ہفتہ ‘ 28 ؍ صفر المظفر1431ھ‘ 13 ؍ فروری 2010ء

ـ 13 فروری ، 2010
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے‘ بھارت سے مذاکرات میں کشمیر ایک طرف رکھ کر قربانیاں ضائع نہیں کر سکتے‘ امریکہ عافیہ کو رہا کرے‘ پاکستانیوں کی جامہ تلاشیوں کا طریقہ بدلے۔
صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کے مؤقف کی صحیح ترجمانی کی ہے‘ کشمیریوں نے جو لاکھوں قربانیاں دی ہیں‘ ان کو وہ نہیں بھولے اور مذاکرات میں اسے اولین ترجیح دی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لاکھوں قربانیاں دے کر بھی کشمیر کا مسئلہ حل نہ کرنا‘ قربانیاں ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ امریکہ سے عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کہنا اور پاکستانیوں کی جامہ تلاشی کا طریقہ بدلنے کیلئے کہنا مردحر کی جرأت رندانہ ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ بھارت سے اچھے تعلقات چاہتے تھے‘ مگر اس نے ایٹمی ہتھیار استعمال نہ کرنے کی پیشکش کو کمزوری سمجھا۔ بھارت کیلئے چشم کشا ثابت ہو گا۔ انہوں نے امریکی وفد سے وہ تمام باتیں کیں جو ایک عام پاکستانی کے دل میں ہے اور جو پاکستان کی قیادت کو کہنی چاہئیں۔ انہوں نے کشمیر کے وفد سے گفتگو میں واضح الفاظ میں کہا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات میں کشمیر کو ایک طرف رکھ کر لاکھوں قربانیوں کو ضائع نہیں کر سکتے‘ بھارت کے ساتھ جب بھی بات چیت ہو گی‘ کشمیر اور پانی سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل زیر بحث آئیں گے۔ کشمیر کو ایک طرف رکھ کر دیگر مسائل پر کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
٭…٭…٭…٭
ویلنٹائن ڈے کا خصوصی پروگرام ’’پیار کہانی‘‘ 14 فروری کو آن ایئر ہو گا۔
پاکستان میں لڑکے لڑکیوں کے پیار کو پروموٹ کرنے کیلئے یہ پروگرام پی ٹی وی نے مرتب کیا ہے‘ قوم بسنت کیخلاف شکوہ سنج تھی کہ اتنے میں پی ٹی وی نے نہلے پر دہلا مارتے ہوئے ویلنٹائن ڈے منانے کا پروگرام بنالیا۔ یہ دونوں تہوار ہمارے نہیں‘ مگر ہم ہر اپنی چیز کو دھتکارتے ہیں اور پرائی چیز کو اپنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے عوام ابھی تک ایسی بے ہودگیوں کیخلاف ہیں جبکہ حکمرانوں کی دلچسپیاں اس میں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ویلنٹائن ڈے پر لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو گلاب کے پھول پیش کرتی ہیں جس کا مقصد پاکستان کے خصوصی اسلامی معاشرے کا مذاق اڑانا ہے اور اس بات کو عام کرنا ہے کہ آج مغرب جن غلط کارروائیوں میں مصروف ہے‘ وہ پاکستان میں بھی عام کی جائیں۔ پی ٹی وی ایک سرکاری ادارہ ہے حکومت کو چاہئے کہ اس پروگرام کو آن ایئر ہونے سے پہلے منسوخ کر دے۔ ویلنٹائن ڈے پر نئی نسل کے اوباش لڑکے جو کچھ کرینگے‘ وہ جلد سامنے آجائیگا۔ اسی طرح بسنت کے تہوار کی پوری قوم مخالفت کر رہی ہے‘ مگر گورنر صاحب اور کئی دوسرے پڑھے لکھے بااثر لوگ اسکی حمایت میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ کیا عدلیہ کو آزادی دینے کا یہ مطلب ہے کہ بسنت پر قانونی اور عدالتی پابندی کے باوجود اسے منایا جائے۔ پی ٹی وی جو کبھی قومی امنگوں کا ترجمان ہوتا تھا‘ اب دوسرے چینلوں کی دیکھا دیکھی اس نے بھی اپنی روش ترک کر دی ہے۔ حکومت ویلنٹائن ڈے پر پابندی عائد کرے۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ دانش سکول میں خواجہ سرائوں کے بچوں کو بھی داخلہ ملنا چاہئے۔
گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران سیمل کامران نے جب یہ کہا کہ دانش سکول میں خواجہ سرائوں کے بچوں کو بھی داخلے کی اجازت ہونی چاہئے تو اس پر ایوان اور اپوزیشن اور حکومت کے ارکان نے قہقہے لگائے اور کہا کہ خواجہ سرائوں کے بچے ہوتے ہی نہیں‘ جس پر سیمل کامران نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں ان خواجہ سرائوں کا ذکر کر رہا ہوں‘ جو لے پالک بچے رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ قوم کے وہ تمام افراد خواجہ سرا ہیں جن کے لے پالک بچے بڑے بڑے سکولوں میں پڑھتے ہیں‘ پنجاب اسمبلی بھی قہقہے لگانے کیلئے عقل سے کام نہیں لیتی‘ انہیں تو بس قہقہہ چاہئے‘ چاہے اسکی بنیاد بے عقلی پر ہی کیوں نہ ہو۔ خواجہ سرا بھی اس قوم کا حصہ ہیں‘ اگر ان میں سے کوئی اپنے لے پالک بچے کو کسی اچھے سکول میں پڑھانا چاہتا ہے تو اس پر قہقہے کی گنجائش کہاں سے نکل آئی البتہ اگر سیمل کامران لے پالک کا ذکر شروع میں ہی کر دیتیں تو شاید یہ قہقہے نہ لگتے۔ مگر ان کو اندازہ کرلینا چاہئے تھا کہ خواجہ سرائوں کے بچے ان کے لے پالک ہی ہو سکتے ہیں۔ خواجہ سراء سب کے سب ڈھولکیوں پر ناچنے والے نہیں ہوتے‘ وہ بھی عام شہریوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں اور علم حاصل کرنا جنس کا پابند نہیں‘ کوئی خواجہ سرا ہو کوئی معذور ہو‘ سبھی کو علم حاصل کرنے کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ خواجہ سرائوں کے لے پالک بچے تو خواجہ سرا نہیں ہوتے۔۔
٭…٭…٭…٭
سپیریئر یونیورسٹی کے طلبہ اور طالبات سے خطاب کرتے ہوئے مجید نظامی نے کہا نوجوان نسل اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے پاکستان کا مستقبل روشن کرے۔
نوائے وقت گروپ کے ایڈیٹر انچیف فخر صحافت مجید نظامی نے سپیریئر یونیورسٹی لاہور کے ان طلبہ و طالبات سے خطاب کیا جو ایوان کارکنان کے دورے پر آئے ہوئے تھے انہوں نے اس موقعہ پر کہا کہ پاکستان ہم نے لازوال قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے اب اس کی حفاظت و ترقی و خوشحالی کی ذمہ داری نوجوان نسل پر عائد ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان ہم نے ہندوئوں اورانگریزوں کا بیک وقت مقابلہ کرکے حاصل کیا ہے مجھے یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ اب ہمارے جوان روایتی تعلیم کی جگہ پیشہ وارانہ تعلیم پر زور دے رہے ہیں کیونکہ فی زمانہ یہی علوم کامیابی کا زینہ ہیں۔سپیریئر یونیورسٹی رائے ونڈ روڈ بڑی تیزی سے سائنسی علوم میں آگے بڑھ رہی ہے حکومت پنجاب کو اس ادارے کی سرپرستی کرنی چاہئے کیونکہ اس طرح کے ادارے ہی ہمارا اصل زر ہیں یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ سپیرئیر یونیورسٹی کی ڈگری کو لمس کی ڈگری کے برابر قرار دے دیا گیا اور اسے اے گریڈ دے دیا گیا ہے۔اس وقت سپیرئیر یونیورسٹی میں ماس کمیونیکیشن کا شعبہ جناب پروفیسر عطاء الرحمن کی سربراہی میں جوش و جذبے سے کام کر رہا ہے پروفیسر صاحب ایک نظریاتی اور محب وطن پاکستانی ہیں جو نظریہ پاکستان پر مکمل یقین رکھتے ہیں یہ بات سپیریئر یونیورسٹی کیلئے نہایت مفید ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter