منگل ‘ 25 ؍ محرم الحرام ‘ 1431 ھ‘ 12 ؍ جنوری 2010ء
ـ 12 جنوری ، 2010
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے خطاب میں کہا‘ دشمن صرف شور مچا سکتا ہے‘ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ مجھے خطرہ ہے نہ کوئی دھمکی ملی۔ قدیر خان چاغی کا پہاڑ ہے‘ جس کی تہہ میں ایک نہیں کئی ایٹم بم موجود ہیں۔ اب دشمن لاکھ برا چاہے‘ وہ صرف بھوکے شکاری کتے کی مانند بھونک سکتا ہے‘ پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
خان صاحب نے پاکستان کو وہاں لا کھڑا کردیا ہے کہ اس میں بدامنی پھیلانے سے پوری دنیا کا امن تباہ ہو سکتا ہے‘ پولیس اور انتظامیہ ڈاکٹر صاحب کو راولپنڈی میں آنے سے روکتی رہی مگر وہ شیر کی طرح آگے بڑھ کر تقریب شامل ہوگئے اور انکی آمد پر نعرے بلند ہوئے کہ شیر آیا شیر آیا‘ ڈاکٹر قدیر خان بابائے قوم کے بعد اس ملک کے دوسرے بڑے محسن ہیں‘ حکومت کی کیا مجال کہ انہیں آزادانہ کوئی حرکت سے روک سکے۔ اس وقت اگر کہا جائے کہ اس ملک کیساتھ کوئی مخلص بھی ہے تو خان صاحب کا نام سرفہرست ہو گا۔ بھارت اسلئے بھی گیدڑ بھبکیاں دے رہا ہے کہ اسکے پاس بکری ایٹم بم ہے اور پاکستان کے پاس شیر بم‘ پاکستان واحد ملک ہے جس کے پاس چِلّے پر چڑھا ہوا ایٹم بم ہے اور ستاون اسلامی ملکوں کو اس پر ناز تو ہے‘ نیاز نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ سب مل کر امریکہ پر دبائو ڈالیں کہ وہ پاکستان سے نو دو گیارہ ہو جائے اور ڈرون حملے فی الفور بند کرے وگرنہ ہر سطح پر امریکہ کا بائیکاٹ کرینگے۔ محسن پاکستان نے یہ بھی بتایا کہ شہید بے نظیر نے انکے ساتھ ایٹمی میزائلوں کی تیاری میں بڑا تعاون کیا۔ یہ خدا کا شکر ہے کہ پاکستان کی تمام جماعتیں محب وطن ہیں اور ہندو جیسے کمینے دشمن کو پہچانتی ہیں۔ اگر کمی ہے تو اتحاد کی اور کثرت ہے تو غداروں کی۔ حکومت پاکستان ڈاکٹر قدیر خان کی حفاظت ضرور کرے مگر انکو آزادانہ گھومنے پھرنے سے نہ روکے تاکہ محبان وطن ان سے بالمشافہ مل سکیں۔
٭…٭…٭…٭
اولمپک میڈلسٹ باکسر حسین شاہ نے کہا ہے پاکستان میں رہتا تو گدھا گاڑی چلا رہا ہوتا۔
یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں بس کرکٹ ہی کرکٹ ہے اور کسی کھیل کو بڑھاوا دینا اسکے کیلنڈر میں ہی نہیں۔ باکسر حسین شاہ نے ملک کیلئے سونے کا تمغہ حاصل کیا مگر اسکے حالات پھر بھی نہیں بدلے اس لئے وہ جاپان میں مقیم ہو گئے تاکہ گدھا گاڑی چلانے کی نوبت نہ آئے۔ کھیلوں کے وزیر کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے اس ہیرو کو تزک و احتشام کے ساتھ وطن واپس لائیں اور انکی نگرانی میں باکسنگ کو ترقی دیں۔
آج یہ حال ہے کہ کرکٹ ایک سیاسی کھیل بن چکا ہے اور اقربا پروری کا مظہر اِس لئے اُسی کی دھوم ہے جبکہ ہاکی‘ فٹ بال‘ والی بال‘ سکوائش کیلئے گدھا گاڑیاں تیار کی جا رہی ہیں۔ کھیل کسی قوم کی صحت کا مظہر ہوتا ہے اور کھیل ہماری ثقافت کا حصہ بھی ہیں اس لئے کھیلوں کی وزارت کو پوری کوشش کرنی چاہیے کہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ کیا کسی نے وزیر کھیل سے پوچھا ہے کہ باکسر حسین شاہ تمغہ جیتنے کے بعد جاپان جانے پر کیوں مجبور ہو گیا ہے۔
کیا یہ پاکستان کی بدنامی نہیں یا ہم بدنامیوں سے بہت آگے گزر چکے ہیں۔ باکسر حسین شاہ ایک اولمپک میڈلسٹ باکسر ہیں ان کو فی الفور واپس لا کر ان کے شایانِ شان مقام دینا چاہیے۔
٭…٭…٭…٭
ہمیں معلوم ہے کہ الطاف بھائی کو کراچی سے بہت محبت ہے‘ شاید اسی لئے وہ لندن میں بیٹھے ہیں اور پیپلز پارٹی کو بھی کراچی سے بہت محبت ہے‘ اسی لئے اسکی متحدہ سے نہیں بنتی۔
دونوں پارٹیوں میں اختلافات کا آغاز بلدیاتی نظام سے ہوا اور اس تنازعے میں ٹارگٹ کلنگ بھی ہوئی‘ اس وقت ملک جن حالات سے گزر رہا ہے‘ اس میں کراچی جیسے شہر میں سیاسی تنائو انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے اور دونوں جماعتوں کو شدید سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر متحدہ بلدیاتی نظام کے حق میں ہے اور وہ حکومت میں بھی شامل ہے تو اسکی بات سنی جانی چاہئے اور بیچ بچائو کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ وزیر داخلہ نے ان حالات میں بہت مثبت بیان دیا ہے اور کہا ہے کہ ایم کیو ایم کا جذبات کا اظہار فطری تھا‘ معاملات کافی حد تک حل ہو گئے۔ انہوں نے بجا طور پر کہا کہ اختلاف سے کوئی تیسری قوت فائدہ اٹھا رہی ہے جبکہ کارکن دونوں پارٹیوں کے مرے ہیں۔ تیسری قوت چاہتی ہے کہ کراچی میدان جنگ بنے اور وہاں روشنیاں پھر سے گل ہو جائیں۔ متحدہ ہو یا پیپلز پارٹی‘ دونوں سیاسی قوتیں ہیں اور کسی ایک طرف پلڑے کو بھاری ہوتا برداشت نہیں کر سکتیں۔ مرکزی حکومت ہوش و حواس سے کام لیتے ہوئے کراچی کو دنگا فساد سے بچالے‘ اس لئے کہ کراچی کو کچھ ہو گیا تو اس کے منفی اثرات پورے ملک پر پڑیں گے اور یہی دشمن چاہتا ہے۔ امریکہ‘ بھارت اور اسرائیل نے کراچی پر نظر رکھی ہوئی ہے‘ صدر زرداری اور الطاف حسین پر اس بات کا دارومدار ہے کہ وہ ان اختلافات کتنی دانشمندی سے حل کرتے ہیں‘ پاکستان دشمنوں کے نرغے میں دونوں پارٹیاں ہوش مندی سے کام لیں۔
٭…٭…٭…٭
حسین حقانی نے کہا ہے‘ پاکستانیوں کیلئے اضافی سکریننگ پر تشویش ہے‘ امریکہ نظرثانی کرے۔
حقانی صاحب ڈرتے کیوں ہیں‘ سیدھے سیدھے یوں کیوں نہیں کہتے کہ امریکہ پاکستانیوں کی جامہ تلاشی کے دوران ننگا کرنے پر نظرثانی کرے۔ اضافی سکریننگ کا لفظ تو امریکہ جیسے بدمعاش کیلئے ہرگز مناسب نہیں‘ البتہ انہوں نے یہ بجا فرمایا ہے کہ نائیجیرین نے امریکی طیارہ تباہ کرنے کی کوشش کی ہے تو پاکستانیوں کا کیا قصور؟ پاکستانیوں کا قصور یہ ہے کہ وہ ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
امریکہ نے عراق‘ افغانستان کو تباہ و برباد کر ڈالا اور اب پاکستان میں گھس بیٹھا ہے اور اپنے ایک طیارے کو خراش تک نہ آنے کا بدلہ پوری مسلم دنیا سے لے رہا ہے۔ امریکہ اس وقت باؤلا ہو چکا ہے اور وہ طاقت کے نشے میں اخلاقیات کا دامن بھی چھوڑ چکا ہے۔ پاکستان نے اسکی خاطر کشمیر چھوڑ کر جہاد امریکہ شروع کر رکھا ہے مگر اس نے اسے بھی معاف نہیں کیا اور شرفائے پاکستان کو ننگا کرکے تلاشی دینے کا پابند بنا دیا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں