اتوار ‘ 29؍ صفر المظفر1431ھ‘ 14 ؍ فروری 2010ء

ـ 14 فروری ، 2010
دو روزہ احتجاج کے بعد انٹر سٹی ٹرانسپورٹروں نے ازخود کرائے بڑھا دیے۔
یوں لگتا ہے بچہ سقہ کی بادشاہی ہے جس کا جو جی چاہے کرے۔ لاہور شہر میں ٹرانسپورٹ نام کی چیز اب نہ ہونے کے برابر ہے یعنی ایک تو بسیں کم ہیں دوسرے بسوں والے جو چاہیں کریں‘ ٹرانسپورٹروں کا ازخود کرایہ بڑھا دینا یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ محکمہ بے بس اور نااہل ہے اگر اسکا کنٹرول ٹرانسپورٹ پر نہیں ہے تو اس کا اپنا نام بدل کر کوئی اور نام رکھ لینا چاہیے۔ آخر حکومت ایسی وزارتوں اور محکموں پر کیوں قوم کا پیسہ ضائع کرتی ہے جن کی کارکردگی صفر ہے۔
اس وقت جن لوگوں کے پاس اپنی گاڑیاں نہیں ہیں ان کیلئے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے بسوں پر عام غریب مزدور لوگ سفر کرتے ہیں اگر وہ اپنی کمائی کرایوں پر ہی خرچ کر دیں تو کھائیں کہاں سے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور ٹرانسپورٹ کے ذمہ داران سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ لاہور میں ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر کرنے اور اس میں اضافہ کرنے کی ازحد ضرورت ہے۔ عالمی منڈی میں جب پٹرول کی قیمتیں گرتی ہیں تو ہمارے چڑھتی ہیں جس کا پہلا اثر شہری ٹرانسپورٹ پر پڑتا ہے اور وہ اپنے کرائے حکومت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ازخود بڑھا دیتے ہیں۔ شہری اس وقت مہنگائی کا یرغمال بن چکے ہیں۔ آخر حکومت کے سامنے ایسی کونسی مجبوری ہے کہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہو تو وہ مہنگا کر دیں اور اسکے اثرات مہنگائی کی صورت میں پورے معاشرے پر پڑیں۔
٭…٭…٭…٭
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے نواز شریف عوام سے وفادار ہیں تو اپنی دولت ملک میں لائیں۔
انہوں نے کہا اگر میاں نواز شریف قوم سے وفادار ہیں تو اپنی دولت ملک میں لائیں جمعہ کی شام این اے 55 راولپنڈی میں تحریک انصاف کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جس ملک میں بڑے مجرم عہدوں پر بیٹھے ہوں اس ملک میں غریبوں کا بیڑا غرق ہی ہوتا ہے۔ چالیس سال قبل پاکستان دنیا میں تیزی سے ترقی کرنیوالا ملک تھا لیکن خود غرض‘ مطلب پرست اور بدعنوان حکمرانوں نے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی روکنے کیلئے امیروں سے ٹیکس لینا ہو گا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت بے نظیر کے قاتلوں کو نہیں پکڑ سکی ہے یہ کام بھی تحریک انصاف ہی کریگی۔ اس ملک میں وہی لیڈر تبدیلی لا سکتا ہے جو اپنی کشتیاں جلا کر آئے اور اس کا جینا مرنا عوام کیلئے ہو۔
عمران خان بھی بڑے بھولے بادشاہ ہیں جس ملک کے سیاستدانوں کا دارو مدار ہی امریکا اور وہاں کے بنکوں میں پیسہ جمع کرنے پر ہو وہ پاکستان میں سیاست کر ہی نہیں سکتے۔ یہ اب ایک فارمولا بن چکا ہے اس لئے اس کو اتنا معیوب بھی نہیں سمجھا جاتا جتنا کہ سمجھنا چاہیے۔
میاں نواز شریف کے خلوص اور حب الوطنی میں کوئی شک نہیں مگر خان صاحب کی بات بھی جھوٹی نہیں عمران خان نوے نکوڑ لیڈر ہیں انہیں ابھی آزمایا نہیں گیا انکے دامن پر کوئی ایسا داغ بھی نہیں جو انہیں عوام کی نظروں میں گرا دے‘ وہ اپنی عوامی سرگرمیوں میں بھی پہلے سے تیز ہو گئے ہیں اس لئے قوم کو ان کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ پاکستان کے وسائل پاکستان میں دفن ہیں اور ان کا منافع بیرونی ملکوں میں‘ ایک نواز شریف ہی کیا ہر سیاست دان کی دولت باہر کے بینکوں کی زینت ہے۔ عمران خان صاحب کے بارے میں فی الحال معلوم نہیں۔
٭…٭…٭…٭
پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے کہا ہے امن کی آشا محض پروپیگنڈا اور سپانسرڈ مہم ہے ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔
اگر ہمارے نوجوانوں نے امن کی آشا مسترد کر دی ہے تو یہ پروپیگنڈا مہم اپنی موت آپ مر جائیگی۔ امن کی آشا امن کی بھاشا نہیں اس کا لاشا ہے اس کا مقصد کشمیر سمیت دیگر تنازعات پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہے جس کی ہمارے ہاں وہ لوگ حمایت کر رہے ہیں جو کشمیر اور دیگر تنازعات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان بھارت میں آنا جانا لگا رہے‘ ناچے ناچیاں ناچتی رہیں‘ مل جُل کر بسنت منائیں اور اس بات کو بھول جائیں کہ بھارت درپردہ دونوں ملکوں کے درمیان تقسیم کی لکیر ہی مٹا دینا چاہتا ہے۔
بنیادی طور پر اس مہم میں صرف عیاش لوگ ہی شامل ہیں۔ کیا پاکستان کا پانی بند کرنے کے نتیجے میں پاکستان میں خوشحالی آ جائیگی‘ مسائل کو دُم سے پکڑنے کی بجائے سر سے پکڑنا چاہیے مگر جن لوگوں کی دُم ہی ان کا سر ہو اُن لنگڑی لولی سوچ اس ملک کو کیا دے سکتی ہے۔
بھارت کے ہندوؤں میں اتنا تعصب ہے کہ شاہ رخ کی پاکستانی کھلاڑیوں کی حمایت پر آسمان سر پر اٹھا لیا‘ امن آشا والے کبھی وبال ٹھاکرے سے بھی جا کر ملیں اور اسے امن آشا پر قائل کریں۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے امن آشا کو مسترد کر دیا ہماری باقی نوزائیدہ یونیورسٹیوں کے طلبہ کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے۔ لمس یونیورسٹی میں بھی تو مسلمان طلبہ اور طالبات پڑھتے ہیں وہ امن آشا کیخلاف بیان کیوں نہیں دیتے۔
٭…٭…٭…٭
صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی کے سلسلے میں مسلم لیگ( ن) کے مشاورتی اجلاس میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
حق تو یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ کرے ہی نا بلکہ اسکے مسلم لیگ ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان کے کسی صوبے کا نام جسے قائداعظم نے منظور کیا تبدیل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنائے اس لئے کہ یہ ملک باچا خان نے نہیں بنایا تھا۔ یہ بڑی شرم کی بات ہو گی کہ پاکستان کہ کسی مخالف کی بات کو پاکستان میں رائج کیا جائے‘ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرنا صوبہ سرحد کو ایک انداز سے پاکستان سے الگ تشخص دینے کی کوشش ہے جسے ایک سیکولر پارٹی نے اٹھا رکھا ہے یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور پاکستان کے لفظ کا ایک ایک حرف ایک جغرافیائی وجود رکھتا ہے جسے توڑنا پاکستان کو توڑنے کے مترادف ہے اور صوبہ سرحد کو صوبہ سرحد ہی رہنے دیا جائے کوئی اور نام دے کر پاکستان کے وجود سے کھیلنے کا شغل ترک کر دینا چاہیے نواز شریف سمیت دیگر سیاستدانوں کو بھی اس سلسلے میں اپنی زبان کھولنی چاہیے۔ پاکستان ایک حقیقت ہے اسکے صوبے بھی ایک حقیقت ہیں اس لئے کسی بھی صوبے کا نام تبدیل کر کے پاکستان کی پہچان کو مجروح نہ کیا جائے۔ کیا یہی سیاست رہ گئی ہے کہ عوام کی خدمت کے بجائے کسی صوبے کا نام تبدیل کر دیا جائے کیا اس سے اس صوبے میں خوشحالی آ جائیگی یا مہنگائی کم ہو جائیگی۔ ہم سرحد کے عوام سے بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے لیڈروں کو اپنی ترقی کی طرف متوجہ کریں۔
………………………
وزیراعظم کی کرامات ہیں کہ اسمبلی میں تلخی کو بڑھنے نہیں دیتے۔
اس خبر میں ایک تصویر بھی چھپی ہے کہ ایک طوطا اپنی چونچ سے اسمبلی میں کچھ کہہ رہا ہے اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری اسمبلی بھی ایک طوطا کہانی ہے اور اس میں طوطے کے سامنے بھانت بھانت کے پرندے پرّے جمائے بیٹھے ہیں جب وہ اپنی چونچیں آپس میں لڑانے لگتے ہیں طوطا میاں مٹھو چُوری کھائے گا کہہ کر سب کی چونچیں خاموش کر دیتا ہے۔ ہمارے وزیراعظم نہایت متحمل مزاج اور مرنجا مرنج شخص ہیں وہ جھگڑا ختم کرنے کے ماہر ہیں اور جب بھی اسمبلی کے ارکان میں کوئی جھڑپ بھڑک اٹھتی ہے تو وہ اس پر اپنی باتوں کا ٹھنڈا پانی ڈال کر بجھا دیتے ہیں چونکہ وہ نسلی طور سید بھی ہیں اور پیر بھی ہیں اس لئے یہ ان کی کرامت ہی ہے کہ اسمبلی کتنی بھی باؤلی ہو جائے وہ اسے دَم پڑھ کر چُھو کرتے ہیں اور اسمبلی میں ٹھنڈ پڑ جاتی ہے۔ قوم ان یک کسی ایسی کرامت کی منتظر ہے جس کے نتیجے میں ملک سے مہنگائی‘ بدامنی اور انصافی دور ہو جائے۔ بہت سے لوگوں کا ایک خوبصورت سی عمارت کی چھت تلے مناظرہ بازی کرنا صرف فنِ مناظرہ کو ہی ترقی دے گا جبکہ ملک کو مناظروں کی نہیں مسائل کے حل کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کی ایک کرامت یہ بھی ہے کہ حکومت قائم ہے وہ اداروں کو شِیر و شکر بنانے میں لگے رہتے ہیں اور یہ بھی ان کی کرامت ہو گی کہ وہ اسی میں حکومت کے پانچ سال مکمل کرا دیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter