وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے: جمہوری حکومتوں کو ہٹانے کی وجوہات کا پتہ چلانے کیلئے ٹروتھ کمیشن بننا چاہیے۔
جھوٹ سچ معلوم کرنیوالی مشین تو ایجاد ہو چکی ہے‘ البتہ اس سے یہ کام لیا جا سکتا ہے۔ باقاعدہ ٹروتھ کمیشن بنانے کی کیا ضرورت ہے اور اس مشین سے پہلے تو تمام حکمرانوں کو گزارنا چاہیے‘ شاید اس سے آگے جانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے اور مشین نادان ملک ہی سے چمٹ جائے کیونکہ یہ ان کیلئے کہا گیا ہے‘ میں بھولی ضرور آں‘ پر اتنی وی بھولی نئیں۔ اور پھر یہی ہوگا کہ الزام اس کو دیتے تھے‘ قصور اپنا نکل آیا....
بھج بھج کے وکھیاں چور ہوئیاں
مڑ دیکھیا تے کھوتی بوہڑ ہیٹھاں
پاکستان میں جمہوریت تو ہے‘ دکھائی نہیں دیتی۔ پھر جمہوری حکومت کہاں سے آئی؟ ویسے بھی جو چھوٹی موٹی جمہوری حکومت کے ملک صاحب دعویدار ہیں‘ اسکے دشمن غلاموں میں ڈھونڈنے کے بجائے آقاﺅں کے دشمن انکل سام کی آل اولاد میں ڈھونڈنے چاہئیں۔ رحمان ملک صاحب اگرچہ بظاہر زیرک نہیں لیکن چلمن سے لگے بیٹھے ہیں‘ صاف چھپتے بھی نہیں‘ سامنے آتے بھی نہیں۔ یہ ہنر شاید انہوں نے زرداری سے سیکھا ہے۔ بہرحال یہ سب باتیں چھوڑیئے‘ ملک صاحب کا مسئلہ حل کرتے ہیں۔ ایک گاﺅں کے سکول کا حال نہایت خستہ تھا‘ بچوں کے ساتھ اب آوارہ کتے بھی پڑھنے بیٹھ جاتے۔ ایک روز استاد آیا تو اس نے ایک سفید کتے کو کلاس میں دیکھا‘ تو کہا‘ کم از کم اس حرام خور کو تو نکالو جو پچھلے چار سالوں سے ایک ہی کلاس اٹینڈ کر رہا ہے۔
٭....٭....٭....٭
مسلم لیگ (ن) کے رہنما آصف خواجہ فرماتے ہیں: سیکرٹری دفاع کو صحیح برطرف کیا گیا۔ وزیراعظم کو آرمی چیف سے معافی مانگنی چاہیے۔
لگتا ہے نون کا سانڈ پیپلز پارٹی کے رہٹ میں گر گیا اور یوں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو اس اعلیٰ مقام پر فائز کردیا کہ گویا....
عیاں یورش تا تار کے افسانے سے
”پاسبان“ مل گئے ”کعبے“ کو صنم خانے سے
حالانکہ میاں شہباز شریف نے پھر اونچی فضا میں پرواز کرتے ہوئے کہا کہ حکمران ٹولہ عدلیہ اور فوج سے تصادم کی راہ پر چل کر اپنی تباہی کو دعوت دے رہا ہے۔ وزیراعظم اپنے بیان پر قوم سے معافی مانگیں۔ خواجہ آصف نے میاں نواز شریف کو جو”خوشی“ فراہم کی ہے اور جس ”خوش اسلوبی“ سے مسلم لیگ نون کے منبر پر کھڑے ہو کر پیپلز پارٹی کی اذان دی ہے‘ اب وہ میاں برادران کے پیچھے کیسے نماز پڑھیںگے۔ بہرحال میاں صاحب نے اگر کوئی کعبہ سیاست تعمیر کرنا ہے تو صنم کدے کے پجاریوں سے اینٹ نہ رکھوائیں یا پھر انکی ازسرنو تربیت کریں‘ انہیں کلمہ پڑھائیں۔ خواجہ آصف ہی کا شعر سمجھیں اگرچہ نہیں ہے....
میخانے نوں میں آباد رکھنا
گھر بار دا ہووے نیلام ای سہی
سو سو مبارکباں میاں صاحب نوں! جن کے خرمنِ سیاست میں کیسے کیسے جوہر موجود ہیں‘ وہ انہیں ذرا سنبھال کر رکھیں‘ کہیں وہ خرمن سے باہر نہ ہو جائیں۔
٭....٭....٭....٭
امریکی تھنک ٹینک نے بھارتی ایٹمی پروگرام کو غیرمحفوظ ترین قرار دیدیا۔
امریکی تھنک ٹینک کے بارے میں سنا ہے کہ اسکی باتوں کو امریکی حکمران اپنی پالیسی بنانے پر بھی غور کرتے ہیں‘ اس لئے وہ یہ بھی سوچیں کہ وہ جو شب و روز یہ کہتے رہتے ہیں کہ پاکستان اپنے ایٹمی اثاثے ظاہر اور محدود کرے۔ وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے بارے میں بھی وہی رویہ اختیار کرے جو اس نے بھارتی ایٹمی پروگرام سے متعلق کیا۔
امریکہ اپنے ایٹمی تھنک ٹینک کی بات کو وزن دے اور پاکستان کے ساتھ سوتیلا سلوک نہ کرے۔ بھارت کو کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ وہ اپنے ایٹمی اثاثے محدود اور ظاہر کرے۔ امریکی عوام اور انکے تھنک ٹینک انصاف کی بات کرتے ہیں لیکن امریکی حکومت نے پاکستان کو ہر معاملے میں دیوار سے لگانے کی کوشش کی ہے۔
ڈرون حملوں کا ہی دیکھ لیجئے کہ پھر سے جاری کر دیئے اور معصوم لوگوں کو دہشت گرد قرار دیکر مارتا جا رہا ہے۔ ادھر بھی اسکے غلام صف بستہ ہیں اس لئے ایئرچیف کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہیں۔ ہماری سرخیل غلاماں سے گزارش ہے کہ کم از کم ڈرون گرانے کا حکم تو دےدے تاکہ اطاعتوں کے مینا بازار میں ایک اطاعت تو اپنی خودمختاری کی بھی ہو جائے۔
زرداری صاحب سے مخاطب ہیں کہ....
رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
اب تک ہزاروں قبائلی بے گناہ مسلمانوں کو یہ ڈرون شہید کر چکے ہیں‘ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو ہم خود ہی اپنے ایٹمی اثاثوں کو غیرمحفوظ بھی کر سکتے ہیں۔ امریکہ عبرت پکڑے۔
٭....٭....٭....٭
عمران خان نے فرمایا ہے: مغرب امریکہ یا بھارت مخالف نہیں۔
سونامی سپیشلسٹ عمران نیازی نے کیا خوب خیرسگالی سے بھرپور بات کی ہے‘ یہ سو فیصد سچ ہے کہ عمران خان مغرب امریکہ یا بھارت کے ہرگز مخالف نہیں‘ لیکن کیا مغرب امریکہ یا بھارت بھی پاکستان کے مخالف نہیں۔ بس فرق نکلا عمران اور پاکستان کا کہ تینوں مذکورہ قوتیں پاکستان کی مخالف اور عمران خان کے حق میں ہیں کیونکہ وہ پہلے ہی سے انکے دوست ہیں۔ اب قارئین ہی اندازہ لگائیں کہ کون کس کا مخالف یا حق میں ہے۔ دو سونامیوں کے بعد اب یہ مقام آچکا ہے کہ وہ اپنے گرائیں عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کی صدا سنیں....
قمیص تیری کالی تے سوہنے پھلاں والی
بھانویں وسیں توں ولیت
اسی کرنی نئیں رعیت
تینوں لے کے جانا اے میانوالی