا مگر اُس کے بارے منفی ریمارکس نہ دئیے اب یہ بڑے لطف ملیح کی بات ہے کہ جب روسی عدالت بھگوت گیتا کے بارے فیصلہ دیگی تو من موہن پیارے بھی وہیں ہوگے اور روسی ہم منصب سے ضرور کہیں گے....
یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبر کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
روس اور بھارت دونوں سیکولر ہیں اس لئے بھارت کو اور اُس کے وزیراعظم کو بُرا تو نہیں مناناچاہئے مگر بھارت چونکہ گلابی سیکولر سٹیٹ ہے اور روس خالص تو اک درد سا تو اُٹھے گا ہند کے وبال ٹھاکروں اور دیگر گیتا کے قدر دان ہندوﺅں کو، روس بھارت دوستی پرانی اور گہری ہے مگر اُس میں امریکہ و اسرائیل کی آمیزش سے حالات اتنے بگڑیں گے نہیں البتہ یہی بات اگر پاکستان نے کہی ہوتی تو مہا بھارت کا امکان تھا کیونکہ بھارت کی طرح اُس کا عقیدہ بھی منافقت پر مبنی ہے، ممکن ہے یہ امریکی شرارت ہو اور بھارت روس دوستی میں دراڑ ڈالنا چاہتا ہو اسلئے ہندوﺅں کو اپنے مذہب کو ترجیح دینی چاہئے۔
٭....٭....٭....٭....٭
معتبر ذرائع کے مطابق بلاول کو ہنگامی طورپر پاکستان بلایا گیا شاید تعلیم مکمل نہ کرسکیں، بلاول نے اپنے دوستوں کو بتایا ہے کہ اُن کے والد علیل ہیں اور پارٹی عمائدین اُن پر زور دے رہے ہیں کہ وہ پاکستان آکر سیاسی معاملات سنبھالیں جبکہ وہ اپنی تعلیم آکسفورڈ میں مکمل کرناچاہتے ہیں۔ شاید اقبال کی دعا قبول ہوگئی.... ع جوانوں کو پیروں کا استاد کر، لیکن دھیان رہے کہ جوان کم از کم اپنی تعلیم تو مکمل کرلیں وگرنہ وہ اپنے بزرگوں کے ساتھ استادی کیسے کرسکیں گے،بلاول کو اپنی تعلیم کی اور اُنکے والد ماجد کو عدالت میں بھی اپنے ملک کی فکر ہے شاید اب وہ اقتدار کو ملک کہنے لگے ہیں، اللہ سے دعا ہے کہ زرداری کو صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے تاکہ بلاول کی تعلیم ادھوری نہ رہ جائے ،زرداری ابھی تک تو مردِ حُر ہیں اپنی بیماری کو سمیٹ کر آ بھی سکتے ہیں اور رُک بھی سکتے ہیں کیونکہ وہ ہروقت مرد حر نہیںبھی ہوتے، بلاول کی جگہ زرداری چاہیں تو کسی اور کو بھی نامزد کرسکتے ہیں کیونکہ اس طرح موروثی جمہوریت بھی نہیں رہے گی اور سیاسی معاملات بھی سیدھے ہوجائینگے ویسے سینٹ کے چیئر مین نائیک صاحب کو لائق کیوں نہیں سمجھاجارہا کہ وہ زرداری کے کسی بھی عہد میں واپس آنے تک بھی صدارت کے فرائض ادا کرتے رہیں اور بلاول اپنی تعلیم مکمل کرکے اپنے والد کی ”جمہوری“ گدی پر براجمان ہوسکیں۔ بلاول ابھی شاخ نازک ہیں انہیں تھوڑا اور بڑا ہونے دیں....
حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے
اگر کانٹے میں ہو خوئے حریری
٭....٭....٭....٭....٭
میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش میں پاکستان کے حامیوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ پاکستان کے حامیوں کو پھانسی کی سزا بنگلہ دیش کی رانی کے گلے کی پھانس نہ بن جائے کیونکہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد بھارت کے ساتھ گہرا رومانس رکھتی ہے اور دل و جان سے بھارت کی حامی ہیں اسلئے یہ سزا اُن پر بھی لاگو ہوگی کیونکہ پاکستان کی حمایت ہویا بھارت کی دونوں بنگلہ دیش سے غداری کی زمرے میں آتی ہے، اس طرح مجیب الرحمان کی بیٹی امریکہ کی بھی حمایت کرتی ہے،بس نفرت کرتی ہیں تو پاکستان سے اسلئے اگر پاکستان کے حامی یکجا ہوجائیں ،حسینہ یہ ہولو کاسٹ نہیں کرسکیں گی، حسینہ کے بارے یہ سناگیا ہے کہ جب بھی من موہن سنگھ کسی دورے پر نہ گئے ہوں وہ بھارت میں کئی کئی روز قیام کرتی ہیں اور من موہن کی پگڑی کے بل کھل کھل جاتے ہیں، محترمہ یہ یاد رکھیں کہ پاکستان کے عوام اور قائد کی روح بنگلہ دیش اور پاکستان کو اب بھی ایک ہی سمجھتے ہیں اور ایک دن آئے گا کہ بنگلہ دیش اپنی سابقہ حیثیت بحال کرے گا کیونکہ حامی کوئی ایک تو نہیں۔حسینہ واجد سے کیا اُسکے باپ کی روح نے یہ نہیں کہا کہ وہ تو پاکستان توڑنے کیلئے بھارتی نیتاﺅں کے ٹریپ میں آگئے، ورنہ وہ تو اسلام آباد سے حکومت کرکے پاکستان کو مستحکم بناناچاہتے تھے،حسینہ واجد خاطر جمع رکھیں، پاکستان کے حامیوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ ہی بھارتی سازش سے جدا کئے گئے دونوں بھائیوں کو ایک کردے گا،نادان حسینہ !مغربی پاکستان مٹا نہیں ، پاکستان کے حامی بنگلہ دیشیوں کے دلوں پر لکھا ہے ۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter