آسٹریا کے صدر نے ویانا میں مختلف سربراہان مملکت کو دعوت دی تھی‘ ترک صدر عبداللہ گل نے ایہودبارک کی موجودگی پر ظہرانے کا بائیکاٹ کر دیا۔
ہم بھی مسلمان ہیں اور ترک بھی‘ لیکن فرق اتنا ہے کہ ترک صدر نے اسرائیلی وزیر دفاع کی دعوت میں شرکت کے باعث بائیکاٹ کر دیا اس لئے کہ اسرائیل نے ترک جہاز فلوٹیلا پر حملہ کیا تھا۔ حملے تو ہم پر بھی ہوتے ہیں اور فلوٹیلا سے کہیں بڑھ کر مگر ہم حملہ آوروں کے ہم پیالہ و ہم نوالہ ہیں اس لئے کہ ہمارا ”اخلاق“ ہی بہت اچھا ہے اور دشمن کو بھی دوست سمجھ کر اسکی جوتیاں صاف کرتے ہیں۔ سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ترکی اپنے روشن ماضی کی جانب لوٹنے لگا ہے اور قومی غیرت کےمطابق فیصلے کرنے لگا ہے....
خدا کے پاک بندوں کو حکومت میں غلامی میں
زرہ کوئی اگر محفوظ رکھتی ہے تو استغناء
ترک صدر عبداللہ گل نے اسرائیل کے منہ پر پہلا جوابی تھپڑ رسید کیا ہے‘ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ جس دسترخوان پر یہودی بیٹھا ہو‘ وہاں ایک مسلمان کا نہ بیٹھنا ایسی اٹھان ہے کہ جس سے امید پیدا ہو گئی ہے کہ اب اتاترک والا ترکی رخصت اور عثمانیوں کا واپس آرہا ہے جس کی تقریباً بیشتر یورپ پر حکومت تھی۔ یہ وہ استغناءاور خودداری ہے جو مسلمان کو سر اٹھا کر چلنے کا درس دیتی ہے۔ گھٹنوں کے بل چلنے والے اب بھی حالت رکوع میں ہیں اور کلیسا کی طرف منہ کرکے اللہ کے ساتھ مکر کر رہے ہیں‘ خوشی ہے کہ اکا دکا کہیں کسی مسلمان حکمران کی سرفرازی کی خبریں آنے لگی ہیں۔
٭....٭....٭....٭
شاہ محمود قریشی اور شیری رحمان کے مستعفی ہونے کے باوجود قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر بدستور ان کے ارکانِ اسمبلی کی حیثیت سے نام درج ہیں۔
حکومت بیچاری کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ....
بھول گیا سب کچھ یاد نہیں اب کچھ
بس تیرا نام نہیں بھولا ”کرسی!“
یا پھر خواجہ غلام فرید کی زبانی حکمرانوں کی بابت عرض ہے کہ....
کٹھے پئے ہیں یار دے نازاں دے
ہن کیں کوں ہوش نمازاں دے
ویب سائٹ پر اگر شیری و شاہ محمود قریشی کے نام بحیثیت ارکان اسمبلی موجود ہیں جبکہ وہ پارلیمنٹ سے مستعفی ہو چکے ہیں تو اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جوڑی حکومت کو کتنی عزیز ہے کہ ویب سائٹ اب بھی انکے ناموں سے آباد ہے۔ اب تو یہی علاج ہے اس کا کہ شیری رحمان اور شاہ محمود خود ویب سائٹ پر لعابِ دہن لگا کر اپنے نام مٹا دیں تاکہ معلوم ہو کہ شاہ محمود قریشی اسمبلی سے گزر گئے ہیں۔ ”انصاف“ کے ساتھ واشنگٹن میں ہیں۔ سارے سیاسی ”ملاﺅں“ کی دوڑ وائٹ ہاﺅس تک ہے اور وائٹ ہاﺅس کی دوڑ کروسیڈ تک۔ اب اسکے بعد کہیں یا نہ کہیں کہ....
کعبہ کس منہ سے جاﺅ گے ”حکمرانو“
شرم تم کو مگر نہیں آتی
بہرحال شیری رحمان سفیر بن گئی ہیں اس لئے ان کا نام ویب سائٹ پر بحیثیت رکن اسمبلی اور ساتھ شاہ محمود قریشی کا نام بھی مٹا دیا جائے تاکہ انجانوں کو ابہام نہ ہو۔
٭....٭....٭....٭
بابر اعوان کا نیا فرمان ہے کہ نواز شریف مندر میں بیٹھ کر مسجد کی خدمت نہیں کر سکتے‘ پارلیمنٹ میں آئیں۔
بابر اعوان مسجد میں ہیں نہ مندر میں‘ مگر ان کو ”ثواب“ پورا پورا دیا جا رہا ہے اور یہ جو پارلیمنٹ ہے‘ یہ ہے تو پارلیمنٹ مگر اس میں مسجد ضرار اور مندر دونوں بلکہ گرجا بھی موجود ہیں اس لئے کسی کا اسلام خطرے میں ہو نہ ہو‘ اسلامی جمہوریہ کے اسلام سے مذاق ضرور کیا جا رہا ہے۔ بابر صاحب کی ساری ذہانت ہمہ وقت سابقہ اخبار نویس ہونے کی وجہ سے مزاحیہ کالم نگار کی سی ہوتی جا رہی ہے اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں جب حریف کی کسی بات‘ لفظ اور فقرے کو ایسا نہ بنا دیں کہ مخالف کی بے عزتی بھی ہو اور وہ اپنی حد تک ہنسیں بھی ۔ لوگ باگ انکے اس بندر تماشے پر خوب ہنستے ہیں۔ اب انکے ڈگڈگی رکھنے کا زمانہ قریب آرہا ہے اور مندر میں بیٹھ کر یہ کہنے کا وقت سر پر ہے....ع
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھے کب کا ترک اسلام کیا
بابر صاحب کو تماشا کرنے کیلئے نواز شریف کے علاوہ بھی خود اپنے گھر میں کئی کردار مل سکتے ہیں۔ مثلاً وہ جو وزارت میں خواب اور خواب میں وزارت دیکھتے ہیں اور عالم بالا بھی ان کیلئے زرخیز موضوع ہو سکتا ہے۔ جو ایک ریاست کو مرلی بجا کر کئی ریاستوں اور صوبوں میں تقسیم کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اتنی ریاستوں میں پاکستانی ریاست کو کیا حیثیت حاصل ہو گی‘ مگر وہ خود بے حیثیت ہیں‘ حیثیت کیا جانیں۔
٭....٭....٭....٭
سید منور حسن کے اثاثے ڈکلیئر ہو گئے‘ سوگز کا مکان‘ اللہ‘ رسول‘ قرآن سے محبت شامل ہے۔
سو گز کا مکان تو سمجھ میں بھی آگیا اور اس سے درس عبرت بھی سارے حکمرانوں‘ سیاست دانوں اور ہیچمدانوں کیلئے‘ حاصل ہوگئی لیکن یہ اللہ‘ رسول‘ قرآن کو بھی انہوں نے اثاثوں کے ضمن میں ان سے محبت رکھنے کے حوالے سے ظاہر کردیا‘ یہ کیا ہے؟ اللہ رسول قرآن تو سب مسلمانوں کے اثاثے ہیں۔ جماعت اسلامی کے ہر امیر میں بڑے اوصاف اور جماعت اسلامی تقریباً صاف دکھائی دیتی ہے‘ ہم اکثر یہ کہتے ہیں کہ 64 برسوں میں حکمرانوں نے کیا تیر مارا‘ پاکستان وہیں ہے‘ جہاں تھا۔ یہی سوال جماعت اسلامی یاا اسکے امراءسے بھی کیا جا سکتا ہے کہ جماعت اسلامی 70 برس سے برسر اسلام ہے‘ کیا وہ یہاں اسلام نافذ کر سکی ہے؟
اتنی بڑی ملک گیر جماعت جس کے پاس ایک بڑی یوتھ فورس بھی ہے اور اسکی بھی اپنی تاریخ ہے جسے بالخصوص طلبہ تو نہیں بھلا سکتے۔ سید منور حسن کے اثاثے تو بلاشبہ خلفائے راشدہ جیسے ہیں لیکن وہ دیگر تمام امراءسمیت بے خلافت خلیفہ بن کر 70 سال کیا کرتے رہے اور وہ کونسا ایسا بڑا اسلامی کارنامہ ہے‘ جو انکے ریکارڈ پر ہو؟ ماسوائے مولانا ابوالاعلی مودودیؒ کی کتابوں کے۔ جماعت اسلامی سے سید صاحب کام لیں‘ اس ملک کو اسلامی انقلاب ہی سیدھا کر سکتا ہے جو انکی دسترس میں ہے بھی اور نہیں بھی ....
خام ہے جب تک کہ ہے مٹی کا اک انبار تو
پختہ ہو جائے تو ہے شمشیر بے زنگار تو