ہفتہ ‘ 6 ربیع الثانی 1432ھ‘ 12 مارچ 2011ئ
ـ 12 مارچ ، 2011
پرویز الٰہی کہتے ہیں‘ شہباز شریف کا ایک پاﺅں لوٹوں‘ دوسرا سٹے آرڈر پر ہے۔
یہ تو یوں ہے جیسے چھاننی لوٹے سے کہے‘ تجھ میں دو سوراخ ہیں اور اپنے تنِ چھید چھید کو بھول جائے۔ پرویز الٰہی جس رکیک انداز میں اور جس قدر دریدہ انداز میں شہباز شریف پر حملہ آور ہیں‘ ان کو کیوں اپنا تنِ داغ داغ بھول جاتا ہے۔ صرف اتنی بات ہی کافی ہے‘ بشرطیکہ مسلم لیگ نون اسے کہہ ڈالے۔ وہ یہ کہ اگر مشرف کو صدر نہ بنایا جاتا اور چودھری صاحبان دل و جان سے اس پر صدقے واری نہ جاتے اور پرویز مشرف کو روک لیتے کہ وہ امریکہ کو افغانستان پاکستان میں نہ گھسنے دے تو آج یہ جو مسائل کے سونامی نے ہمیں گھیر لیا ہے‘ ایسا نہ ہوتا۔ کیا یہ ایک جرم کافی نہیں‘ مسلم لیگ قاف کی لاف زنی کا جواب دینے کیلئے۔ اور اس کو لاجواب کرنے کیلئے بس چودھری صاحبان مٹی پاﺅ جو آپ ہی کی ایجاد ہے‘ کیونکہ گند کرو اور مٹی پاﺅ۔
یہ ہے وہ شتر مرغ فلسفہ جو پرویز الٰہی اینڈ کمپنی کے ہاں عام ہے۔ لوٹے اور سٹے آرڈر کے دو لفظ کہہ کر اپنی غلطیوں کے ہمالہ کو ہموار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر لوٹوں کی کوئی وقعت شہباز شریف یا نواز شریف کے نزدیک ہوتی تو آج مسلم لیگ قاف مسلم لیگ نون کے پہلو میں بیٹھی ہوتی۔ پرویز الٰہی کچھ اپنی اداﺅں پر بھی غور کریں‘ یہ اداکاری ترک کر دیں۔ مت بھولیں کہ وہ مشرف کو دس سال مشرف بہ صدارت کرنے کی خواہش کا اعلان کر چکے ہیں۔
٭....٭....٭....٭
سعودی عرب میں غریبوں کو مفت کار دینے کا اعلان‘ مصر اور تیونس میں بغاوت کے بعد سعودی عرب کے عام شہریوں کی موجیں ہو گئی ہیں۔ شاہ عبداللہ اور شہزادوں کی جانب سے لوگوں کو بڑے پیمانے پر مراعات‘ گاڑیاں‘ بنگلے اور رقوم دینے کا سلسلہ جاری ہے۔
دعائے ابراہیمؑ خلیل اللہ کی قبولیت کا یہ عالم ہے کہ آج وہ خطہ زمین جو پودا اگانے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا‘ اسکے اندر سے زمزم کی طرح تیل کے چشمے بھی پھوٹ پڑے ہیں۔ سعودی عرب پر موجودہ حکمران کویت سے آئے اور عثمانیوں کو بے دخل کیا‘ لیکن انہوں نے اسی سرزمین پاک کی قدرتی دولت سے عوام الناس کو محروم نہیں رکھا بلکہ سعودی عرب میں کوئی شخص غریب نہ رہا‘ جسے وہ غریب کہتے ہیں۔ وہ ہمارے امیر کے برابر ہوتا ہے۔ مگر ایک بات ضرور ماننی پڑےگی کہ کوئی بھی قوم کسی ایک خاندان‘ فرد یا خاندانوں کی فرمانروائی کو زیادہ طویل عرصے تک برداشت نہیں کرتی‘ اس لئے اسلام نے شورائی نظام متعارف کیا تھا جو کچھ عرصہ بعد قیادت کو بدلے اور حکمرانی کو موروثی نہ بننے دے۔ سعودی عرب میں انصاف‘ دولت سبھی کچھ ملتا ہے‘ لیکن ایک خاندان کی سریر آرائی حکومت بالآخر کہیں نہ کہیں باہر سے آنےوالے ہوا کے تھپیڑوں کا شکار ضرور ہوتی ہے‘ اس لئے سعودی عرب بھی اپنے ہاں جمہوری اقدار کو رواج دے۔ بادشاہت بھی برطانیہ کی طرح قائم رکھے کہ اس میں بقاءاور بچاﺅ ہے۔ سعودی عرب نے اپنے لوگوں کو جس فراوانی سے نوازنا شروع کر دیا ہے۔ یہ بڑی اچھی بات ہے کہ دولت کی تقسیم بہت اثر رکھتی ہے مگر شنید ہے اس تمام تر فیاضانہ عمل کے باوجود سعودی عرب میں مظاہرے ہو رہے ہیں جن پر پولیس نے فائرنگ بھی کی ہے‘ یہ نہ ہو کہ سعودی حکمرانوں کو کہنا پڑے....
ہوای مع الرکب الیمانین مصعد
جنیب و جثمانی بمکة موثق
٭....٭....٭....٭
گلگت کے آزاد رکن نے وزیر نہ بنانے پر بلتستان اسمبلی کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی ہے۔
یہ صاحب جو بلتستان اسمبلی کے آزاد رکن ہیں‘ شاید بہت زیادہ آزاد ہو گئے ہیں اس لئے ایوان جمہوریت کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی ہے۔ حیرت ہے کہ یہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں‘ ان کو تو بم سازوں کی کسی تنظیم کا سربراہ ہونا چاہیے تھا۔ کس قدر شرمناک بات ہے کہ اس ملک میں وزیر بننے کا مطالبہ بم کے زور پر کیا جائے‘ برایں عقل و دانش بباید گریست۔ (ایسی عقل پر تو ماتم کرنا چاہیے) باہر کی دھمکی کو تو سنبھال لیں گے‘ یہ اندر کی ”اندر سبھا“ سے جو آواز اٹھی ہے‘ شاید یہی ہمارے تمام اجارہ دارانِ سیاست و صاحبانِ دولت کی بھی صدا ہے جسے پہلے بصحرا بنانا ضروری ہے۔ ہم توچاہتے ہیں کہ کوئی ایسی بات کہی جائے کہ قارئین کے لبوں پر مسکراہٹ آئے‘ مگر اس ماتم کدے سے ہم ماسوا مرثیہ گوئی کے ان کو کیا دے سکتے ہیں۔
یوں لگتا ہے کہ کسی کو بیرونی خطرات کی پروا نہیں حالانکہ چاروں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی۔ نیرو کے پاس تو پھر بھی بانسری تھی‘ جسے بجا کر وہ اپنے تئیں روم کے جلنے پر پانی ڈال سکتا تھا۔ ہمارے پاس تو بانسریوں کی جگہ شرلیاں ہیں جو جلتی کو بھڑکا سکتی ہیں اور بمشکل دو وقت کی روٹی کھانے والوں کو الٹا لٹکا سکتی ہیں۔ سارا رولا ہی اس ملک میں حکمران بننے کا ہے۔ اب اسکے سوا اس آزاد رکن سے کیا کہیں کہ....ع
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
٭....٭....٭....٭
بھارتی انتہا پسند ہندو تنظیم شیوسینا کے رہنماءبال ٹھاکرے کا پوتا خواتین کا سمگلر نکلا۔
اب تو وبال ٹھاکرے کو اپنی تنظیم کا نام شیوسینا کے بجائے مہیلا سپلائر تنظیم رکھ لینا چاہیے۔ اس طرح شیوسینا جیسی بانجھ تنظیم سے بھی ہندوﺅں کی جان چھوٹے گی اور اس نئی تنظیم میں جوق در جوق بھارت کے سرمایہ دار تو کجا‘ بھکاری بھی بھیک جمع کرکے شامل ہو جائینگے۔ کیسی لعنت پڑی ہے وبال ٹھاکرے پر کہ کل تک جو ہندوتا کی ترویج و اشاعت اور دیویوں دیوتاﺅں کی عزت افزائی کا مشن چلا رہا تھا‘ وہ اس طرح خاک بدہن ہوا کہ اسکے پوتوں نے جیتی جاگتی دیویوں کی خرید و فروخت اور سمگلنگ شروع کردی۔ ظاہر ہے منافع وبال ٹھاکرے کے پیٹ میں بھی جاتا ہو گا۔ اب اگر بال ٹھاکرے پکا ہندو ہے اور ہندو مہیلاﺅں کے تقدس کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اپنے پوتے کو ٹی ٹی کے نشانے پر رکھے تاکہ اس کا مشن مجروح نہ ہو۔ وگرنہ زیادہ مناسب تو یہ ہو گا کہ بال ٹھاکرے جس انداز کا بچھو ہے‘ اسے پوتے کے ساتھ مل کر اسکے کاروبارِ مہیلا فروشی کو پروموٹ کرنا چاہیے۔ پاکستان اور مسلمان بھارتیوں سے جو نفرت بال ٹھاکرے کو ہے‘ اس کا انجام اسکے پوتے کی کمائی ہوئی اس کالک کی صورت میں سامنے آگیا جو اس نے اپنے دادے وبال ٹھاکرے کے منہ پر مل دی ہے۔ وبال ٹھاکرے کو احمدآباد کے مقتول مسلمانوں کے خون نے بالآخر رسوا کرکے رکھ دیا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں