بدھ ‘ 2؍ربیع الاوّل 1431ھ‘ 17 ؍ فروری 2010ء

ـ 17 فروری ، 2010
بی بی سی نے کہا ہے ججوں کی تعیناتی کے سلسلے میں زرداری نے پھر کیلے کے چھلکے پر پائوں رکھ دیا۔ چک سے بچانے کیلئے ایک بار پھر سے گیلانی کو آگے آنا پڑا۔ مگر انہوں نے چُک کے درد میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
بات یہ ہے کہ زرداری صاحب کے مشیر وزیر کیلے بہت کھاتے ہیں اور چھلکے ایوان صدر میں پھینک دیتے ہیں اور وہ اتفاق سے چھلکوں پر پائوں رکھنے کے بڑے شوقین ہیں‘ اسلئے ایک بار پھر چھلکے پر پائوں رکھ دیا…؎
نا اے درد لکے دا نا اے پئی اے چُک
سچی گل اے محمد بخشا وچوں گئی اے مُک
صدر صاحب کو مسائل حل کرنے کے بجائے نادر مسائل جمع کرنے کا شوق شہید بی بی کے زمانے سے ہے‘ بی بی سی نے یہ بھی خیال ظاہر کیا ہے کہ سب ہونا ہی تھا لیکن ویلنٹائن ڈے کے بعد ہوتا تو اچھا تھا‘ بات یہ ہے کہ ایوان صدر میں پھول بہت کم ہیں اور کانٹے زیادہ‘ اس لئے جو ماحضر تھا‘ وہ عدلیہ کو بطور گلدستہ پیش کر دیا۔ محبت کا دن تھا‘ ایسے دن کے موقع پر جلد بازی کے فیصلے کشیدگی‘ گالم گلوچ‘ تیز مزاجی الزام تراشی‘ پتلہ سوزی کی فضاء اچھی نہیں لگتی۔ اب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جو عدالت کا فیصلہ ہو گا‘ وہی ہمارا فیصلہ ہو گا۔ اب تو فاروق نائیک‘ بابر اعوان اور لطیف کھوسہ عدالت کے باہر پھر تھڑا لگالیں گے لیکن آپ کہاں جائیں گے کچھ اپنا ٹھکانہ کرلیں۔
٭…٭…٭…٭
پنجاب ٹیچرز یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ دیہاتوں میں اساتذہ کو مراعات دی جائیں۔
یہ بڑی اچھی بات ہو گی کہ حکومت پنجاب دیہاتوں میں اساتذہ کو کرایہ الائونس اور ہائوس الائونس دے مگر دیہاتوں میں پڑھانے والے اساتذہ حاضری لگا کر اپنی کرسیوں پر بیٹھے رہا کریں اور چھٹی ہونے تک طلبہ کو علمی مراعات دیا کریں‘ ہماری ناخواندگی کا بیشتر حصہ دیہاتوں میں ہے‘ دیہاتی بڑے سیانے اور گنڈ کے پکے ہوتے ہیں‘ اگر انہیں تعلیم بھی دیدی جائے تو وہ شہریوں کو دس قدم پیچھے چھوڑ جائیں گے۔ دیہاتوں میں جو سکول کام کر رہے ہیں‘ ان میں سے اکثر سکول نہیں گائے بھینسیں باندھنے کے باڑے لگتے ہیں۔ بعض سکولوں کی تو چھتیں اور دیواریں ہی نہیں ہیں۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ اس نے درخت اگا رکھے ہیں‘ وگرنہ علم تپتی دھوپ میں پگھلتا رہتا۔
اگر دیہاتوں کو ترقی دینی ہے تو وہاں زیادہ سے زیادہ سکول قائم کئے جائیں مگر سکول ہونے چاہئیں محکمہ تعلیم کی بھول نہیں ہونی چاہئے کہ وہ انکی خبر تک نہیں لیتا۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ ٹاٹوں پر بیٹھ کر لوگوں نے بڑی بڑی ترقیاں حاصل کیں اگر طلبہ کو کرسیاں اور ڈیسک فراہم کر دیئے جائیں تو وہ کتنی زیادہ بلندی پر جا سکتے ہیں۔ جن آٹھ ہزار لٹیروں کی دولت باہر پڑی ہوئی ہے‘ وہ واپس لا کر ساری کی ساری تعلیم پر خرچ کردی جائے تو یہ ملک ناخواندگی کی دلدل سے باہر نکل آئیگا‘ سنا ہے کہ گھوسٹ سکول اب بھی موجود ہیں اور ان میں بھوت ناچ رہے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے دوسرے روز بھی ریلیاں نکالیں اور صدر زرداری‘ میاں نواز شریف کے پُتلے نذر آتش کئے۔ وکلا نے ملک گیر عدالتی بائیکاٹ کیا‘ مظاہرے اور ریلیاں نکالیں۔
پُتلے اسلئے جلتے ہیں کہ دل جلتے ہیں دونوں پارٹیوں کے قائدین کارکنوں کو پُتلے جلانے اور تصادم سے روکنے کے بیانات دے رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں بھی دنگل کی تیاریاں ہو رہی ہیں پہلوان چودھری نثار پھٹہ نواز شریف نے قومی اسمبلی کی سپیکر سے تکرار کرتے ہوئے کہا آپ دنگل کیلئے تیار ہیں تو پھر ہم بھی تیار ہیں حکومت 18 فروری سے قبل ججوں کی تقرری کا نوٹیفکیشن واپس لے ورنہ پیاز اور چھتر کھانے والی بات ہو گی‘ جن لوگوں کو پیاز اور جوتیوں کی ضرورت ہو وہ 18 فروری کو دنگل میں پہنچ جائیں۔ چودھری نثار ہیں تو بڑے سمجھ دار مگر پیپلز پارٹی کی مخالفت میں ہو جاتے ہیں بے قرار۔ پورے ملک میں دنگل تو ہو رہی رہا ہے کہ اب پارلیمنٹ ہاؤس میں بھی اس کا اہتمام کیا جا رہا ہے جشنِ بہاراں منانے کا یہ اچھا طریقہ ہے دوسری جانب صدر صاحب نے فرمایا ہے ججز کی بحالی کا ایگزیکٹو آرڈر توثیق کیلئے اب پارلیمنٹ میں پیش ہو گا۔ اسکے بعد کیا پیش ہو گا یہ سب کے پیش پیش ہے۔ وکلا نے سڑکوں پر مقدمے لڑنے شروع کر دیے ہیں اس لئے چیف جسٹس کو انکے عدالتی بائیکاٹ کے باعث تمام مقدمات کی سماعت ملتوی کرنا پڑی۔ پورے ملک میں ایک ہی سوال ہے کہ اب کیا ہو گا؟ جبکہ جواب کا کہیں نشان نظر نہیں آتا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا پیار پیاز بن چکا ہے جس کی طرف چودھری نثار نے بھی اشارہ کیا ہے۔ میثاق جمہوریت بیچاری کے ساتھ بھی این آر او والا سلوک کیا گیا۔ دونوں پارٹیوں کی یاری جس کے ٹوٹنے کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اب ٹُٹ گئی تڑک کر کے۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ راجہ ریاض اور تنویر اشرف کائرہ نے حکومت کے خلاف ریلی نکالی۔
لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت نہیں جمہوریت کی اس سے بڑی مثال کیا ہو سکتی ہے کہ پنجاب حکومت میں شامل پیپلز پارٹی کے دو وزیروں نے اپنی ہی حکومت کیخلاف ریلی نکال دی۔ ریلی تو بڑی چھوٹی سی چیز ہوتی ہے امکان ہے ملک بھر میں جمہوریت کی پوری ریل نکال دی جائے جس پر بیٹھ کر لوگ آمریت کے سٹیشن کی طرف چل پڑینگے۔ اس ریلی سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت کے اندر بھی ایک پنجاب حکومت ہے گورنر صاحب بھی پیپلز پارٹی کے لیڈر ہیں وہ اگرچہ پنجاب حکومت میں شامل نہیں لیکن شامل باجا ضرور ہیں۔ سینئر وزیر راجہ ریاض نے کہا ہے ججز تقرری کا سپریم کورٹ میں دفاع کریں گے حالانکہ ہم اپنے ملک کا دفاع نہیں کر سکتے امریکا نے ایک ہی دن میں 4 ڈرون حملے کر دیے اور بے گناہ قبائلیوں کو شہید کر دیا۔ پیپلز پارٹی کیلئے اب حکومت میں قدم رکھنا …؎
شہادت گہِ اُلفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں حکومت کرنا
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter