منگل،6؍رمضان المبارک‘1431ھ‘17 ؍ اگست 2010ء

ـ 17 اگست ، 2010
جنرل (ر) حمید گل نے کہا ہے کہ امریکہ کا باپ بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام تک نہیں پہنچ سکتا‘ پاکستان قائم رہنے کیلئے بنا ہے‘ قیامت تک کوئی بھی طاقت اس کیخلاف سازش میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔
امریکہ کا باپ تو امریکہ میں آرام سے بیٹھا ہے‘ اس نے اپنے بچے بھیج دیئے ہیں‘ جو موقع کی تلاش میں ہیں‘ سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم انہیں اندر آنے ہی کیوں دیتے ہیں؟ جنرل صاحب کے بیانات تو خاصے دلکشا ہوتے ہیں‘ مگر پالیسیاں بنانے والوں کے اعمال سے خدشات بڑھ جاتے ہیں اس لئے کہ وہ خود پالیسیاں نہیں بناتے‘ وہ بھی امریکی بچے جمورے ساتھ لے کر آتے ہیں۔
پاکستان قائم رہنے کیلئے بنا ہے‘ مگر ہم نے اسے لوٹ مار کیلئے وقف کر دیا ہے‘ جہاں تک قیامت کا تعلق ہے تو وہ ہر روز آتی ہے‘ مگر پاکستان پھر بھی اللہ کے فضل سے قائم دائم ہے اور انشاء اللہ قائم رہے گا لیکن ہمارے حکمران اپنے پائوں پر قائم نہیں۔ اب تو امریکہ نے بھارت کو بھی اپنا سفلی بیٹا بنالیا ہے‘ جو برابر پاکستان کیخلاف سفلی عملیات کرتا رہتا ہے۔ پاکستان کے پاس اس کا توڑ تو ہے مگر وہ اسکے بجائے امن آشا مہم سے کام لے رہا ہے اور اسی بنیئے کی بغل میں گھسنے کی کوشش کرتا ہے‘ جس کے سبب مملکت خداداد پاکستان طرح طرح کی مصیبتوں میں گرفتار ہے۔ بھارت اور پاکستان کے گانے بجانے ناچنے والے دونوں ملکوں کو ایک ملک قرار دے رہے ہیں اور ہم خاموش ہیں۔
٭…٭…٭…٭
سرینگر میں بھارتی یوم آزادی کی تقریب میں کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر جوتا پھینکا گیا‘ سابق سب انسپکٹر عبدالاحد جان نے کشمیر کی آزادی کا نعرہ لگایا اور جوتا عمر عبداللہ کے قریب جا گرا۔ اس پر عمر عبداللہ نے کہا‘ شکر ہے مجھ پر جوتا پھینکا گیا‘ کسی نے کوئی پتھر نہیں دے مارا۔
عمر عبداللہ جوتیاں کھاکے بے مزا نہ ہوا‘ انکی بدمزگی کیلئے اب پتھر کی ضرورت ہے‘ جس کیلئے کشمیری خواتین ہی کافی ہیں‘ کیونکہ وہ بھی اب ظلم سہ سہ کر گھروں سے باہر جہاد کشمیر میں شامل ہونے کیلئے نکل آئی ہیں۔ کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ کو چاہیے تھا کہ بھارت کی آزادی کا دن منانے دلی چلے جاتے‘ وہاں ان پر پھول برستے۔
ہر قوم میں غدار پائے جاتے ہیں‘ جنہیں اغیار پرانے جوتے کی طرح استعمال کرتے ہیں‘ عمر عبداللہ اور ان کا خانوادہ بھارتی غاصبوں کیلئے بڑی نعمت ہے‘ بھارت کو اپنے یوم آزادی پر کشمیر میں یوم سیاہ کی سیاہی مبارک ہو‘ کیونکہ یہ سیاہی عمر عبداللہ سمیت بھارتی نیتائوں کے چہرے پر نمایاں ہے‘ جو ساری دنیا کو نظر آرہی ہے۔ مگر امریکہ کے سیاہ رو کو دکھائی نہیں دیتی۔
اک گردن مخلوق کہ ہر حال میں خم ہے
اک بازوئے قاتل ہے کہ خوں ریز بہت ہے
٭…٭…٭…٭
گورنر پنجاب نے کہا ہے‘ نواز شریف کا طرز عمل درست ہے‘ شہباز شریف سولو فلائٹ نہ کریں۔
شکر ہے کہ نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب نہیں‘ وگرنہ گورنر صاحب کو وہ بھی کیونکر بھاتے؟ بہرصورت اب اگر گورنر صاحب نے سولو فلائٹ پر اعتراض کیا ہے تو چھوٹے میاں صاحب انہیں بھی ساتھ لے لیں‘ مل جل کر ایک پریس کانفرنس بھی کرلیں‘ شاید اس طرح گورنر کی محرومی دور ہو اور وہ شہباز شریف کو بھی نواز شریف ہی سمجھ لیں۔
پنجاب کا صوبہ سب سے زیادہ سیلاب سے متاثر ہو رہا ہے‘ اس موقع پر اگر گورنر وزیر اعلیٰ کے ساتھ مل کر کام کریں تو رنگ چوکھا آئیگا اور سیلاب زدگان کو بھی زیادہ فائدہ پہنچے گا۔
لگتا ہے کہ نواز شریف کے وزیراعظم کے ساتھ مل کر بیٹھنے اور کام کرنے کے گورنر صاحب پر کافی مثبت اثرات پڑے ہیں‘ باقی ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ شہباز ہمیشہ سولو فلائٹ ہی کرتا ہے۔ انشاء اللہ میاں شہباز شریف اب جب پرواز کرینگے‘ تو گورنر صاحب کو بھی پنجوں میں لے کر اڑان بھریں گے۔ بس گورنر صاحب کو خاصا محتاط رہنا پڑیگا کہیں پانی میں نہ گر جائیں۔ دیکھتے ہیں گورنر اور وزیر اعلیٰ کے اکٹھے پرواز کی خبر کب آتی ہے۔
٭…٭…٭…٭
پنجاب کے سینئر وزیر راجہ ریاض نے کہا ہے‘ زرداری کے غیرملکی دوروں کی وجہ سے امداد آنا شروع ہو گئی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ صدر زرداری کے دورے رنگ لائے اور امداد آنی شروع ہو گئی‘ یہ وقت ہے ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کا‘ تنقید کا نہیں‘ اگر بعض وزراء سیلاب زدگان کی مدد کرتے ہوئے فوٹو سیشن بھی کرا لیتے ہیں تو کوئی بات نہیں‘ اصل مقصد تو مدد ہے جو جس حال میں ہو‘ مفید ہے۔ صدر زرداری سے جو کچھ بن پڑتا ہے‘ وہ کر رہے ہیں‘ بعض کام انکے بس میں نہیں‘ اس لئے نہیں کر پاتے۔ یہ مجبوریاں تو پچھلے 63 برسوں سے جاری ہیں۔
یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ اپوزپشن لیڈر میاں نواز شریف نے کہہ دیا ہے کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں حکومت اور اپوزیشن میں کوئی فرق نہیں روا رکھتے‘ عمران خان اور شیخ رشید کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی تنقید کی توپیں کچھ عرصہ کیلئے خاموش رکھیں بلکہ دونوں حضرات پانی میں اتر جائیں اور اپنی جیبیں کھول کر اپنی ڈوبتی ہوئی قوم کا سہارا بنیں۔ ہمیں توقع ہے کہ امدادی کاموں میں وہ بھی مصروف ہونگے‘ یہ وقت اتفاق و اتحاد اور قربانی کا ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter