بنگلہ دیش کا قیام بھارت کا کارنامہ ہے‘ بھارت کے بجائے بنگلہ دیش سے تجارت کر سکتے ہیں‘ مجید نظامی۔
40 سال قبل سبز ہلالی پرچم ڈھاکہ میں تار تار ہوا‘ بھارت کی سازشیں کامیاب ہوئی‘ مجیب الرحمان اور مولانا بھاشانی نے بھارتی کردار کو مضبوط کیا‘ ادھر تم‘ ادھر ہم‘ کا نعرہ لگا کر بھٹو نے بنگلہ دیش بنانے پر مہر ثبت کی۔ غور کریں کہ پاکستان کو دولخت کرنےوالوں کےساتھ کیا ہوا۔ اندرا گاندھی خاندان قتل ہو گیا‘ اٹیلین بہو سونیا گاندھی پارٹی پر قابض ہے‘ ذوالفقار بھٹو کا خاندان قتل ہو گیا‘ آج داماد پیپلز پارٹی کو چلا رہا ہے۔ مجیب الرحمان کا خاندان قتل‘ صرف حسینہ واجد (بیٹی) پارٹی معاملات چلا رہی ہے۔ یحییٰ خان گمنامی میںذلت کی موت مر گیا‘ کسی کو آج تک قبر کا علم نہیں۔ جنرل نیازی نے ملکی شان بچانے کے بجائے اپنی جان بچائی۔ اکثر بچے یہ نعرہ لگاتے تھے‘ جو نماز پڑھے‘ وہ نمازی‘ جنگ میں جو بچ جائے‘ وہ غازی‘ دشمن کے سامنے جو ہتھیار پھینک دے‘ وہ نیازی۔ آج بلوچوں میں وہی بنگالیوں والی نفرتیں جنم لے رہی ہیں۔ بھارتی ایجنسی ”را“ بلوچ جوانوں کو علیحدگی پر اکسا رہی ہے لیکن سانحہ 1971ءسے کوئی سبق حاصل کرنےوالا لیڈر سامنے نہیں آرہا۔ حبیب جالب کے اشعار ہمیں کچھ یاد دلا رہے ہیں....
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
بنگالی مخلص پاکستانی تھے‘ لیکن اقتدار کے لالچی سیاست دان ان میں نفرت بھرتے رہے‘ آج ہمیں کمر میں چھرا گھونپنے والے بھارت سے لین دین چھوڑ کر بنگلہ دیش سے تجارت کرنی چاہیے اور غدار کی بیٹی حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کےساتھ ہی بنگالیوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر آج دونوں اطراف سے دو قومی نظریے کے حامی افراد تلخیاں بھلانے اور ایک دوسرے کو سینے سے لگانے کیلئے میدان میں نکل آئیں تو کھوئی ہوئی منزل واپس مل سکتی ہے۔ ڈھاکہ پر سبز ہلالی پرچم لہرایا جا سکتا ہے‘ جب ثقافت‘ نظریہ‘ دین اور منزل ایک ہے تو پھر دیر کس بات کی....؟حمید گل کہتے ہیں دو ملک ایک قوم‘ مجید نظامی کنفیڈریشن کی بات کرتے ہیں‘ منزل ایک ہی ہے۔
٭....٭....٭....٭
پولیس میں بھرتی ہو کر بتا سکتا ہوں کہ ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے یا نہیں‘ وزیراعلیٰ بلوچستان۔
اسلم رئیسانی وزیر اعلیٰ سے زیادہ ایکٹر لگتے ہیں‘ انہیں سٹیج ڈرامے میں کبھی موقع نہیں ملا ورنہ وہ آج سٹیج کے بڑے فنکار ہوتے۔ میڈیا کے سامنے آنے کی دیر ہوتی ہے‘ رئیسانی کے اندر چھپا فنکار جاگ اٹھتا ہے۔ کبھی ڈگری پر طنز و مزاح‘ کبھی ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والوں کے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنا‘ کہیں جگت بازی کرکے سب کو ہنسانا کوئی اس بابے سے سیکھے۔ لیکن اسلم رئیسانی صاحب اگر کبھی لاہور آنا ہوا تو یہاں کے میڈیا کے سامنے فنکار بننے کی کوشش مت کرنا کیونکہ جگت بازی میں یہ ٹھاکر‘ ساجن سے دوچار ہاتھ آگے ہیں۔ وہ بے چارے انہی سے سیکھ کر سٹیج پر لوگوں کو ہنساتے ہیں۔ بلوچستان کے میڈیا والے تو آپکی سرداری کا لحاظ رکھتے ہونگے‘ یہاں تو سردار کھوسہ صاحب ہزار دفعہ لڑ چکے ہیں کہ مجھے پورے نام سے پکارا جائے لیکن شرارتی بچوں کی طرح میڈیا والے کوئی نہ کوئی کمی چھوڑ جاتے ہیں۔ خیر اب تو تنگ ہو کرسردار کھوسہ نے بھی کہنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ لڑکے بھی کسی سردار سے اپنے آپ کو کم نہیں سمجھتے۔ ذوق نے کہا تھا....
گلہائے رنگا رنگ سے ہے رونق چمن
اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
اگر سبھی انسان ایک جیسے ہوتے تو منہ پر 12 بجا کر بیٹھے رہتے۔ اللہ نے مختلف مزاج دیکر چمن کی رونق کو دوبالا کر دیا ہے۔ رئیسانی بابا کو پولیس میں بھرتی کرنے کی ضرورت نہیں‘ صرف ایک گھنٹے کیلئے بغیر پولیس سکواڈ کے انہیں کوئٹہ کے بازار میں بھیج دیں‘ انہیں تو پتہ نہیں چلے گا لیکن انکے خاندان کے چودہ طبق روشن ہو جائینگے۔
٭....٭....٭....٭
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی نے خودکشی کرلی۔
مقبوضہ وادی میں آج ”سکھا شاہی“ کا قانون ہے‘ پردھان منتری کی پگڑی اتنی بھاری ہے کہ عقل ہی ختم ہو چکی ہے‘ بس سونیا کی بات سن سکتا ہے‘ سوچ کر رائے دینے کی گنجائش نہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں عملی طور پر جنگ ہار چکا ہے بس نہتے کشمیریوں کو ڈرا دھمکا کر محصور کیا ہوا ہے۔ مشرف اگر کولن پاول کی فون کال پر لم لیٹ نہ ہوتا تو یقیناً مجاہدین آج تک سری نگر پر سبز ہلالی پرچم لہرا چکے ہوتے۔ مشرف ایسے لیٹ گیا تھا‘ جیسے خرگوش شکاری کو دیکھ کر سانس لینا بند کر لیتاہے۔
بھارت کے 2007ءکے بعد 231 فوجیوں نے خودکشی کی ہے اگر آج مجاہدین وادی میں موجود ہوتے تو خودکشیوں کی تعداد کئی ہزار تک پہنچ چکی ہوتی۔ بس سردارجی لنگوٹ کسنے والے تھے کہ مشرف نے مجاہدین اسلام کی کمر میں ایسا گھاﺅ لگایا کہ ہنود اور یہود مل کر اتنا نقصان نہیں پہنچا سکے جتنا اکیلے لال مسجد کے بچوں کے قاتل نے پہنچایا۔
ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ میں جنگل کے درختوں کو کاٹ کر صفایا کر دونگا‘ درختوں نے بادشاہ سے ٹکر لینے کا اعلان کر دیا۔ بادشاہ نے کلہاڑے منگوالئے لیکن درخت مقابلہ کرنے کیلئے تیار تھے۔ انہوں نے کہا کہ لوہے کے کلہاڑے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ لیکن قاصد نے آکر خبر دی کہ بادشاہ درختوں کو کاٹ کر ”دستے“ بنا رہا ہے تو درختوں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے اور ہار تسلیم کرلی۔ درختوں کے بادشاہ نے آکر اعلان کیا‘ جب تک کلہاڑے اکیلے تھے‘ تو ہم ان کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار تھے لیکن جب ہمارے اپنے درختوں نے ”دستے“ بن کر غداری کر دی تو پھر ہار ہمارا مقدر تھی۔ اگر اپنے غداری نہ کرتے تو ہم اکیلے لوہے کے کلہاڑوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار تھے لیکن اپنوں کی غداری کے بعد ہار ہی ہمارا مقدر بن چکی تھی۔ اس لئے ہم نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔
اسی طرح پرویز مشرف نے مسلمانوں سے جب غداری کی تو پھر ہم امریکہ کا مقابلہ کرتے یا غداروں کا؟ اسی طرح میر جعفر اور میر صادق کے کردار سامنے نہ آتے تو آج کشمیر بھی پاکستان کا حصہ ہوتا۔