وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے‘ عدلیہ سے معاملہ مسئلہ کشمیر نہیں‘ جو حل نہ ہو‘ ججوں کی تقرری کا فیصلہ سپریم کورٹ کریگی‘ فیصلے کبھی درست اور کبھی غلط بھی ہو سکتے ہیں۔
گویا مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا البتہ ممکن ہے گیلانی صاحب کی خوش خیالی سے عدلیہ کا معاملہ حل ہو جائے‘ انہوں نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ حکومتی فیصلہ غلط ہے‘ انکے بقول بعض ماہرین (منافقین) اب بھی حکومتی فیصلے کو درست قرار دے رہے ہیں۔ بہرحال ان کا یہ کہنا اچھا ہے کہ ہم عدالت میں اپنا مؤقف پیش کرینگے‘ غلطی کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ وزیراعظم کشتیوں کا پل ہیں‘ جس کے رسے جھول رہے ہیں‘ البتہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ وہ اب بھی جمہوریت اور نظام کو کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جذباتی قوم ہیں‘ حالانکہ کہنا یہ چاہئے تھا کہ ہم جذباتی حکمران ہیں‘ اس لئے جمہوریت کو پنپنے کا موقع نہیں مل سکا۔
لگتا ہے کہ صدر آصف علی زرداری بھی کچھ ٹھنڈے ہوئے ہیں اور انہوں نے کہہ دیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے کارکن مظاہروں میں پتلے جلانے اور اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جماعتوں کی دل آزاری والا کوئی کام نہ کیا جائے‘ خدا کرے کہ صدر صاحب وزیراعظم کے مشوروں پر عمل کریں اور ان مشیروں بے پیروں کو ایک طرف کر دیں‘ اسی میں پیپلز پارٹی کی جے ہے اور انکی حکومت کا بچائو بھی۔
٭…٭…٭…٭
بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان میں بدلتے سیاسی حالات کے پیش نظر مذاکرات نتیجہ خیز ہونے کی امید نہیں۔
پاکستان کا مذاکرات کے جن پتوں پر تکیہ تھا‘ وہ ہوا دینے لگے ہیں۔ مذاکرات کی قلعی کھل چکی ہے‘ بھارتی حیل و حجت بہانوں اور منافقتوں کا اظہار شروع ہو چکا ہے‘ چناب کا پانی پھر روک لیا گیا ہے‘ تنازعہ کشن گنگا ڈیم بھرنے کیلئے طویل سرنگ بنانے کا فیصلہ ہو چکا ہے‘ سرحدی گائوں بٹل ناطر میں بھارتی افواج کی گولہ باری شروع ہو چکی ہے اور چدمبرم نے فرمایا ہے‘ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی سے مشروط ہے۔
اس کو کہتے ہیں دشمنی کہ پاکستان پر ذرا سا کمزور وقت آیا تو مذاکرات پھر ’’مذاق رات‘‘ ہو گئے۔ نظریہ پاکستان کانفرنس میں بجا طور پر کہا گیا ہے کہ بھارت سے پینگیں بڑھانے کے بجائے کشمیر اور پانی کے مسائل حل کرائے جائیں‘ مذاکرات کے بجائے قوم کو اعتبار میں لیا جائے۔ ڈرون حملے بند اور لاپتہ افراد بازیاب کرائے جائیں۔
خدا کا شکر ہے کہ جناب مجید نظامی کی کوششوں سے نظریہ پاکستان اور اسکے تقاضوں کی شمع جل رہی ہے۔ بھارت پاکستان کا وقت ضائع کر رہا ہے اور اپنا وقت کیش کرا رہا ہے۔ یہ مذاکرات کا ہیر پھیر شہ رگ نہ چھڑوا سکے گا اور نہ ہی پانی کا مسئلہ حل ہو گا۔ نام نہاد ممبئی حملوں کی تکرار کشمیر کے حل سے فرار کی کوشش ہے۔
بھارت ایک کمینہ دشمن ہے اور یہ سچ ہے کہ وہ امریکہ اسرائیل سے مل کر قیامت تک پاکستان سے دشمنی رکھے گا ‘ ہم نے دوستی کا ہاتھ بڑھا کر اپنا ہاتھ زخمی کرلیا ہے
نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کِسے ناں پایا
کِکر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا
٭…٭…٭…٭
گورنر پنجاب نے نواز شریف کو ویلنٹائن ڈے پر گلدستہ بھجوایا ہے۔
گلدستے کے پھولوں میں کانٹے بھی ہونگے اسی لئے نواز شریف کو کہنا پڑا جس طرح گورنر پنجاب سازشوں میں مصروف ہیں‘ اسکی مثال نہیں ملتی۔ ہم عرض کرینگے کہ ویلنٹائن ڈے کو اس طرح منانے کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔
گورنر پنجاب دوستی میں دشمنی اور دشمنی میں دوستی کے گلدستے بنانے کے بڑے ماہر ہیں‘ شاید اسی کو وہ ویلنٹائن ڈے کہتے ہیں۔
میاں نواز شریف کی نفرت اور محبت ویلنٹائن کا وہ گلدستہ ہے جس میں صرف پھول ہوتے ہیں یا کانٹے۔ لگتا ہے وہ اندر سے بڑے دکھی ہیں کیونکہ انکے ساتھ ظاہر داری کی جا رہی ہے‘ اب وقت ہے کہ وہ موجودہ حالات میں شعلوں پر پانی ڈالیں۔
دو بڑی پارٹیوں کی چپقلش اور عدلیہ حکومت کا تنازعہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ ملک کو افراتفری سے بچایا جائے اگر سیاسی لڑائیاں شروع ہو گئیں تو عوامی مسائل سے کون لڑیگا۔ ہمارا ہمسایہ اپنی ہر کارروائی کا رخ پاکستان کیخلاف رکھتا ہے اور موقع کی تلاش میں ہے یہ نہ ہو کہ ڈبل روٹی کے ایک ٹکڑے پر لڑتے لڑتے اپنی بیکری ہی گنوا بیٹھیں۔
مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت میں آنیاں جانیاں زیادہ اور عملدرآمد کم نظر آرہا ہے۔ ٹرانسپورٹروں نے جس طرح اپنی مرضی سے کرائے آسمان پہ پہنچا دیئے ہیں‘ ان کو دیکھ کر تو پنجاب حکومت سے کہنا پڑیگا کہ …؎
’’آواز دے کہاں ہے
برباد میں یہاں ہوں
آباد تو کہاں ہے‘‘
حکومت بنیادی طور پر گرفت کا نام ہے اور اگر گرفت ہی نہ ہو تو کہنا پڑیگا کہ یہ رٹ آف گورنمنٹ ہے یا ’’ٹٹ‘‘ آف گورنمنٹ۔ محکمے من مانیاں کر رہے ہیں اور پنجاب حکومت کے ذمہ داران آنیاں جانیاں کر رہے ہیں۔