ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے‘ سرائیکی صوبہ کیلئے وزارت اطلاعات ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔
اول تو یہ کام وزارت اطلاعات کی کُھرلی سے باہر ہے اور فردوسِ پیپلز پارٹی نے واقعتاً قوم کی خدمت کرنا ہے تو جو روٹی آدھی بچ گئی ہے‘ اسکے مزید ٹکڑے کرکے خود کو ٹکڑے خور نہ بنائیں۔ ان کو تو چاہیے کہ وہ ہر فورم پر مسئلہ کشمیر اور پانی کا مسئلہ اٹھائیں تاکہ ان کو ثواب بھی ملے اور فردوس‘ فردوس میں جائیں اور غلمانِ جنت ان کا بجان و دل استقبال کریں۔ سرائیکی تو ایک علاقہ نہیں‘ ایک زبان ہے اور وہ بھی پنجابی کا ایک لہجہ۔ اس کو بنیاد بنا کر ایک الگ صوبہ بنانا غریب ملک پر مزید بار ڈالنے کے مترادف ہے۔ کیا سرائیکی علاقوں میں وزیر اعلیٰ پنجاب نہیں جاتے‘ کیا وہ سرائیکی بولنے والوں کے مسئلے حل نہیں کرتے‘ یہ ایک محلے کے ہر گھر کو شہر بنانے کی کوشش کنکر میں پہاڑ ڈھونڈنے والی بات ہے۔ اگر فردوس عاشق اعوان صاحبہ اتنی ہی وطن کی خیرخواہ ہیں تو پاکستان اس وقت بھی پورا نہیں آدھا ہے بلکہ وہ کوئی تحریک چلائیں کہ خلیج بنگال میں ڈبونے کی بات بھی خلیج بنگال میں ڈوب جائے۔ وزیر اطلاعات کو چاہیے کہ اپنی وزارت کے کاموں سے ہٹ کر مہم جوئی نہ کریں‘ ہمیں باہر کی نیوز ایجنسیاں جو خبر دیتی ہیں‘ ہم اسے جوں کا توں لگا دیتے ہیں اور اس خبر کو اپنے مزاج کے مطابق نہیں بناتے حالانکہ مغربی ایجنسیاں جو خبر ریلیز کرتی ہیں‘ اسے ایک ایسا رخ دے دیتی ہیں کہ جو انکی پالیسیوں کو تقویت پہنچاتی ہے۔ کیا فردوس ایسی خبروں کو اپنا پاکستانی مزاج نہیں دے سکتیں؟ یا میڈیا کو اس رخ پر نہیں ڈال سکتیں۔
٭....٭....٭....٭
پی آئی اے ملازمین کے احتجاج پر سابق ایم ڈی اعجاز ہارون کو جہاز اڑانے سے روک دیا گیا‘ انکی ڈیوٹی مانچسٹر جانیوالے جہاز کو اڑانے پر لگائی گئی تھی۔
”پی آئیں اے“ واقعی نشے میں ہے‘ جب ایک شخص کو پی آئی اے کی ملازمت ہی سے فارغ کردیا گیا ہے پھر اس کو مانچسٹر فلائٹ کی ڈیوٹی کس نے دی‘ اس کا پتہ لگا کر اس کا پتہ کاٹ دینا چاہیے تاکہ یہ زرد پتوں کی بہتات ختم ہو۔
اگر ایک بری شہرت رکھنے والا ہنوز پی آئی اے میں کسی اور حیثیت میں شامل بھی ہو تو اس کو ناپسندیدہ شخص کے طور پر پی آئی اے میں اب جہاز اڑنے کے بجائے جہاز بنا دیا جائے تاکہ وہ اونچی فضاﺅں میں اڑے۔ ہمارے ملک میں نچلے درجے کے ملازمین کے ساتھ انکے باس بہت باسی رویہ رکھتے ہیں اور جب ان کو اپنے بڑے دفتر میں طلب کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے کسی جابر وڈیرے نے اپنے پٹھے کترنے والے ملازم کو بلایا ہے اور پھر اس کیلئے چن چن کر حقارت آمیز الفاظ استعمال کرتا ہے۔ یہ سلسلہ آقا و غلام کا اب اس آزاد پاکستان سے ختم ہونا چاہیے اور یہ آزادی بھی خود عوام اور عام ملازمین ہی کو حاصل کرنا ہوگی مگر شرط یہ ہے کہ حصول مقصد میں اپنے وطن کو گزند نہ پہنچنے پائے۔ یہ باس جو حکم چلاتے ہیں‘ گویا آری چلاتے ہیں۔ ان سے انکی بیگمات اکثر یوں مخاطب ہوتی ہیں....
تیرے دو ٹکیاں دی نوکری
میرا لاکھوں کا ساون جائے
ہائے ہائے یہ مجبوری یہ موسم اور یہ دوری
اور صاحب کھوٹے سکے کی طرح اپنے بنگلے کی طرف چل نکلتے ہیں۔
٭....٭....٭....٭
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے‘ ہم تو حکومت سے لاتعلق ہو چکے ہیں‘ اب صرف تسبیح پڑھ سکتے ہیں‘ جو گاﺅں میں بیٹھ کر پڑھ رہا ہوں۔
مولانا! ایک گیت ہے کہ لاکھ چھپائے چھپ نہ سکے گا‘ اصلی نقلی چہرہ۔ آپ ایک ایسی ہستی کے فرزند ارجمند ہیں کہ اب خود آپ کی ہستی ہونے میں بھی کوئی شک نہیں۔ ہم آپ کے ادنیٰ سے معتقد ہیں اور خوش ہوتے ہیں کہ نقار خانے میں طوطی کے ساتھ ساتھ شریعت مطہرہ کی جھلک بھی موجود ہے اس لئے یوں کنارہ کش مت ہو جائیں کہ کسی کو آپ پر روٹھ جانے کا گمان ہو۔ آپ گاﺅں میں ہوںیا شہر میں‘ آپکی تسبیح کے دانے متحرک رہتے ہیں۔
منعم بکوہ و دشت و بیاباں غریب نیست
ہر جا کہ رفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت
(صاحب انعام و اکرام اور فیاض شخص چاہے پہاڑ ہو‘ دشت ہو بیاباں ہو‘ کہیں بھی مسافر نہیں ہوتا‘ وہ تو جہاں بھی جاتا ہے‘ خیمہ لگا کر دربار سجا لیتا ہے۔) کیا گاﺅں میں تسبیح پھیرتے ہوئے چھتے پر مکھیاں بھنبھناتی نہ ہونگی۔ مولانا گرامی! ہماری آپ سے گزارش ہے کہ بے شک حکومت سے ناطہ توڑ لیجئے مگر کشمیر سے نہیں‘ بلکہ جہادِ کشمیر کا اعلان کرکے تحریک شروع کر دیجئے‘ آپ امر ہو جائینگے۔
٭....٭....٭....٭
مسلم لیگ (ن) کے ایک ایم پی اے کا کہنا ہے کہ شہباز شریف جلد ہی اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیںگے۔
یوں سمجھ لیجئے کہ اس ایم پی اے کے منہ میں پیشگی گھی شکر‘ کیونکہ اب یہ بات یقین کی حد تک پہنچ چکی ہے کہ میاں صاحب اعتماد کا ووٹ ایک دو روز میں حاصل کرلیں گے اور ہم اس پر زور دینگے کہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں مزید تاخیر نہ کریں‘ انتخابی حوالے سے وہ پنجاب کے فاتح ہیں اور خادم بھی‘ بلکہ اب تو ان کو یہ بھی نہیں کہنا چاہیے کہ میں خادم اعلیٰ ہوں بلکہ یوں کہا کریں کہ میں عوام کا ادنیٰ خادم ہوں۔ ہم یہ بات خالصتاً اردو زبان کی نزاکتوں کے پیش نظر کہہ رہے ہیں۔
یہ جو مشہور مقولہ ہے کہ دیر آید درست آید‘ یہ بعض اوقات دیر کے باعث الٹ بھی جاتا ہے۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ شہباز پرواز کریں اور اعتماد کے ووٹ کو جلد حاصل کر لیں تاکہ وہ جو نقار خانے میں طوطی کی آواز سننے نہیں دیتے‘ انکی چونچیں بند ہو جائیں۔ جن طوطوں کو انہوں نے اڑا کر آزاد کر دیا ہے‘ وہ بھی خوشیاں منائیں‘ داتا دربار جا کر نوافل ادا کریں‘ کیونکہ آزادی اتنی بڑی نعمت ہے کہ اب میاں صاحب بھی آزادی سے صوبے کے عوام کی خدمت کر سکیں گے اور لن ترانیوں کا دور ختم ہو جائیگا۔