امریکہ کی بدنام زمانہ سیکورٹی ایجنسی بلیک واٹر نے پھر اپنا نام تبدیل کرکے اکیڈمی رکھ لیا۔
بلیک واٹر اب وائٹ واٹر بن کر بھی آجائے تو ہم اسکے ہر روپ کو پہچان لیں گے۔ شیطان صفت ذہنیت کے مالک امریکی نام کیسے کیسے تلاش کرلیتے ہیں‘ بلیک‘ زی‘ اکیڈمی‘ کراچی تا خیبر دہشت گردی کی جو آگ بھڑکی ہوئی ہے‘ اسکے تانے بانے مجہول النسب لوگوں سے ملتے ہیں۔ بہروپئیے جتنی مرضی شکل تبدیل کرلیں‘ لیکن ان کو تلاش کرنے کیلئے ہم نے بھی اعلیٰ نسل کے کھوجی ہائر کر رکھے ہیں۔ سندھ کے وزیر داخلہ منظور وسان کو کراچی میں امن قائم ہونے کے بعد خواب دیکھنا چھوڑ دینے چاہئیں اور لنگوٹ کس کر بلیک واٹر کی ”اکیڈمیوں“ کی چھان بین کیلئے گلی کوچوں میں گشت کرنا چاہیے۔ شاعر نے شاید وسان کے بارے ہی کہا تھا....
ہم نیند کے شوقین زیادہ نہیں لیکن
کچھ خواب نہ دیکھیں تو گزارہ نہیں ہوتا
اب خوابی سیاست کو خیرباد کہہ کر عوامی سیاست کرنی چاہیے۔ ڈانس اکیڈمیوں سے لے کر طلباءکے مستقبل کو تاریک کرنےوالی جعلساز اکیڈمیوں تک سب کو سیل کر دینا چاہیے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
٭....٭....٭....٭
محکمہ سوئی گیس نے شاہدرہ کے رہائشی کو 42 لاکھ روپے کا بل بھیج دیا۔
سوئی گیس والوں نے راتوں رات امیر ہونے کا اچھا طریقہ تلاش کیا ہے‘ تین مرلے کے گھر میں کتنی گیس خرچ ہو سکتی ہے؟ یوں لگتا ہے کہ میٹر ریڈر ”ٹن“ ہو گا‘ نارمل آدمی تو اتنا بڑا بلنڈر نہیں کر سکتا۔ بجلی اور گیس پہلے تو ملتی نہیں‘ جن غریبوں کے چولہے اور بتی چلتی ہے‘ وہ بلوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ ایک بل میں اتنے ٹیکس شامل کئے ہوتے ہیں کہ انسان دیکھ کر بے ہوش ہو جاتا ہے۔ شاہدرہ کا رہائشی چودھری جعفر چوکھٹ پر بیٹھ کر گنگنا رہا ہو گا....
ریزہ ریزہ ہو کے بکھرا ہے خلاﺅں میں بدن
کس قدر مہنگی پڑی ہے چاند سے یاری مجھے
سوئی گیس والے کہیں دفتر میں بیٹھ کر بل تو نہیں بناتے‘ میٹر ریڈر کی مثال اس چور کی سی ہے جس سے جج نے پوچھا‘ تم نے ایک رات میں پانچ گھروں میں چوریاں کر ڈالیں۔ ملزم بولا‘ سر‘ بچپن سے ہی محنتی ہوں۔ میٹر ریڈر بھی فیڈر پیتے ہی محنتی ہونگے۔ شاہدرہ کے چودھری جعفر کو دفتر کے چکر لگوا کر کوئی بھولا سبق تو نہیںسکھانا چاہتے کیونکہ کلرک بادشاہ کے بعد اب تو میٹر ریڈر بھی بادشاہ بن چکے ہیں۔ اگر آپ نے انکی آمد پر استقبال نہ کیا‘ چائے پانی نہ پوچھا تو پھر آپ کا حال شاہدرہ کے رہائشی جیسا ہی ہو گا۔
٭....٭....٭....٭
کینیڈا میں شہریت کا حلف اٹھاتے وقت برقعہ پہننے پر پابندی۔
علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا:
تہذیب فرنگی ہے اگر مرگِ امومت
ہے حضرتِ انساں کیلئے اس کا ثمر موت
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت
ہماری خواتین دارالاسلام سے دارالکفرہجرت کیوں کرتی ہیں‘ فرنگی تہذیب کا طوق گلے میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے؟ دنیاوی جاہ و جلالت اور پیسے کی خاطر کیا ایسے ثمر سے موت اچھی نہیں؟ جہاں خود انسان سلامت رہے‘ نہ اس کا ایمان جہاں اسلامی تہذیب تار تار ہونے کا خدشہ ہو‘ وہاں پر ڈیرہ ڈالنا کونسی عقلمندی کی بات ہے؟ ویسے ٹونی بلیئر کی سالی کے قبول اسلام سے لے کر وبال ٹھاکرے کی پوتی نیہا کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے تک اب شرق و غرب میں اسلام کا ڈنکا بجنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ کینیڈا کے ججز کو اپنا قانون تبدیل کرنا چاہیے اگر وہ مسلمانوں کو شہریت دیتے ہیں تو پھر انہیں اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کا حق بھی دیں۔ اگر نقاب اتر گیا تو پھر اموات کا بھونچال آجائیگا....
جانے کس کس کی موت آئی ہے
آج رخ پہ ترے نقاب نہیں
٭....٭....٭....٭
کراچی میں بہو ساس بیاہ لائی۔
بہویں تو گھروں میں سردار بننے کیلئے ساسوں کیلئے جادوٹونے کرتی ہیں کہ مائی کی زبان بندی ہو جائے اور وہ بس چارپائی پر بیٹھی رہے لیکن بڑی سلیقہ شعار ہے کراچی کی بہو جو سسر جی کو تنہائی سے نکالنے کیلئے ساس بیاہ لائی۔ ویسے بہو کا پہلی ساس سے” واہ“ نہیں پڑا ہو گا‘ ورنہ وہ ساس کو بیاہ کر ”کھوہ“ میں چھلانگ نہ لگاتی۔ سسر جی نے گھر کی دیوار پر بیگم مرحومہ کی یاد میں یہ شعر لکھ دیا ہو گا....
گزر تو جائے گی تیرے بغیر بھی لیکن
بہت اداس بڑی بے قرار گزرے گی
بہو کو شعر پڑھ کر سسر پر ترس آیا ہو شاید اس نے تنہائی کے احساس سے نکالنے کیلئے اپنے بچوں کو دادی اماں لا دی ہو۔ ویسے بوڑھے بابے کے یہ دن تو اللہ اللہ کرنے کے تھے‘ کہیں بابا دلہا نے نصیبو لال کو یہ گاتے ہوئے سن لیا ہو گا....
دل ہونا چاہی دا اے جواں
تے عُمراں وچ کیہہ رکھیا
٭....٭....٭....٭
حکومت نے چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنیوالوں کیخلاف کوئی قانون بنا رکھا ہے‘ تو اسے فعال کیوں نہیں کیا جاتا۔ وہ قانون تب ہی حرکت میں آتا ہے‘ جب کسی لمبے ہاتھوں والے کو تکلیف پہنچتی ہے۔ غریب عوام تو رُل گئے ہیں‘ کوئی پرسان حال نہیں۔ معاشرے تب ہی تباہی کا شکار ہوتے ہیں‘ جب امیر اور غریب کیلئے الگ الگ قانون بنتا ہے۔ اگر سب کیلئے ایک ہی شکنجہ ہو گا تو یقیناً معاشرہ ایسا سیدھا ہو گا‘ جیسے کمہار کھوتے کو ”متیر“ مارتا ہے تو اسکے جسم میں اگرچہ خم پڑ جاتا ہے لیکن کھوتے کو لگ پتہ جاتا ہے۔ حکومت کو بھی معاشرے کو سدھارنے کیلئے ایک قانونی ’متیر“ بنانا چاہیے جس میں سب ایک جیسے ہوں۔ اگر بچوں کیلئے قانون فعال نہیں تو جیسے خواتین پر تیزاب پھینکنے والوں کیلئے سخت قانون بنایا ہے‘ ایسے ہی بچوں کے تحفظ کیلئے بھی سخت ترین قانون بنایا جائے تاکہ معاشرے میں پیدا بگاڑ ختم ہو سکے۔