تازہ ترین:

بدھ ‘ 18 محرم الحرام 1433ھ‘14 دسمبر 2011

ـ 14 دسمبر ، 2011
ق لیگ کے طارق عظیم نے نواز شریف سے شجاعت، پرویز الٰہی کو گلے لگانے کی فرمائش کی۔
ایک ہوتی ہے سیاست اور قومی مفاد دوسری چیز ہے، ذاتی رنجش اور اَنا پرستی، اس پورے فقرے کی تصدیق ق لیگ کے طارق عظیم کی فرمائش اور میاں نواز شریف کے گلے نہ لگنے سے ہو گئی، طارق واقعی عظیم ہیں کہ انہوں نے چودھریوں اور میاں نواز شریف کو گلے ملانے کی ہی کی کوشش نہیں کی بلکہ دو مسلم لیگوں کو ملانے کی بھی کاوش کی ‘سر دست تو میاں صاحب کا یہی جواب ہے....
یاروں سے یار ملتے ہیں سیب و انار بن کر
ہم بھی کبھی ملیں گے پھولوں کے ہار بن کر
میاں صاحب نے طارق عظیم کی فرمائش کو فہمائش بنا دیا اور چودھری شجاعت نے بڑی شجاعت سے ایک دوسری کہانی بیان کر دی۔ بقول عمران خان چودھری نثار بہت جھوٹ بولتے ہیں، مگر اس ”عمرانی“ فتوے پر اجتہاد کیا جا سکتا ہے۔ ویسے تو مسلم لیگ کو مسلم لیگ سے ملانا گوند کو گوند سے ملانے کے مترادف ہے، لیکن یہ حیران کن بات ہے کہ ذات کی دونوں لیگیں ہوں اور وہ مل نہ سکیں۔ اب بھی سورج ڈھلا نہیں کام بن سکتا ہے، اس لئے میاں صاحب اتحاد کےلئے راضی ہو جائیں، چودھریوں کو طارق عظیم آمادہ ملن کرےنگے۔ کم از کم چودھری شجاعت سے تو میاں صاحب کی جپھی پڑ ہی جانی چاہیے ۔
٭....٭....٭....٭
تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ میں خیبر پی کے کے وزیر آبپاشی پرویز خٹک کی تحریک انصاف میں شمولیت پر تحریک انصاف کے دو گروپوں میں زبردست تصادم ہوا اور دفتر میدان جنگ بن گیا۔ کئی کارکن زخمی ہو گئے۔ وزیر آبپاشی خیبر پی کے کرپشن میں ملوث ہیں۔
جب اسلام نیا نیا متعارف ہوا تو اس میں یہ نہیں پوچھا گیا کہ کون کس مذہب دھڑے یا برادری سے ہے، یا اس نے کیا گناہ کیا ہے‘ سب کو کلمہ پڑھا کر اسلام میں داخل کر لیا گیا۔ ہم یہ تو نہیں کہتے تحریک انصاف کوئی خلافت راشدہ کا نظام ہے، اس پر بھی کئی اعتراضات کئے جا سکتے ہیں لیکن ایک وزیر کا تحریک انصاف میں شامل ہوناجبکہ اس پر کرپشن کا الزام بھی بتایا جاتا ہے، کوئی فکر کی بات نہیں، جب ایک نیا سیاسی کھاتہ کھلا ہے تو اس میں کسی کا حساب کتاب درج کیا جا سکتا ہے اور کوئی بھی نیا لیڈر بھرتی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ تحریک انصاف میں دو گروپ ہو جانا بھی تحریک کی حرکت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تحریک انصاف میں اب تک جو بھی سیاستدان داخل ہوئے، کیا وہ آسمان سے اترے ہیں یا ان کی سلیٹ بالکل صاف ہے، اگر اس ”کرپشن آباد“ ملک میں کوئی پاکدامن کو تلاش کرےگا تو تلاش ہی میں اپنا دامن نجس کر بیٹھے گا۔ اگر عمران خان دیانتدار رہے اور قیادت بے داغ رہی تو وہ کیسے کسی کرپٹ کو کرپشن کرنے دےگی، عمران خان کا اگر کوئی وزیر بشرطیکہ وہ قدرت حق سے وزیر اعظم ہو گئے اور انکے کسی وزیر یا تدبیر نے کرپشن کر لی تو اسکی زبان پر کم از کم یہ تو آئےگا....ع
لاگا چنری پہ داغ مٹاﺅں کیسے گھر جاﺅں کیسے
٭....٭....٭....٭
اعلی سرکاری افسران کو گاڑیوں کے بدلے نقد رقم دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
22ویں کو ماہانہ 95، 21ویں کو 77 اور 20ویں گریڈ کو 65 ہزار ملیں گے۔بچت اور فضول خرچی میں کیا فرق ہے، یہ حکومت نے کچھ اس انداز سے ثابت کر دیا ہے، کہ دونوں لفظوں کا معنیٰ ہی ایک ہو گیا، یا بچت فضول خرچی سے بازی لے گئی، دراصل عقل ہی بہت زیادہ ہے، اس لئے تو گڈ گورننس، گڈز ٹرک بن گئی ہے، اب لوگ فکر نہ کریں اس نئی بچت سکیم سے افسروں کے افسر شاہانہ اور حکومت کی منصوبہ بندی جانا نہ بن جائے گی، حکومت نے ہر افسر کی تنخواہ میں نمایاں اضافہ کرکے ایک گاڑی لےکر گویا کئی گاڑیاں عطا کر دی ہیں، لینا جب دینا بن جائے، تو ایسی حکومت سے عوام کو کیا لینا دینا، اس لئے ضروری ہے کہ وینا کے کپڑے بھی تقسیم کر دیئے جائیں کیونکہ اس نے بھی قومی بچت سکیم میں حصہ لینے کیلئے لباس پر اٹھنے والے اخراجات ہی ختم کر دیئے، ممکن ہے حکومت نے بچت کا یہ انداز شاہانہ وینا ہی سے سیکھا ہو، کیونکہ صحبت کا اثر توضرور ہوتا ہے۔
ہماری حکومت کی بھارت سے محبت اور اسے پسندیدہ ترین ملک قرار دینا تو بھارت سے وینا کے رومانس سے بھی بازی لے گیا، اس لئے کیوں نہ حکومت کو بھی بھارت کی شہریت دلوا دی جائے، جس افسر کو 95ہزار ماہانہ گاڑی کے عوض ملیں گے وہ پہلی فرصت ہی میں ڈاﺅن پیمنٹ کرکے ایک عدد کیا دو عدد بڑی گاڑیاں بک کرالے گا اور 95 ہزار سے تو بڑی سے بڑی گاڑی کی بھی قسط ادا کی جا سکتی ہے، حکومت کی اس نئی نویلی دانشمندی پر اسے ہدیہ تبریک پیش کیا جاتا ہے۔
٭....٭....٭....٭
رانا ثنا طُرفہ سراہیں کہ بینظیر کے قاتل پکڑنے کا آغاز بابر اعوان کی گرفتاری سے ہو گا۔
رانا ثنا اور بابر اعوان کا جی نہیں متلاتا مسلسل حریفی سے، اب وہ دونوں بہتر ہیں کہ دشمن بدل لیں تاکہ لوگوں کو بھی نیا چٹخارا ملے،رانا صاحب یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ بینظیر کے قاتل پکڑنے کی شروعات بھٹو کی پھانسی پر مٹھائی تقسیم کرنے سے ہو گی تحقیقات ہو تو پوری ہو، یہ کیا کہ باپ کو بھلا دیا اور بیٹی کا افسوس لے بیٹھے، بابر اعوان اور رانا ثناءاب ایک دوسرے پر پھینکے ہوئے تیر پھر سے ا ٹھا کر پھینک رہے ہیں، ہائے یہ باسی تیر! اچھا ہو گا کہ ہر دو حضرات کانوں پر ہاتھ رکھ کر کسی مقدس کوچے میں یہ نغمہ آواز میں آواز ملا کر گائیں....
رم جھم رم جھم پڑے پھوار
تیرا میرا نت دا پیار
یہ جو شدید نفرت ہوتی ہے، آخر پیار پر جا ختم ہوتی ہے! ممکن ہے کسی جہنم میں یہ دونوں کسی گزری قیامت کے بعد ہم جہنم رہے ہوں، اور اب دونوں اپنی اپنی جنت میں مستیاں کر رہے ہیں، دونوں کا کام تو ایک ہے، پھر کچھ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ قوم بھی مصائب کے جہنم سے باہر نکل آئے، رانا ثناءجتنے خوبرو ہیں، بابر اعوان اتنے نہیں، ہم نے بس یہی اک فرق دیکھا ہے دونوں میں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter