تازہ ترین:

اتوار ‘ 22 محرم الحرام 1433ھ‘18 دسمبر 2011ئ

ـ 18 دسمبر ، 2011
بابر اعوان نے کہا ہے‘ پارلیمنٹ کے گرد رسی تنگ کی جا رہی ہے۔
شاید ان دنوں بابر اعوان ہی خود کو پارلیمنٹ سمجھتے ہیں‘ اس لئے ان کا یہ کہنا درست ہے کہ پارلیمنٹ کے گرد رسی تنگ کی جا رہی ہے۔ جمہوریت کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ صرف پارلیمنٹ کا نام ہوتی ہے‘ بلکہ اس میں عدلیہ شامل ہوتی ہے‘ اس لئے ملک کی سب سے بڑی عدالت ہو یا پارلیمنٹ دونوں ہی جمہوری ادارے ہیں۔ ویسے بھی پارلیمنٹ اگر اقوام متحدہ کی سی شکل اختیار کرلے اور اس پر کمیٹیوں کا راج ہو جائے‘ وہ سیاہ کریں یا سفید کریں‘ کوئی پوچھتا نہیں۔ کیا 26 کروڑ کا کچن بنانے کی اجازت اور 15 لاکھ روزانہ وزیراعظم ہاﺅس کا خرچ وہ بھی ایک غریب قوم کا۔ پارلیمنٹ کو نظر نہیں آتا۔ کیا کوئی آواز پوری پارلیمنٹ میں سے اس قومی پیسے کے ضیاع کیخلاف اٹھی ہے؟ ہاں جب کبھی این آر او پر عملدرآمد کی آواز اٹھی ہے تو اس طرح دبا دی گئی جیسے این آر او کے تحت پیسے دبائے گئے۔ بابر اعوان بے چارے اب ایک ناکام حکومت کی جانب سے بہتیرے اپنی گھسی پٹی تُک بندی کے ذریعے الزامی جوابات میں کوشاں ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ حکومت جس طرح چار سال چلائی گئی اور اس میں جتنی غلطیاں کی گئیں‘ وہ تو نرگس و دیدار کے ڈانس میں بھی نہیں ہوتیں مگر دونوں فریقوں کو پیسے پھر بھی ملتے ہیں۔ امریکہ کو ٹھگ کر اور اپنے ملک کو تج کر حکومت چلانے سے تو بہتر سویپر کی کوڑے والی گاڑی چلتی ہے۔ یہ تارا مسیح‘ یہ رسی کا گردن کے گرد تنگ ہونا اور بوالعجبیوں کے انبار لگا دینا تو آرٹیکل 6 کی تعبیریں ہیں۔ بابر اعوان کیوں یہ استعارے استعمال کرتے ہیں؟
٭....٭....٭....٭
حسین حقانی فرماتے ہیں‘ میمو کیس کے حوالے سے بعض لوگ خود ہی گواہ جج اور پراسیکیوٹر بننا چاہتے ہیں۔
حسین حقانی جو بننا نہیں چاہتے تھے‘ وہ بن گئے لیکن وہ غالب کے اس مصرعے پر بھی تو غور کریں....ع
اک بت کا بنانا ہے بت خانہ بنا دینا
باقی جو لوگ خود ہی گواہ جج اور پراسیکیوٹر بننا چاہتے ہیں‘ وہ ان کو غلط فہمی ہوئی ہے‘ وہ تو بعض افراد کی اپنی اپنی رائے ہوتی ہے‘ وگرنہ کون ان جتنا چتر چالاک ہے کہ سفارت سے تابہ قصرِ امارت ہانپتا رہے اور اپنی سفیری کے دوران سریلی نفیری بجاتے رہے اور اب بابر صاحب قبلہ ہی کو دیکھ لیجئے کہ وہ پریس کانفرنسوں کے ڈھیر لگا کر بتکلف ہنس ہنس کر ہنس کی چال بھول گئے اور زاغِ گنبدِ اقتدار بن کر کائیں کائیں کرنے لگے۔
پیپلز پارٹی نے چار برس تو عوام کے گلے میں پھندا ڈالے رکھا‘ اب اپنے گلے کی فکر پڑ گئی ہے اس لئے حقانی کیوں رنجیدہ و سنجیدہ ہو رہے ہیں‘ آخر جس نے درد دیا‘ وہ دوا بھی دیگا۔ بس اسی طرح سنہری پنجرے میں روکھی سوکھی چوری کھاتے رہیں اور وہ جو بیمارِ صحت مندی ہیں۔ ان کیلئے دعا گوہیں۔ حقانی بالکل بے قصور ہیں‘ ان کا کام تو کبو تر کا ہے‘ باقی کام تو ان کا ہے جنہوں نے کہا....ع
کبوتر جا جا جا! بسااوقات انسان کتنے شوق سے جنت میں جا رہا ہوتا ہے کہ دوزخ میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ فکر نہ کریں‘ یہ میمو ہی انکے کام آئیگا اور کوئی نہیں۔
٭....٭....٭....٭
ناہید خان کی اگرچہ ہر تان دیپک ہوتی ہے‘ لیکن ”سُر پھر بھی نہ لگے‘ کیا گاﺅں“ کے مصداق چپ ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کتنے ناز سے کہا ہے‘ ہمیں کوئی نکال سکتا ہے‘ نہ پارٹی کسی کے باپ کی جاگیر۔ بلاول کی جس طرح تربیت کی جا رہی ہے‘ اس کا بھٹو کے نظریات سے کوئی تعلق نہیں۔ ناہید کی یہ بات بالکل بے جا ہے کہ بیٹا زرداری کا اور تربیت بھٹو کی۔ یہ تو بڑا تضاد ہے۔ وہ خود سوچیں اور پرانی پیپلز پارٹی کے بال نوچیں۔ ناہید نے یہ کہہ کر خوش کر دیا کہ پارٹی کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہوتی‘ حالانکہ ہمارے ہاں کی جمہوریت میں ہر پارٹی اسکے سربراہ کے باپ کی جاگیر ہوتی ہے۔ اسلام بتاتا ہے کہ کسی خلیفہ راشدؓ کی مدت ختم ہونے پر اس میں توسیع نہیں کی گئی۔ ہمیں تو اب اقبال کی مانند اس مغربی جمہوریت پر بھی شک ہونے لگا ہے۔ پیپلز پارٹی جاگیردارانہ نظام ختم کرنے کا منشور لے کر پارٹی کو بھی جاگیر بنا گئی۔ آج کوئی پوری قوم کا محتاط جائزہ لے کر دس متقی پڑھے لکھے افراد پر مشتمل ایک مجلس شوریٰ کو ملک سونپ دیں۔ پھر دیکھیں کہ محلات میں محلات کیلئے حکمرانی کرنے کے بجائے حکومت چوراہے‘ گلی‘ کوچے میں آتی ہے کہ نہیں؟ خرچہ بھی نہیں ہو گا اور یہ بالا بلند عمارات جب سکولوں‘ یونیورسٹیوں میں تبدیل ہونگی تو تعلیم بھی عام ہو جائیگی۔ اس جمہوریت کو ہم کیا کریں‘ جو حسیناﺅں کے کانوں کی بالیاں اور نقرئی گردنوں کی گانیاں بن جاتی ہےں۔ ہمارے ہاں جمہوریت کو کلمہ پڑھانے کی ضرورت ہے‘ باقی کام ناہید خان پر چھوڑ دیں۔
٭....٭....٭....٭
”آصف علی زرداری‘ مدبر اور زیرک سیاست دان‘ کے عنوان سے لکھی گئی ایک کتاب کراچی سمیت سندھ بھر کے سرکاری کالجوں میں زبردستی فروخت کرنے کا انکشاف۔
جس کا یہ حال ہو جائے کہ ”کس کس کی مہر ہے سر محضر لگی ہوئی“ اگر اس پر ایک کتاب لکھی جائے جس کے سرورق پر مصنف کا نام تک نہیں تو پھر یہی کہنا پڑیگا کہ عنوان ہی میں کتاب اور مصنف کا نام موجود ہے اور اس طرح آصف علی زرداری عنوان اور مدبر و زیرک مصنف ٹھہرے گا۔ کیونکہ یہ جو کسی نام نہاد بڑے آدمی پر کتاب لکھتے ہیں‘ یہ نہایت مدبر اور زیرک ہوا کرتے ہیں۔ مگر یہ کتاب صرف سندھ بھر میں کیوں زبردستی فروخت کی جا رہی ہے جبکہ زرداری صاحب تو پورے ملک کے صدر ہیں‘ ان پر واقعی کتاب آنی چاہیے تھی اور زبردستی بکوانی چاہیے تھی کیونکہ اس طرح موصوف کا تعارف مکمل ہو جاتا۔ شاید کسی نے ایسے ہی موقع پر کہا ہو گا....ع ”بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں“
کتاب اگر کسی ایسی شخصیت پر لکھی جائے کہ وہ تاریخ کا حصہ بننے کے لائق ہو تب تو یہ ایک علمی کاوش کہلائے گی‘ لیکن کتاب ہو کسی ایسے پر کہ جس کی کوئی علمی تاریخی حیثیت نہ ہو‘ صرف کسی بھی درجے کے مسندِ اقتدار پر براجمان فرد پر ہو تو یہ خوشامد اور اسکے بدلے جلبِ منفعت ہو گی اور سٹیشنری کا ضیاع بھی ۔ پھر ایسی کتاب کو جبراً فروختنی بھی بنایا جانا تو یہ ایک اور ناکردنی ہے۔ کسی بھی سرکاری تعلیمی ادارے کا سربراہ تو مجبور ہو سکتا ہے لیکن طالب علم آزاد ہوتے ہیں اگر طلبہ مل جل کر اس کتاب کی زبردستی خرید سے انکار کر دیں تو آصف زرداری مزید ”زیرک و مدبر سیاستدان“ بن کر ابھریں گے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter