پیر 15 جون 2009 ء
Different ـ 15 جون ، 2009
صدر نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ امداد کا وعدہ کرنے والے ممالک سے رابطہ رکھے۔
یہ پاکستان کی ’’نیکنامی‘‘ ہے، کہ بیرونی ممالک نے امداد کا صرف وعدہ کیا ہے اور خاموش ہوگئے، اور ہم خالی کشکول لئے اپنے علاقوں میں اپنے لوگوں سے جنگ کر رہے ہیں، دہشت گرد تو مٹھی بھر ہیں، لیکن وہ گھسے ہوئے عوام میں ہیں، اس حالت میں گلی کوچوں میں چور کی تلاش بڑے محتاط انداز سے کی جاتی ہے یہ نہیں کہ ساری آبادی پر بمباری کرکے گیلے، سوکھے سب مار دیئے جائیں، اب تک جو سروے رپورٹیں سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق سویلین کی جتنی تعداد موت کی آغوش میں چلی گئی ہے،مارے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد اس کا عشرِ عشیر بھی نہیں، یہی حال آپریشنوں کا بھی ہے، جن ملکوں نے وعدہ کیا ہے، انہوں نے اتنا بھی نہ سوچا کہ معزز بھکاریوں کو یوں ناامید نہیں کرتے، آج کے حکمرانوں سے تو مغل، سلجوقی، بنو امیہ، بنو عباس اچھے تھے جنہوں نے کبھی کسی سے مدد نہیں مانگی تھی، اور آج جمہوریت کے پرچم تلے کھڑے ہو کر بھیک بھیک کی صدا لگا رہے ہیں۔
٭٭٭٭٭
جدید تحقیق کے مطابق کافی سے حافظہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
اگرچہ ہمارے ہاں کافی کافی نہیں استعمال کی جاتی تاہم جو لوگ اس مشروب گرم کو پیتے ہیں، وہ اس تحقیق کے بعد محتاط ہو جائیں اور بھلکڑ ہونے سے خود کو بچالیں، بھلکڑ پن صرف کافی ہی سے نہیں، اور کئی چیزوں سے بھی پیدا ہوسکتا ہے، بھلکڑوں کے بھی اتنے ہی برانڈ ہیں جتنے کافی کے، یاد داشت کھو دینے والوں پراعتبار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بھول جانے والاخدا جانے آپ کو یاد رکھے نہ رکھے، ایک مولوی صاحب کو بھول جانے کی بیماری تھی، حالانکہ وہ کافی بھی نہیں پیتے تھے، ایک شخص ان کے پاس کسی کام سے آیا اور السلام علیکم کہا مولوی صاحب نے جیب سے ایک پرچی نکالی اور کہا: وعلیکم السلام، پھر مولوی صاحب اس شخص کو اپنے ایک شاگرد کے پاس بھیجا وہاں کا منظر یہ تھا کہ مولوی صاحب کے شاگرد نے ایک ہاتھ میں کاغذ پکڑا ہوا تھااور اسے دیکھ دیکھ کراذان دے رہا تھا۔
٭٭٭٭٭
تائی وان کے ایک 96 سالہ بزرگ نے رات دن ایک کرکے اتنی محنت کی کہ چند ہی دنوں میں ان کو ایم اے فلسفہ کی ڈگری ملنے والی ہے۔
ہمارے ہاں یہ مشہور ہے کہ شیخ سعدی جیسے عظیم عالم اور انشا پرداز نے 40 سال کے بعد پڑھنا لکھنا شروع کیا اور دنیا کو گلستان بوستان جیسے شاہکار دے گئے، مگر یہ 96 سالہ بزرگ کا کارنامہ تو شیخ سعدی سے بھی آگے نکل گیا، اس خبر سے یہ ثابت ہوگیا کہ دماغ کوجتنا استعمال کیا جائے اتنا ہی یہ تیز ہوتا جاتا ہے، اس میں شک نہیں کہ علم کے حصول کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں، ایک حدیث مبارک میں ہے، کہ علم ماں کی گود سے قبرتک حاصل کرو،مقصد یہ تھا کہ علم جب چاہو حاصل کرلو اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں، انسانی دماغ کو اللہ نے اس طرح کا بنایا ہے کہ وہ استعمال سے بڑھتا ہے، اس لئے پڑھنے لکھنے اور مزید سیکھنے کا عمل ہر گز ترک نہیں کرنا چاہئے۔
٭٭٭٭٭
پیپلز پارٹی نے کہا ہے: بجٹ ٹیکس فری اور عوام دوست ہے جبکہ مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ غریب کو ریلیف نہیں ملا۔
پیپلز پارٹی کا بجٹ ہے، فری ہے ٹیکس فری نہیں، کیونکہ اس پارٹی کی ہرکل فری ہوتی ہے، اگر ذرا سا بھی اس کو کس دیا گیا ہوتا تو یہ بجٹ بھی ٹیکس فری ہوتا، حیرت تو اس بات پر ہے کہ اس بجٹ میں ایک نیا ٹیکس متعارف کرایا گیا جسے کاربن ٹیکس کہتے ہیں، پھر بھی پارٹی کا دعویٰ ہے یہ بجٹ ٹیکس فری ہے، یہی نہیں بلکہ یہ ستمگر بجٹ عوام دوست بھی ہے، کہئے کس کی مانی جائے، لگتا ہے دونوں ایک مدرسے کے طالب علم ہیں، دونوں نے پہلے ہی سے طے کر رکھا ہوگا کہ تم یہ کہنا میں یہ کہوں گا۔ عوام سے دوستی ہی نے تو دونوں بڑی پارٹیوں کو اس مقام تک پہنچایا ہے، اور اب دیکھ لیں کہ انہوں نے عوام کو کہاں پہنچا دیا ہے، دونوں بڑی جماعتوں میں اب تو نظریے کا فرق بھی نہیں نظر آتا، کیونکہ امریکہ کی سرکار میں پہنچے تو دونوں ایک ہوئے۔
٭٭٭٭٭
پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر کو ایک مقدمے کے سلسلے میں عدالت میں طلب کر لیا گیا ہے، مگر وہ مسلسل غیر حاضر رہتے ہیں، سول جج نے انہیں 18جولائی کو پیش ہونے کا حکم دیا۔
ان کا جرم یہ بتایاگیا ہے کہ انہوں نے اپنے پوزیشن کے دور میں ہنگامہ آرائی کی تھی اور احتساب بیورو کے افسران پر سیاہی پھینکی تھی، شاید وہی سیاہی اب ایک نازک موڑ پر لوٹ آئی ہے،کیونکہ اب وہ عدلیہ نہیں رہی کہ جس میں جان نہ ہو، فاضل جج نے ان کی مسلسل غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کیا اور قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیئے۔ فاضل جج اور ایک منسٹر کیلئے یہ چیلنج ہے، دیکھتے ہیں، عدالت کہاں تک جاتی ہے، اور وزیر با تدبیر کہاں تک؟ چیف جسٹس بھی دیکھ رہے ہوں گے کہ ان کا سول جج کیسے ان کے نقش قدم پر چلتا ہے، ہم سول جج کی اس جرأت پر ان کو سلام کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ وہ عدل و انصاف کے ترازو کو غیر متوازن نہیں ہونے دینگے، سردست ہم جج صاحب کی خدمت میں یہ مصرع پیش کرتے ہیں…ع
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں