تازہ ترین:

منگل ‘ 12 مئی 2009 ء

ـ 12 مئی ، 2009
بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راج ناتھ نے ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ متفق ہو تو دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے ہم فوج بھیج سکتے ہیں۔
بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جس سے اس کے مسلمان‘ ہندو اور بدھ ہمسائے یکساں تنگ ہیں‘ پاکستان‘ سری لنکا‘ بنگلہ دیش حتٰی کہ نیپال کوئی ہمسایہ ایسا نہیں‘ جس میں ہونے والی دہشت گردی اور تخریب کاری میں بھارت کا عمل دخل نہ ہو۔
اگرچہ بھارت پاکستان میں ایک بار پہلے 1971ء میں فوج بھیج چکا ہے جس کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوا‘ لیکن بھارتی قیادت کا خیال ہے کہ بھلکڑ پاکستانی چالیس سال پہلے کا سانحہ فراموش کر چکے ہیں اس لئے اب ایک بار پھر راجناتھ نے پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنی فوج بھیجنے کی پیشکش کی ہے جو اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی بھی ’’را‘‘ کی مہربانی ہے۔
کیا بھارتی فوج پاکستان آکر اپنے ہی تربیت یافتہ گوریلوں کا قلع قمع کریگی یا راجناتھ پاک فوج کی کارروائی سے گھبرا کر یہ پیشکش کر رہے ہیں تاکہ بھارت پاکستان میں داخل ہو کر اپنے گماشتہ اور فرستادہ دہشت گردوں کی اسی طرح مدد کر سکیں‘ جس طرح انہوں نے 1971 ء میں مکتی باہنی کی کی تھی لیکن حکومت کو تھینک یو مہاراج کہہ کر یہ بیان مسترد کر دینا چاہئے۔ بی ’’بی جے پی‘‘ ہم لنڈورے ہی سہی!
٭٭٭٭٭٭
واشنگٹن میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ کر صدر آصف علی زرداری نیویارک آگئے تاکہ امریکی حکمرانوں‘ سیاست دانوں اور ذرائع ابلاغ سے انگریزی بول بول کر اور ان کی تلخ ترش سن کر انہیں جو تھکاوٹ ہو گئی ہے‘ اسے نیویارک کے آسودہ ماحول میں اتار سکیں۔
یہ تھکاوٹ کتنے کروڑ ڈالر میں اتری‘ اس کا حساب کتاب کرنے کی اس لئے ضرورت نہیں کہ امریکہ سے ملنے والے ڈیڑھ پونے دو ارب ڈالر آخر کس کام آئیں گے۔
زرداری صاحب تو تھکاوٹ اتارنے میں مصروف ہو گئے لیکن ان کے ساتھ جانے والے وزیروں نے کلبوں کا رخ کیا‘ جہاں ایک کلب میں جیالے وزیر نے گوروں کو ٹھیٹھ پنجابی میں آداب محفل بھی سکھائے۔
جیالا لاہور میں ہو یا نیویارک میں‘ ہمہ وقت جیالا ہی ہوتا ہے۔ وزیر صاحب نے کلب میں گوروں کی خاطر تواضع کی جبکہ پاکستانی کمیونٹی کی ایک تقریب میں جیالوں نے ایک دوسرے کو ٹھڈوں اور مکوں سے پیپلز پارٹی کا منشور یاد کرایا۔ یاد دہانی کا یہ دور زرداری صاحب کے خطاب کے بعد چلا‘ یہ دور صدر کو دی جانے والی شیلڈ پر پیدا ہونے والے تنازعہ کی وجہ سے چلا‘ یہ شیلڈ نیویارک سٹیٹ کی طرف سے دی گئی مگر جیالوں کا اصرار تھا کہ اسے پیپلز پارٹی یو ایس اے کی جانب سے دینا چاہئے تھا۔ گویا صدر کو دی جانے والی شیلڈ بھی متنازعہ ہو گئی۔
شکر ہے اس تقریب میں گورے محفوظ رہے ورنہ لوگ باتیں بناتے کہ پیپلز پارٹی میں بھی طالبان گھس آئے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
ناروے کے وزیر خارجہ جوناس گرسٹور نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرائے۔
ناروے پاکستان کا دوست ہے اور آجکل ہمارے سارے دوستوں کو پاکستان اور بھارت کے مابین صلح کرانے کا بخار چڑھا ہوا ہے۔ یہ کشمیریوں سے محبت یا پاکستان سے حق دوستی ادا کرنے کی خواہش نہیں‘ بلکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نام پر امریکہ نے مسلمانوں کیخلاف جو کروسیڈ شروع کیا ہے‘ اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
امریکیوں کی طرح اسکے یورپی اور سیکنڈے نیوین اتحادیوں کو ڈر ہے کہ اگر پاکستان اس جنگ سے دستکش ہو گیا تو طالبان امریکہ کا بوریا بستر کابل سے گول کرنے کے بعد کشمیر کا رخ کریں گے اور بھارت کا امریکہ و سوویت یونین سے بدتر حشر ہو گا اس لئے حب علیؓ میں نہیں‘ بغض معاویہؓ میں مسئلہ کشمیر حل کرانا چاہتے ہیں ۔
مگر عالمی برادری جس سے دراصل امریکہ مراد ہے‘ کی ثالثی بھی بندروں کو ثالث بنانے کے مترادف ہے جو اس بندر بانٹ میں سب کچھ اگلنے سے باز نہیں آئیں گے لہٰذا پاکستان اور کشمیری عوام فی الوقت کسی ثالثی کے موڈ میں نہیں۔
آخر یہ عالمی رہنما اقوام متحدہ کی قراردادوں کا نام لنیے سے کیوں شرماتے ہیں؟ حافظ سعید کی گرفتاری کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادیں کام آتی ہیں‘ کشمیریوں کے حقوق کیلئے ان قراردادوں کو کوئی اہمیت کیوں نہیں دی جاتی؟ صرف اس لئے کشمیری کلمہ گو مسلمان ہیں اور یہود و ہنود مسلمانوں کی آزادی‘ سلامتی اور مستقبل کو کسی قیمت پر برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter