پیر‘ 21 صفر المظفر 1433ھ‘ 16 جنوری 2012ئ
ـ 16 جنوری ، 2012
دنیا کی کم عمر ترین آئی ٹی ماہر پاکستانی بچی ارفع کریم انتقال کرگئیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ عشروں کا سفر برسوں میں طے کیا۔ ایک طلسماتی گڑیا تھی بلکہ ہمارا اصل زر تھی جو ہم کو شعلہ مستعجل دکھا کر رخصت ہوگئی۔ آئی ٹی کی دنیا اور مائیکرو سافٹ انجینئرنگ میں تہلکہ مچانے والی یہ نوعمر ماہر ترین بچی ایک مثال قائم کرگئی، یہ گلِ نوشگفتہ اپنی مہک چھوڑ گیا اور بکھر کراَمر ہوگیا۔دنیا اندازہ لگا سکتی ہے کہ پاکستانی بچوں بچیوں کا آئی کیو کس درجے پر ہے لیکن یہ بڑی افسوسناک بات ہے کہ ہمارے قیمتی اذہان کو دوسری قومیں اچک کر لے جاتی ہیں اور آج بھی امریکہ کی سائنسی و طبی ترقی میں پاکستانیوں کا بڑا ہاتھ ہے،اللہ نے جب اتنی صلاحیتوں سے اس قوم کو نوازا تو علم کی اورعلمی اداروں کی بھی اتنی ہی قدر ہونی چاہئے تھی اس طرح یہ ملک ترقی کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہوتا مگر یہاں تو بچیوں بچوں کیلئے بنائے جانے والے سکولوں میں چودھریوں کی بھینسیں بندھی ہوئی ہیں،تعلیم کیلئے ڈیڑھ فیصد بجٹ ایک شرمناک حصہ ہے،البتہ عیش و نشاط کیلئے اور باہر کے بینک بھرنے کیلئے حکمرانوں کے پاس بہت کچھ ہے ، قرضے لیکر ذاتی مفادات پر خرچ کرنا اور تعلیم جیسے اہم شعبے کو توجہ نہ دینا آج ہمارے معاشی زوال کا باعث ہے،ارفع کریم جیسی کتنی بچیاں موجود ہوں گی مگر اُن کی تعلیمی پرداخت نہ ہونے کے باعث وہ ضائع ہورہی ہیں ، وزیراعلیٰ پنجاب کا مستحسن اقدام ہے کہ انہوں نے ارفع کریم کے جنازے میں شرکت کی....
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہ¿ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
٭....٭....٭....٭....٭
عمران خان کہتے ہیں: نواز شریف اپوزیشن کے اتحاد میں مخلص ہیںتو اُن کے ارکان پنجاب اسمبلی سے استعفے دیں۔سبحان اللہ سیاست گری کی یہ ترکیب تو گویا بال ٹمپرنگ ہے، اپوزیشن کے اتحاد کیلئے پنجاب کی چلتی حکومت گرانا تو حکمرانوں کو اپوزیشن میں شامل کرنے کی کوشش ہے۔ مسلم لیگ نون کی قیادت اپنی پوری جمہوری قوت کے ساتھ موجود ہے، پارلیمنٹ میں موجود ارکان کو اپوزیشن اتحاد کی شکل دے کر حکومت کو چلتا کریں یا پھر سیاست سے پہلے یہ ریاست ریاست کھیلنا بند کرکے خود چلتے بنیں۔ وہ اس سے بھی آگے بڑھیں اور حکمرانوں کو حزبِ اختلاف میں شامل ہونے کیلئے استعفوں پر آمادہ کریں ایک ہی ضرب میں سب کام تمام ہوجائے گا۔عمران سیاستدان بنیں وزیر داخلہ رحمان نہ بنیں، کہیں اُن کے دیکھتے دیکھتے یہ نہ ہوجائے....
میرے ویہندیاں ویہندیاں کئی ہوگئے
تے میں کئیاں دے ویہندیاں ہوجانا
آخروہ سیاستدان ہو ہی جائیں گے ابھی تو وہ فقط سونامی سپیشلسٹ ہیں، کہیں یہ نہ ہو کہ یہ ایکسل کی جھاگ کی طرح بیٹھ ہی نہ جائیں۔ گُرکی بات جو ہم کسی کو بتاتے تو نہیں لیکن وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوسکتے ہیں بشرطیکہ وہ مسلم لیگ نون سمیت کئی اور ارکان قومی اسمبلی کو استعفیٰ دینے کیلئے تیار کریں، حکومت خود بخود گھر چلی جائے گی، پنجاب اسمبلی کے مسلم لیگ نون کے ارکان استعفیٰ دے بھی دیں تو حکومت کو کیا فرق پڑے گا۔
٭....٭....٭....٭....٭
سابق صدر مشرف نے سی این این کوانٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے: اپنی زندگی داﺅ پر لگا کر واپس جانے کوتیار ہوں۔ آخر سچی بات مشرف کے منہ سے نکل ہی گئی کیونکہ یہاں اُن کیلئے، زندگی داﺅ پر لگانے کے علاوہ تو کوئی داﺅ ہی نہیں، انہوںنے اپنی پارٹی کا نام آل پاکستان مسلم لیگ رکھ کر ٹھگنے کو طویل القامت قرار دیکر ثابت کردیا کہ ” مجھاں دے کھمب نئیں ہوندے“ پرویز جواب مشرف کہلاتے ہیں، ذرا اپنے شَرف کو ہاتھ ماریں اور آئے دن یہ آنے کی بات کرکے وہ دراصل زندگی سے پیار کی بات کرتے ہیں اسلئے وہ کبھی نہیں آئینگے کیونکہ ابھی اتنا ہوش باقی ہے کہ پھندے سے گردن دور رکھیں۔ اُنہیں شاید حسنِ مشرق کی یاد ستاتی ہے تو وہ اول فول بیان دے دیتے ہیں اُن کیلئے زیادہ مناسب ہے کہ وہ اپنی دلی والی حویلی چلے جائیں وہاں سے بالی وڈ دور نہیں، پیسے کی اُن کے پاس کمی نہیں آخر وہ کس روز کام آئے گا۔انہوں نے اب تک کتنے بدن جان سے اور کتنے شیشے مے گلفام سے خالی کردئیے ، شیشے تو قیامت کو بولیں گے مگر حفضہ مدرسے کی سینکڑوں روحیں اُن کے تعاقب میں ہیں، کہیں آنے کی بات وہ تو نہیںکہلواتیں؟ مشرف نے قوم کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی تفصیل یوں ہے کہ سیٹھ نے پڑوسی سے کہا افسوس ہے کہ میری مرغی آپکے پودے کھا گئی،پڑوسی نے کہا کوئی بات نہیں میرا کتا آپ کی مرغی کھا گیا ہے،حساب برابر ہوگیا سیٹھ نے کہا: حساب برابر نہیں ہوا کیونکہ آپ کا کتا میری کار کے نیچے آکر مر گیا ہے،اُن کیلئے یہ شعر بھی ایک تحفہ ہے....
مگر یہ پیکرِ خاکی خودی سے ہے خالی
فقط نیام ہے تو زر نگار و بے شمشیر
٭....٭....٭....٭....٭
صحرا کا پھول کہلانے والی شامی خاتونِ اول اسماءالاسد اپنے شورش زدہ ملک میں دلکشی کھونے لگیں۔ صحرا کا پھول عرب دنیا میں بڑی شہرت رکھتا ہے،اسے عرار کہتے ہیں اس کی رونق تھوڑی دیر کیلئے ہوتی اور شام ہوتے ہی مرجھا جاتا ہے اسی لئے کسی عرب شاعر کا مصرع ہے ....ع
فما بعد العشیة من عرار
شام کے بعد عرار مرجھا جاتا ہے
خوبصورتی اللہ کی دین ہے ،جسے دے اور اس کی پہچان نزاکت ہے کہ خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے،گلشنِ شام کی شام ہوچکی ہے اور خدا غارت کرے اس گلچیںامریکہ کو جس نے چمنستان اسلام کے کتنے پھول توڑ لئے، اسماءالاسد خاتون اول اور حسنِ اول ہیں لیکن سازشوں کے گرم تھپیڑوں نے اس گل سر سبد کے خدوخال کو بری طرح متاثر کردیا ہے،یہ اسماءایک نہیں لاکھوں ہیں جو پورے عالم اسلام میں امریکہ کے دستِ ستم گر کا شکار ہیں وہ پریشان و خستہ حال ہیں، خواتین نازک ہوتی ہیں، زمانے کی دھوپ زیادہ دیر نہیں سہہ سکتیں مردوں کو تو کجاصرف صنفِ نازک ہی کا حساب لگایاجائے تو امت مسلمہ کے کتنے گلہائے مہک آفرین اس نے نوچ لئے۔ عراق، افغانستان،فلسطین اور اب پاکستان میں کتنی ہی گلرنگ خواتین امریکی بارود اور ڈرونزکی نذر ہوگئی ہیں۔ عرب لیگ اور او آئی سی کو شام کے حالات ٹھیک کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے ،وگرنہ بیروت اپنا حسن کھودے گا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں