بدھ، 7 رمضان المبارک‘1431ھ‘18 اگست 2010ئ

ـ 18 اگست ، 2010
امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا ہے‘ خیبر پی کے حکومت بتائے بیرونی امداد کہاں گئی؟ امداد غیرمستحقین میں تقسیم ہو رہی ہے‘ اے این پی اپنے ووٹروں کو نواز رہی ہے‘ سعودی عرب سے ٹنوں کے حساب سے آنیوالی کھجوروں اور خیموں کا بھی کوئی پتہ نہیں چل رہا۔
اگرچہ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں جواب موجود ہوتا ہے‘ تاہم ہم امیر جماعت اسلامی کے خدشات اور سوال کا جواب خیبر پی کے کی حکومت سے سننے کی توقع رکھتے ہیں۔ سعودی حکومت ہمارا ایسا اسلامی برادر ملک ہے کہ جو آنکھیں بند کرکے ہم پر اعتبار کرتا ہے‘ اگر اسکی بھیجی ہوئی امداد مستحقین تک نہیں پہنچی‘ تو پاکستان کی کیا ساکھ رہ جائیگی اور خود خیبر پی کے کے وزیر اعلیٰ دنیا کو کیا منہ دکھائیں گے؟
سیلاب زدگان کیلئے آئی امداد کو اپنے ووٹروں‘ غیرمستحقین اور ایسے علاقوں میں تقسیم کرنا‘ جہاں سیلاب آیا ہی نہیں‘ اپنے ہم وطنوں کا خون پینے پلانے کے مترادف ہے۔
جماعت اسلامی کا کہنا اس لئے بھی لائق اعتبار ہے کہ وہ تمام سیلاب زدہ علاقوں میں کام کر رہی ہے اور شنیدہ کے بود مانند دیدہ کے مصداق سید منور حسن کی بات کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟
٭....٭....٭....٭
سیلاب زدگان کیلئے مشرف کی ایک کروڑ کی امداد کے بعد انکی جماعت بھی حرکت میں آگئی‘ ریگل چوک سمیت مختلف علاقوں میں ریلیف کیمپ کھولنا شروع کر دیئے۔
یہ تو بڑی اچھی بات ہے کہ سابق صدر مشرف نے اپنی ”نیک کمائی“ میں سے ایک کروڑ روپے کی امداد بھیجی ہے اور ان کی جماعت نے مختلف علاقوں میں امدادی کیمپ کھول دیئے ہیں۔ دوسری جانب مشرف کو اپنی جماعت اور سیاست کے انجام کا بھی پتہ ہے‘ اس لئے انہوں نے امریکہ میں مستقل رہائش رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور بوسٹن میں زرعی فارم بھی کھول لیا ہے جس میں گاجریں‘ مولیاں کھائیں گے اور ”ڈھڈ پیڑ“ ہو گی تو وطن کو یاد کرینگے۔
جہاں تک انکی سیاست کا تعلق ہے تو اسکی وہ فکر نہ کریں‘ وہ لال مسجد کے حوالے سے خوب چمکے گی‘ ہو سکے تو ڈاکٹر بٹیر افگن کو بھی اپنے فارم پر بلا لیں‘ وہ انکی ”ڈھڈ پیڑ“ کے علاج کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ جو مقبول لیڈر ہوتے ہیں‘ اپنے وطن میں ڈیرہ لگاتے اور لوگوں کی خدمت کرتے ہیں اور جو جوتا مارکہ لیڈر ہوتے ہیں‘ ڈر کر وطن سے بھاگ جاتے ہیں۔ بہرحال ایک کروڑ کی امداد کیلئے قوم انکی شکر گزار ہے اور دعا کرتی ہے کہ وہ ایک کروڑ انکی حلال کمائی کا پاکستان پہنچ بھی چکا ہے اور وہ خوداپنے آقاﺅں کے سایہ تلے خوش رہیں۔
پنجاب کے سینئر وزیر راجہ ریاض نے کہا ہے‘ اہم معاملات پر اعتماد میں نہیں لیا جاتا‘ شہباز شریف سے تکرار بھی ہوئی۔
راجہ ریاض خود وزیر آبپاشی ہیں‘ ان کو خود اجلاس بلا کر اس نازک موقع پر سیلاب زدگان کی امداد کیلئے اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لانی چاہئیں اور میاں شہباز شریف کے ساتھ تکرار کے بجائے پیار کا اقرار کرنا چاہیے تاکہ انکے ساتھ مل کر وہ سیلاب زدگان کی بہتر خدمت کر سکیں۔
گلہ وہی شخص کرتا ہے‘ جو دل کا اچھا ہوتا ہے‘ اس لئے میاں صاحب کو بھی راجہ صاحب کا شکوہ شکایت دور کر دینا چاہیے‘ باقی یہ کہ راجہ صاحب کا تو فرض بنتا ہے کہ وہ خود پانی میں اتریں تاکہ قوم کو نظر آئے کہ راجہ صاحب محض تکرار ہی نہیں کرتے‘ ان سنگین حالات میں مل جل کر کام بھی کرتے ہیں۔ صوبے کے عوام پر اس بات کا اچھا اثر نہیں پڑیگا کہ سینئر وزیر اور وزیر اعلیٰ میں تکرار ہوئی‘ کیا بات ہوئی‘ ہم اس موقع پر ایک ہندی دوہا پیش کرتے ہیں....
سنو سہیلی پرم کی باتا
ایویں مل جائیو جیوں دودھ نباتا
٭....٭....٭....٭
ہمیں کینیڈا سے شفیق خان نامی پاکستانی نے لکھ بھیجا ہے:
”ایک کشمیری شخص جس نے برمنگھم میں آصف علی زرداری کی طرف جوتے اچھالے‘ اس نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ ”قوم کا ہر فرد اپنا ایک ایک جوتا پاکستان کے کرپٹ اور بددیانت سیاست دانوں پر کیوں نہیں پھینکتا۔“
واہ! پیپلز پارٹی کے کارکن نے کیا شاندار آئیڈیا پیش کیا ہے‘ میرا اندازہ ہے کہ مستقبل میں اس خوشگوار واقعے کے بعد یا تو زرداری صاحب کے سامعین ننگے پاﺅں ہونگے یا داخلہ گیٹ پر ان کو لوہے کے جوتے پہنائے جائیں گے‘ جن پر حکومت نے تالا لگا رکھا ہو گا۔
بہرحال انگلینڈ میں مقیم پاکستانی نے ہمیشہ کیلئے تمام سیاست دانوں کے سر پر تلوار لٹکا دی ہے‘ جب بھی کوئی سیاست دان تقریر کرنے کیلئے سٹیج پر آئیگا‘ اسے کسی جانب سے جوتا آنے کا ڈر لاحق رہے گا۔ مگر اس بارے میں کیا خیال ہے کہ اگر سینکڑوں ہزاروں لوگ تقریر کرنے والے کی طرف جوتے پھینکنے لگیں؟
انگلینڈ میں مقیم پیپلز پارٹی کے ایک پاکستانی کارکن کے خیالات پر ہم اسکے سوا کیا کہہ سکتے ہیں کہ....
میں خیال ہوں کسی اور کا
مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سر آئینہ مرا عکس ہے
پس آئینہ کوئی اور ہے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter