جمعرات ‘ 3 ؍ربیع الاوّل 1431ھ‘ 18 ؍ فروری 2010ء
ـ 18 فروری ، 2010
ایل کے ایڈوانی نے کہا ہے نہرو کی غلط پالیسیوں سے کشمیر اور دہشت گردی جیسے مسائل حل نہیں ہو سکے اسی وجہ سے پاکستان بھارت تعلقات میں بہتری نہ آ سکی‘ اقوام متحدہ کی سیٹ بھی چھوڑنی پڑی۔
بھارتی اپوزیشن جماعت بی جے پی کے سینئر رہنما ایل کے ایڈوانی پہلے بھارتی ہیں جنہوں نے ڈنکے کی چوٹ نہرو کی پالیسیوں کو غلط کہا ہے اور مزید کہا ہے کہ جواہر لال نہرو کی غلطیوں کے باعث دہشت گردی اور کشمیر جیسے بڑے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ اسکا سیدھا جواب تو یہ ہے کہ حل تو ہو سکتے ہیں آپ اپنی پالیسیاں بدل لیں اور نہرو کی پالیسیاں ترک کر دیں۔ ایڈوانی جب حکومت میں تھے تو انہوں نے کبھی ایسی بات کہی تھی ؟حکمران ہمیشہ سچ بولنے کیلئے اپنے زوال کے منتظر رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی یہی حال ہے کہ آج جو لوگ تصادم کی راہ پر چل رہے ہیں وہ حکومت میں ہوتے تو ایڈوانی کی طرح خاموش رہتے مگر اب جبکہ حکومت سے باہر ہیں اور مشرف بھی چلے گئے ہیں تو سارے سچ اُنکی زبان پر آ گئے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ …ع
تن ہما داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم
(جسم تو سارا زخم زخم ہے مرہم کہاں کہاں رکھوں)
بہرحال ایڈوانی نے جو کہا اس پر من موہن پیارے کو غور کرنا چاہیے اور بھارتی وزیر خارجہ کو بھی۔ کیا نہرو کی پالیسیاں ویدوں میں لکھی ہوئی ہیں کہ ان کو بدلا نہیں جا سکتا اب بھی دو ایٹمی ملکوں کیلئے یہ موقع ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے اقوام متحدہ سے رجوع کریں۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ شوکت عزیز بھارتی بزنس مین لکشمی متل کے ملازم بن گئے۔ سابق وزیراعظم کو سٹیل کے لندن آفس میں فنانشل ایڈوائر مقرر کیا گیا ہے۔
کیسی ستم ظریفی ہے کہ جو کبھی ہمارا وزیراعظم تھا‘ وہ بھارت کا ملازم نکلا۔ بھارتی بزنس مین کی تیس ملکوں میں سٹیبل ملیں ہیں‘ متل سٹیل کے لندن آفس میں شوکت عزیز کو فنانشل ایڈوائزر مقرر کیا گیا ہے‘ یہ وہی لکشمی متل ہے ‘ جسے اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز نے متل کو پردے میں رکھتے ہوئے ایک کنسوریشم کے نام پر پاکستان سٹیل مل کوڑیوں کے دام خرید کردی تھی مگر سپریم کورٹ نے یہ خریداری منسوخ کردی تھی۔ اس کنسوریشم میں شامل شوکت عزیز کے فرنٹ مین نے پیپکو انڈسٹریز لاہور کی اربوں روپے کی مالیت کی اراضی محض پانچ کروڑ روپے میں خریدی تھی۔ مشرف کو یہ نابکار تحفہ امریکہ نے دیا تھا‘ اس لئے کہ صدر اور وزیراعظم دونوں امریکی ایجنٹ تھے۔
ہم پر کیسے کیسے لوگ حکمران بنا کر مسلط کئے گئے‘ کیا ایسے میں مسئلہ کشمیر حل ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے اس ڈیل میں صدر مشرف کا بھی حصہ ہو گا‘ چاہئے تو یہ کہ پاکستان کے ان دونوں مجرموں کو بلوا کر کٹہرے میں کھڑا کیا جائے‘ شوکت عزیز نے لکشمی متل کی ملازمت اختیار کرکے اپنا نقاب اتار دیا ہے۔ یعنی بھارت کے ملازم ہمارے وزیراعظم تھے اور ہم نے اسے بھی برداشت کرلیا‘ اسلئے کہ ہماری قوت برداشت مثالی ہے۔ شوکت عزیز اب بوھڑ تھلے آگیا ہے‘ ہم اس کیلئے اس کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں کہ…؎
کیا ملئے ایسے لوگوں سے
نقلی چہرہ سامنے آئے اصلی صورت چھپی رہے
٭…٭…٭…٭
بھارتی انتہا پسند ہندو تنظیم نے شاہ رخ کیخلاف محاذ کھول لیا ہے۔
شیوسینا دراصل ہندو نیتائوں کی پالی ہوئی تنظیم ہے‘ جس کی نظر میں شاہ رخ کا صرف یہ قصور ہے کہ وہ مسلمان ہے اور بھارتی عوام میں مقبول ہے۔ حسد اور تعصب کی ماری ہوئی ہندو قوم کے ہیرو گاندھی سے یونہی نہیں کہا گیا تھا کہ آپ سر سے لیکر پائوں تک مسلمانوں کیخلاف سراپا تعصب ہیں۔ بھارت پاکستان کا بدلحاظ ہمسایہ اور کمینہ دشمن ہے‘ ورنہ اب تک بھارتی نام نہاد سیکولر حکومت شیوسینا کو بھارت کی سرزمین سے شیو کر چکی ہوتی۔ بھارتی سنسر بورڈ نے ایک تعصب کے تحت ہی شاہ رخ کی فلم ’’مائی نیم از خان‘‘ سنسر کردی ہے‘ وبال ٹھاکرے وبال پاکستان بنے ہوئے ہیں۔ یہ ایسا خبث النفس ہندو ہے جو کھیل اور فلم کے میدان میں بھی مسلمان دشمنی ترک نہیں کرتا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ وبال ٹھاکرے تعصب کی اس جنگ میں اکیلا ہے‘ ہندو فلم انڈسٹری شاہ رخ کی پذیرائی سے جلتی ہے اور اس جلتی پر تیل کا کام وبال ٹھاکرے کرتا ہے۔ بال ٹھاکرے کو اب صرف ایک خودکش کی ضرورت ہے‘ جو اسکے وبال سے بھارتی مسلمانوں کو نجات دلائے۔ بھارتی وزارت داخلہ انسانیت کا ثبوت دیتے ہوئے شیوسینا کا تیربہدف علاج کرے اور بھارتی حکومت کو ایک ایسی متعصب تنظیم پر پابندی لگا دینی چاہئے جو پاکستان سے جنگ کی طلب گار ہے اور بھارت میں ہندو مسلم فسادات کی علم بردار ہے۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ وزیراعظم چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے عشائیہ میں پہنچ گئے اور انہوں نے کہا کہ قوم آج 3 بجے خوشخبری سنے گی۔
چیف جسٹس آف پاکستان کا یہ جملہ سنہری ہے کہ اللہ کرے کہ بحران جلد ختم ہو‘ وزیراعظم کا چیف جسٹس کے عشائیہ میں پہنچ جانا بہت بڑی بات ہے جس کے پیچھے ضرور صدر زرداری کا بھی ہاتھ ہو گا۔ فریقین کا یہ ملاپ ایک اچھا شگون ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ حکومت بھی برقرار رہے گی اور عدلیہ کا بھی سربلند رہے گا۔ کیونکہ یہی موجود حالات میں پاکستان کی ضرورت ہے اور مسلم لیگ (ن) کے شہباز شریف کی سیاسی کشیدگی ختم کرنے کیلئے وزیراعظم سے ملاقات ایک مثبت علامت ہے۔ اس وقت پاکستان کیلئے اداروں کا تصادم اور دو بڑی پارٹیوں کی سیاسی کشیدگی دشمن کے جگر میں ٹھنڈک ڈالنے کے مترادف ہے۔ چارہ گروں کو چاہئے کہ جلتی آگ پر پانی ڈالیں سیاسی کارکنوں کو بھی دھینگا مشتی ترک کرکے ملک و قوم کے مفاد میں خاموش ہو جانا چاہئے تاکہ حکومت قائم رہے‘ جمہوریت چلتی رہے اور آزاد عدلیہ کا پرچم لہراتا رہے۔ وزیر اعظم گیلانی پیر ہیں‘ ضرور کوئی کرامت دکھا کے چھوڑیں گے‘ قوم بھی یہی چاہتی ہے کہ کشمکش کی یہ فضاء ختم ہو اور حکومت پسے ہوئے عوام کے مسائل پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں