تازہ ترین:

اتوار‘ 20 صفر المظفر 1433ھ‘ 15 جنوری 2012

ـ 15 جنوری ، 2012
سفارتی ذرائع کے مطابق گیلانی نے فوجی بغاوت رکوانے کیلئے برطانیہ سے مدد طلب کی۔
غیرت نام تھا جس کا گئی گیلانی کے گھر سے
افواج پاکستان‘ بالخصوص آرمی چیف کو کتنے ہی سنہری مواقع ملے کہ فوجی بغاوت کر دیں کیونکہ ان کو پاکستان کیلئے ضرررساں احکامات اب بھی مل رہے ہیں مگر وہ مجال ہے جو سپریم کمانڈر صدر پاکستان کے کسی بھی حکم کی نافرمانی کریں‘ اسکے باوجود جمہوریت کے نام پر ملک تباہ ہو رہا ہے۔ پھر بھی آرمی چیف حکم حاکم مرگِ مفاجات کے مصداق خاموش ہیں۔ اگر اس اطاعت شعار فوج سے بھی فوجی بغاوت کا خطرہ ہے تو پھر سمجھ لیں کہ سچ کو بھی خطرہ ہے اور برطانیہ جو سابقہ آقا ہے‘ اب اس کو بھی Renew کرکے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مان گئے حضرت وزیراعظم کی چابکدستی‘ کہ بدلتے ہیں وہ آقا کیسے کیسے۔ کیا پاکستان چیف ایگزیکٹو کو اتنا ڈر لگتا ہے کہ برطانیہ سے بھی امداد کی اپیل کر دی اور ہمیں سرائیکی کا یہ شعر یاد آگیا....
درداں دی ماری جندڑی علیل اے
سوہنا نئیں سندا ڈکھاں دی اپیل اے
برطانیہ ضرور بغاوت رکوائے گا مگر یہاں بغاوت نام کی تو کوئی چیز موجود ہی نہیں لیکن برطانیہ کو بھی چلو اس بہانے پاکستان کی خودمختاری میں مداخلت کا شرف حاصل ہو جائیگا کیونکہ حکمران امریکہ ہی کو ترجیح دیتے تھے‘ اب امریکہ کو کم از کم یہ پیغام تو جائیگا کہ پاکستانی حکمرانوں کے پاس غلامی میں وسیع چوائس موجود ہے۔ ....
اک تم ہی نہیں مرے آقا
اس شہر میں تم جیسے آقا بھی ہزاروں ہیں
گو وزیراعظم گیلانی نے اس خبر کی تردید کی ہے۔ شاید یہ بھی ان تردیدوں میں سے ہو جن کی وہ تصدیق کے بعد تردید کرتے رہتے ہیں۔
٭....٭....٭....٭
حافظ سعید نے کہا ہے: پاکستانی حدود میں طیارے مار گرانے کے اعلان پر عملدرآمد کیا جائے۔
مردحر تو اعلان کرکے کوئی ڈرون نہ گرا پائے‘ اس لئے اب وہ انکے مردحر نہ رہے کیونکہ امریکہ کی غلامی سے حریت حاصل نہ کر سکے۔ اب انکے بجائے حافظ سعید مردِمجید ہیں اور وہ امریکہ کے سینے پر مونگ دلتے رہیں گے ۔کچھ کر دکھانے کیلئے حکمرانی شرط نہیں‘ حافظ صاحب بے شمار مردانِ حق کے دلوں پر راج کرتے ہیں‘ وہ اب یہ توقع چھوڑ دیں....
ہم کو ان سے ہے وفا کی امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
گیلانی‘ کیانی ملاقات میں واضح طور پر کہا گیا تھا‘ فضائی حدود کی خلاف ورزی حملہ تصور ہو گا اور باقاعدہ ڈرون گرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا‘ یہ بھی کہا گیا تھا کہ ڈرون سمیت پاکستانی حدود میں داخل ہونےوالے طیارے کو دشمن سمجھا جائیگا۔ سلالہ چیک پوسٹ پر جو شب خون مارا گیا اور اس میں ہمارے 24 فوجی افسر اور جواں بڑی بیدردی سے شہید کئے گئے‘ دو گھنٹے تک یہ آپریشن ان فوجیوں کیخلاف جاری رہا جو امریکہ کی جنگ لڑنے سلالہ چیک پوسٹ پر تعینات تھے اور امریکہ کی خاطر اپنے ہی لوگوں کو مار رہے تھے کیونکہ بحکم امریکہ قبائلی دہشت گرد ہیں جبکہ بحکم قائداعظم یہ قبائلی پاکستان کے محافظ ہیں۔
صدر آصف علی زرداری اپنی حکومت کے مذکورہ فیصلے پر عملدرآمد کرائیں اور سپریم کمانڈر کی حیثیت سے جنرل کیانی کو اجازت دیں کہ اب جو بھی فضائی حملہ ہو‘ طیارے کو مار گرایا جائے۔ آجکل کے موسم میں ان کا یہ جراتمندانہ اقدام کافی مثبت اثرات مرتب کریگا۔ اب تک دو ڈرون حملے ہو چکے ہیں جو یہ بتانے کیلئے کافی ہیں کہ زرداری صاحب! آپکے کہنے پر امریکہ کچھ نہیں کرتا کیونکہ پاکستان کو امریکہ اپنی کالونی سمجھتا ہے۔ صرف سپلائی بند کرنا اور ہوائی سپلائی جاری رکھنا کافی نہیں‘ یہ جمہوریت کا احترام ہے کہ ہماری ایئرفورس کے چیف خاموش ہیں‘ وگرنہ یہ چار منٹ کا کام ہے۔
٭....٭....٭....٭
چودھری نثار نے اسمبلی جمعہ کے روز ایک مرصع تقریر میں حکومت کو شعری خراج پیش کرتے ہوئے کہا: ”کیوں اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں“ اور انہوں نے اسمبلی ارکان کو کوﺅں سے تشبیہ دینے پر احتجاج کیا۔
شعیب بن عزیز کا یہ شعر شہر میں بلا کی سردی بھی لے آیا‘ شامیں بھی اداس کر گیا حکمرانوں کی‘ اور سیاست کو بھی رگڑا دیدیا کہ اس طرح کے کاموں میں یا تو پڑنا نہیں چاہیے اور اگر پڑ گئے ہیں تو پھر ”ابا برطانیہ“ کو آواز نہیں دینی چاہیے۔ الغرض یہ شعر اس شہر کا محاورہ بن چکا ہے اور حیرت ہے کہ ہر معاملے پر فٹ بیٹھتا ہے اور ہر لحظہ یہ دو مصرعے کچھ نہ کچھ کہتے ہی رہتے ہیں۔ اس سے استفادہ کیلئے ہم شاعر کے حق میں دعا کرتے ہیں کیونکہ اسے پہلے سے پڑھ رکھا ہو تو یہ کئی فتنہ ہائے رنگا رنگ سے بچا لیتا ہے بلکہ بعض اوقات تو شاعر ساحر کے دائرہ سحر سے بھی محفوظ رکھتا ہے کیونکہ انکے لہجے میں کھری کھری سنانے کا عنصر غالب ہوتا ہے اور اسی ہنر کے تو وہ غالب ہیں۔ نثار علی کی گفتار کے نثار کہ اسمبلی میں گویا سیاست کی جلترنگ بج اٹھتی ہے‘ گو وہ حسین نہیں پردلکش ضرور ہیں۔ ان کو بجا طور پر یہ کائیں کائیں اچھی نہیں لگی ہو گی کہ وزیراعظم نے تو کوﺅں سے تشبیہ کیا ارکانِ اسمبلی کو ان سے بھی ابتر قرار دیا۔ جب اقتدار جاتا ہے تو دولت نہیں جاتی‘ بس شامیں اس لئے اداس ہیں کہ ایک آنچ کی کسر رہ گئی تھی کہ ”رولا پے گیا“۔
٭....٭....٭....٭
چیف ایگزیکٹو وزیراعظم فرماتے ہیں‘ مجھے اعتماد کا ووٹ لینے کی ضرورت نہیں۔
اہل دل کہتے پھرتے ہیں....
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
البتہ گلہ نہ سہی بداعتمادی تو ظاہر کر سکتے ہیں۔ کیا اب گیلانی وہ بھی چھین لینا چاہتے ہیں‘ وہ فکر نہ کریں‘ ان پراعتماد کرنےوالوں کی کمی نہیں‘ کیونکہ انکے بارے میں غالب کہہ گئے ہیں....ع ”ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں“۔ انکے اقتدار کی چھتری تلے جتنے ہیں‘ شاد کام ہیں اور قوم مصائب و مسائل کی دھوپ میں جھلس رہی ہے تو پھر کیا ضرورت ہے انکے پاس جانے کی‘ کیا وہ اس خوش فہمی میں ہیں کہ وہ صید زبوں پھر سے صیاد کے پاﺅں پکڑ لیں گے۔ یہ انکی کیسی خوبصورت سوچ ہے مگر ہم جو ٹھہرے انکے طرف دار و جاں نثار اسلئے بے شک امریکہ برطانیہ کو پکارلو‘ لیکن کفش بردار عوام کے پاس نہ جانا کیونکہ ان کو آپ نے اتنا دیا کہ اب انکے پاس مزید گنجائش ہی نہیں۔ جب ملک میں جمہوریت ہے تو اسکے تقاضے بھی پورے کرنے چاہئیں اسلئے اعتماد کا ووٹ لینا کوئی شجر ممنوعہ نہیں‘ سبھی ان پر بھرپور اعتماد کرینگے کیونکہ کسی کو مدد کیلئے پکارنے سے کہیں بہتر ہے کہ پارلیمنٹ کو کہیں.... ”آواز دے کہاں ہے“۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter