اتوار ‘ 1431 ھ‘ 17 ؍ جنوری 2010ء
ـ 17 جنوری ، 2010
مسلم لیگ (ن) ے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ تمام تحفظات کے باوجود حکومت کو کام کرنے کا موقع دینا ہو گا‘ حکومت غیر مستحکم کرنے میں فریق نہیں بنیں گے۔
بڑے میاں صاحب مغرب کی طرف جا رہے ہیں تو چھوٹے میاں صاحب مشرق کو‘ بہرحال دونوں بھائیوں کا اپنا اپنا نکتہ نظر ہے‘ تاہم میاں نواز شریف جس سمت میں سوچ رہے ہیں‘ وہ مثبت بھی ہے اور ملک بچائو بھی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جمہوریت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں۔ وہ یہ بھی بھانپ چکے ہیں کہ حکومت کو گرانے کیلئے ایک فریق بن چکا ہے جس کا وہ ہرگز حصہ نہیں بنیں گے بلکہ حکومت کو کام کرنے کا موقع دیں۔ ممکن ہے‘ ممکنہ فریق کی یہ بھی کوشش ہو کہ دونوں بھائیوں میں پھوٹ ڈالی جائے‘ جس کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
پاکستان دشمن عناصر یہ چاہتے ہیں کہ جمہوریت کو جام کرکے حکومت رخصت کردی جائے تاکہ ملک کا امن و امان تباہ ہو۔ میاں صاحب کے تحفظات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ حکومت سے خوش بھی نہیں کیونکہ میثاق جمہوریت گزرے چار سال ہو چکے ہیں‘ مگر تاحال اس پر کوئی عمل نہیں ہوا۔ میاں صاحب کی اس بات کا زرداری صاحب کو بطور خاص نوٹس لینا چاہئے کیونکہ میثاق جمہوریت ہی جمہوریت کے استحکام کی ضامن ہے۔
جہاں تک افواج پاکستان کا تعلق ہے‘ تو وہ سیاست سے کوسوں دور ہے اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض خوش اسلوبی سے ادا کر رہی ہے۔ یہی وہ بات ہے جو بھارت کے سینے میں کانٹے کی طرح چبھ رہی ہے۔ میاں نواز شریف چاہتے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے‘ اسکے بعد نئے الیکشن ہوں اور جہوریت رکے بغیر جیسی تیسی پٹڑی پر چلتی رہے۔ یہی ملک کے مفاد میں ہے اور یہی حالات کا تقاضہ بھی۔ میاں صاحب اور زرداری صاحب دونوں چاہتے ہیں کہ اپنے وزیروں اور دیگر ارکان کو شائستہ زبان استعمال کرنے کی تلقین کریں۔ بالخصوص گورنر صاحب کو بھی قدرے محتاط رہنے کی تلقین کردینی چاہئے‘ اس لئے کہ پنجاب ملک کا بڑا صوبہ ہے اور اس میں خلفشار کا پیدا ہونا پورے ملک کے مفاد میں نہیں۔
٭…٭…٭…٭
ماہر علم نجوم یاسین وٹو نے کہا ہے سورج گرہن پاکستان حکومت کیلئے نحس ہے۔
اگرچہ یاسین وٹو ملک کے ممتاز ماہر علم نجوم اور روحانی سکالر ہیں‘ اکثر ملکی حالات کے بارے میں پیش گوئیاں کرتے رہتے ہیں‘ انکی پیش گوئیوں کی حالت یہ ہے کہ اگر دس تعویز دینگے تو پانچ آدمیوں کا کام تو ویسے بھی ہو جائیگا‘ اس لحاظ سے تو پانچ آدمی تو انکے معتقد ہو جائیں گے‘ ویسے بسااوقات انکی پیش گوئیاں ملکی حالات کو پیش نظر رکھ کر انکے بارے میں مستقبل کی پیش بینی پر مبنی ہوتی ہیں۔ وہ کالم بھی لکھتے ہیں جس میں سیاسی پیش گوئیاں بکثرت ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اپوزیشن حکومت میں ٹکرائو کے اسباب بنتے نظر آرہے ہیں‘ لہٰذا ارباب حکومت اور اپوزیشن اجتماعی توبہ کریں۔ یاسین وٹو نے مزید کہا‘ حدیث نبویؐ ہے کہ ’’سورج یا چاند گرہن میں آجانا اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ اور اسکے جلال و جبروت کی ان نشانیوں میں سے ہے‘ جن کا کبھی کبھی ظہور ہوتا ہے‘ اللہ کے بندے عاجزی کے ساتھ قادر قہار کی عظمت کے سامنے جھک جائیں اور اس سے رحم کی بھیک مانگیں اور نماز کسوف ادا کریں۔‘‘
یاسین وٹو اپنے فن میں تاک ہیں اور اکثر انکی پیش گوئیاں اس لئے بھی پوری ہو جاتی ہیں کہ وہ زبردست اخبار بین ہیں‘ اس لئے اخباری معلومات اور اپنے ہنر کی کھچڑی پکا کر وہ پیش گوئی کردیا کرتے ہیں۔ بہرحال یاسین وٹو علم العداد اور دست شناسی کے ماہر ہیں‘ البتہ سورج گرہن کے نحس ہونے کی بات کرکے انہوں نے ملک کے ماحول کو نحس کر دیا۔
٭…٭…٭…٭
صدر زرداری نے کہا ہے شریف برادران کو اعتماد نہیں تو انکی مرضی‘ 73 کا آئین بحال کرینگے‘ ہر ماہ ایک ہفتے کیلئے لاہور میں دربار لگا کر کارکنوں کے مسائل سنوں گا۔
شریف برادران کا اعتماد میثاق جمہوریت پر عملدرآمد نہ ہونے سے متزلزل ہوا ہے البتہ یہ کمال کی بات ہے کہ انہیں وزیر اعظم گیلانی پر اعتماد ہے۔ صدر کا ہر ماہ ایک ہفتے کیلئے لاہور میں دربار لگانا اچھی بات ہے مگر وہ اس میں صرف کارکنوں کے مسائل ہی نہ سنیں بلکہ پورے شہر کے مسائل پر توجہ دیں۔ چھوٹی چھوٹی درخواستوں پر عملدرآمد کے بجائے وہ اس شہر نگاراں کے پرآشوب حالات کا مداوا بھی کریں۔ یہاں بدامنی‘ مہنگائی‘ بجلی‘ گیس کی لوڈشیڈنگ کے مستقل طور پر مسائل حل کریں تاکہ اہل دربار کو معلوم ہو کہ یہ دربار کوئی فلمی دربار نہیں‘ جلال الدین اکبر کا دربار ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ انہیں پنجاب اور بالخصوص پاکستان سے محبت ہے‘ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جیل میں سیکھی ہوئی پنجابی کو پنجاب میں استعمال کردیا۔ حکومت کی کامیابی اسی میں ہوتی ہے کہ عوام کیلئے کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دیا جائے اور اگر حکمران یہ نہ کر سکیں تو انکی اہلیت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
جہاں تک 73ء کے آئین کی بحالی کا تعلق ہے‘ تو یہ بات وہ کئی بار کہہ چکے ہیں‘ اب اس پر عمل کرنے کی باری ہے۔ وہ دربار لگائیں تو صرف کارکنوں کے مسائل ہی نہ سنیں‘ پورے پنجاب کے مسائل سنیں‘ اس لئے کہ صرف پارٹی کارکنوں کے صدر نہیں‘ پورے ملک کے عوام کے صدر ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں