جمعرات، 8 ؍رمضان المبارک‘1431ھ‘19 ؍ اگست 2010ء

ـ 19 اگست ، 2010
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ صحت کی ناکافی سہولیات سے سیلاب زدہ علاقوں میں صورتحال سنگین ہو گئی‘ سیلاب میں گھرے عوام کو سیاسی قیادت اعتماد دینے میں ناکام ہو گئی تو خلاء انتہا پسند پر کرینگے۔
صدر صاحب نے اطلاع دی ہے کہ ’’صحت کی ناکافی سہولیات سے سیلاب زدہ علاقوں میں صورتحال سنگین ہو گئی‘‘ اور کتنی ہی شامیں ہیں کہ رنگین ہو گئیں۔ یہ وقت ہے کہ وہ خود مرد حر بن کر پانی میں اتر جائیں تو انکے پیچھے پیچھے ساری سیاسی قیادت بھی کشاں کشاں چل پڑیگی۔ جہاں تک انتہا پسندوں کے اس خلاء کو پر کرنے کی بات ہے تو وہ کیسے انتہا پسند ہیں جو پانی کے ہر ریلے کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں اور سیلاب زدگان کی دل و جان سے مدد کر رہے ہیں‘ اسکے باوجود وہ انتہا پسند کہلائے جا سکتے ہیں؟ عربی مقولہ ہے کہ ’’الناس علیٰ دین ملوکھم‘‘ (لوگ اپنے حکمرانوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں) اگر آج صدر‘ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر مل کر سیلابی علاقوں میں عام آدمی کی طرح خدمات سرانجام دینے لگیں تو نہ صرف سیاسی قیادت زندہ باد ہو گی بلکہ دنیا بھی اس عمل کو دیکھ کر آفرین کہے گی اور انتہا پسند اگر کہیں ہیں تو اعتدال پسند ہو جائینگے۔ جو لوگ خشکی پر بیٹھے آرام کی زندگی گزار رہے ہیں‘ وہ حافظ کے اس شعر پر غور کریں…؎
شبِ تاریک و بیم موج و گردابے بے چنیں ہائل
کجا دانند حالِ ما سبکسارانِ ساحلہا
(سیاہ رات ہے‘ موجوں کا ڈر ہے اور ہولناک گرداب ہے‘ ساحلوں پر چین سے رہنے والے ہمارا حال کیا جانیں)
٭…٭…٭…٭
علماء دین نے کہا ہے‘ صلیبی اور یہودی اپنے مکروہ عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
صلیبی اور یہودی اپنے مکروہ عزائم بنا تو سکتے ہیں‘ انہیں لاگو نہیں کر سکتے‘ یہی وجہ ہے کہ حجاب‘ مساجد‘ اسلامی شعائر اور دین متین اسی طرح نہ صرف قائم رہیں گے‘ بلکہ ان میں اضافہ ہوتا جائیگا۔ اسلام حرف مکرر نہیں کہ کوئی اسے ہاتھ مار کر مٹا سکے‘ بلکہ یہ اتنا ہی ابھرے گا جتنا کہ مٹا دینے کی کوشش کرینگے‘ ایک ہوا سوئے حرم سے چل پڑی ہے‘ جو آہوانِ چرم کو یکجا کر دیگی۔ یہ باطل کے کچوکے یہ اغیار کے توپ و تفنگ‘ پائے لنگ ثابت ہونگے اس لئے کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ حق آکے رہے گا اور باطل جاکے رہے گا۔ دنیا اس وقت یہود و ہنود اور نصاریٰ کی ریشہ دوانیوں سے شیطان کے پنجے میں ہے‘ مگر یہ چار دانگ عالم میں گونجنے والی اذانیں اور فرزندان توحید کا جذبۂ جہاد جلد ہی اس شیطانی حصار کو توڑ کر رکھ دیگا۔ ہماری بربادی کیلئے اختیار کئے جانے والے سائنسی حربے تدبیر خداوندی سے خس و خاشاک ہو جائینگے‘ صفحہ ہستی پر ایک ہی صدا گونجے گی‘ الاکل شی علیھا فان ویبقیٰ وجہ ربک ذوالجلال والاکرام۔
٭…٭…٭…٭
ذات باری تعالیٰ کی حکمت سمجھنے کیلئے صبر و شکر کی عادت بہت ضروری ہے‘ روایت ہے کہ حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادم جیلانیؒ جو اپنے وقت کے بہت بڑے تاجر بھی تھے‘ مصروفِ نماز تھے کہ کسی نے باہر سے آکر کہا کہ حضرت کے اسباب کا جو جہاز آرہا تھا‘ غرق ہو گیا ہے۔ ملازمین میں ایک تھرتھلی کی سی کیفیت تھی مگر حضرت اپنے روایتی انہماک سے نماز پڑھتے رہے کہ کچھ وقفے سے بازار سے کچھ اور لوگ آئے اور انہوں نے پہلی اطلاع کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت کے مال کا جہاز صحیح سلامت ساحل سے آلگا ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ ابھی تک اپنی عبادت اور وظائف میں مصروف تھے‘ کسی نے انکی طرف تو دیکھا اور پوچھا تو حضرت نے فرمایا‘ جہاز ڈوبنے کی خبر سے میرے دل میں کوئی صدمہ پیدا نہیں ہوا‘ اور جہاز کی سلامتی کی خبر سے میرے دل میں کوئی خوشی کی لہر نہیں اٹھی۔ میں تو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہوں‘ وہ جو چاہے کردے‘ ہم اس کا شکریہ کرتے رہیں گے۔
آج سیلاب اور طوفانی بارشوں سے ہونیوالی تباہی پر جو لوگ بہت زیادہ غمزدہ اور اپنے نقصان پر پریشان ہیں‘ اس روایت میں ان کیلئے سبق ہے کہ وہ حوصلہ رکھیں‘ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو جائیں‘ جس نے سیلابِ بلا بھیجا تھا‘ اس نے سیلاب زدہ زمینوں پر زرخیز اور توانا مٹی کی ایک موٹی تہ بچھا دی ہے۔ اب کئی برسوں تک کسانوں کو مصنوعی کھاد کیلئے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں‘ پانی زمین میں بہت ہے‘ بیج ڈال کر صبر و حوصلہ سے اچھی فصل کی امید رکھیں‘ انشاء اللہ سیلاب اور بارشوں سے ہونیوالے نقصانات وہ خود ہی پورے کریگا۔ یہ کام تو اس مالک نے کرنا ہے جو اگر یہ نہ بھی کرے تو ہم اس کے سامنے احتجاج بھی نہیں کر سکتے۔
٭…٭…٭…٭
سندھ میں سیلاب کی صورتحال ابھی تک بہت خطرناک ہے‘ دس لاکھ کیوسک پانی کے ریلے ابھی تک گدو بیراج اور کوٹری کے پلوں سے گزر رہے ہیں‘ لاکھوں مرد عورتیں‘ بچے بوڑھے پانی میں بیٹھے ہیں‘ سرکاری امداد کا انتظار کر رہے ہیں‘ انکی بستیاں ڈوب چکی ہیں‘ مکانات کیچڑ کے ڈھیر بن گئے ہیں‘ مگر وہ اب بھی موسلادھار بارش میں کھڑے ہیں۔ زمین پر پانی ہی پانی ہے‘ اور آسمانوں پر بھی پانی سے لدے بادل مگر ہم نے کسی کو اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرتے نہیں سنا کہ کوئی اللہ سے بھی جھگڑنے چل پڑا ہو۔ یہ ہے ایمان اور تقویٰ۔ ہم نے عورتوں‘ بچوں‘ بوڑھوں جو کہ تعلیم یافتہ نہیں تھے‘ بالکل لاعلم تھے‘ وہ بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ اللہ نے ہمارے برے اعمال کی سزا دی ہے اور یہ تمام سیلاب زدگان اللہ سے معافی مانگ رہے تھے‘ توبہ کر رہے تھے‘ سوائے حکمرانوں کے کسی کو برا نہیں کہہ رہے تھے۔
٭…٭…٭…٭
سیلاب اور طوفانی بارشوں نے ہم مسلمانوں کی شکل و صورت بھی نکھار دی ہے‘ 28 جولائی سے قبل ہمیں سوائے نقائص کے کچھ نظر نہیں آتا تھا‘ نوجوان ہمارے بگڑے ہوئے ہیں‘ ہمیں مہنگائی کی بہت سی شکایات تھیں‘ مگر اب سیلاب کے بعد ہمارے نوجوان کالج کے طلباء سکولوں کے بچے اکٹھے ہو کر سیلاب زدگان کی مدد کرنے کیلئے گھر گھر جا رہے ہیں‘ ان کیلئے فنڈز اکٹھے کر رہے ہیں۔ اللہ نے سیلاب کا ایک دکھاوا دیا اور ہماری قوم میں بہتری کے آثار بھی پیدا ہونے شروع ہو گئے۔ اللہ کرے یہ آثار صفات بن جائیں اور ہمیشہ قائم رہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter