سینٹ کا ٹکٹ نہ دےکر میرا مذاق اڑایا گیا : بیگم نسیم ولی۔ کہتے ہیں بشیر بلور نے ٹکٹ نہیں لینے دیا۔
صابر ظفر نے کہا تھا....
میں ایسے جمگھٹے میں کھو گیا ہوں
جہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے
رکوں تو منزلیں ہی منزلیں ہیں
چلوں تو راستہ کوئی نہیں ہے
بیگم نسیم ولی کیساتھ بھی آج ایسا ہی ہو رہا ہے۔ مشہور ہے کہ پٹواری کی بکری مر گئی تو تعزیت کیلئے پورا شہر امڈ آیا لیکن جب پٹواری مرا تو کوئی بھی نہیں آیا۔ اے این پی کا پٹواری تو کہیں نہ کہیں پتھروں کے نیچے ہو گا اس لئے بیگم نسیم ولی دکھی ہونے کے بجائے صبر کریں۔ ویسے وہ گھر کی بھیدی ہیں‘ کوئی بھی طوفان اٹھا سکتی ہیں لیکن بشیر بلور اینڈ کمپنی نے نسیم ولی کی دال گلنے نہیں دی۔ بلور کو اور کچھ نہیں تو ولی خان کی بیگم کے سفید بالوں کا خیال ہی رکھ لینا چاہیے تھا کہیں بلور نے بیگم نسیم ولی سے کوئی پرانا بدلہ تو نہیں۔ ”شرمش نیاید زپیری ہمے‘ اس کو بڑھاپے کی بھی شرم نہ آئی۔ کم از کم اسکے بڑھاپے کی لاج رکھ کر اسے سینٹر بنا لیا جاتا۔
نسیم ولی کو باچا خان کی برسی پر ہونیوالے سلوک کے باعث سینٹ الیکشن کیلئے درخواست دینی ہی نہیں چاہیے تھی۔ سرخ پوشوں نے ولی خان کی بھٹکتی روح کو صحیح کھڈے لائن لگایا ہے جو پاکستان پر کابل اور بھارت کو ترجیح دیتا رہا‘ اسکی بیوی ٹھڈے کھا رہی ہے‘ اولاد بھی راندہ درگاہ ہو گی۔
٭....٭....٭....٭
تاریخ میں پہلا استثنیٰ شیطان نے مانگا تھا‘ حافظ حسین احمد۔
صغریٰ اور کبریٰ ملا کر حافظ حسین کسے شیطان بنانا چاہتے ہیں‘ استثنیٰ کی طرف اشارہ کرکے جسے شیطان ثابت کیا جا رہا ہے‘ اسکے ”چیلے چمچے“ کون کون ہیں؟ بات تو پھر بہت دور تک جائیگی‘ پہلا استثنیٰ ابلیس نے مانگا دوسرا مشرف نے مانگا‘ تیسرا ریمنڈ ڈیوس نے مانگ لیا۔ شیطان نے راندہ درگاہ ہو کر بھی پوری دنیا کو ”نتھ“ ڈالی ہوئی ہے۔ لعنت کا طوق گردن میں ڈالے ہر ایک کو استثنیٰ پر ابھار رہا ہے۔ریمنڈڈیوس بھی دھتکارا جا چکا ہے‘ مشرف ویسے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے‘ صحافی برادری میں حافظ کو بھی استثنیٰ حاصل ہے کیونکہ انکی پارٹی نے انہیں چار سال سے کھڈے لائن لگایا ہوا ہے۔ عوام کی شیطان تک تو پہنچ نہیں لیکن اگر اسکے ”چیلے“ مل جائیں تو انہیں پتھر تو مار سکتے ہیں۔ اس پر بھی حافظ تڑپ اٹھے گا اور یوں گویا ہو گا۔
حسن حاضر ہے محبت کی سزا پانے کو
کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو
عمر کی ڈھلتی شامیں پرانی رفاقتوں کو سمیٹنے اور چھوٹی موٹی تلخیوں کے چاک سینے کیلئے ہوتی ہیں لیکن مولانا جبہ و دستار نے ہنس مکھ حافظ کو چھوڑ کر کوئٹہ سے کالے جبے والی جس حسینہ (شیرانی) کا ہاتھ تھاما ہے‘ مدارس کا ریکارڈ تو اس کی پڑھائی کے بارے خاموش ہے۔
٭....٭....٭....٭
حکومت کے پاس کوئی اور راستہ نہیں‘ خط لکھنا ہی ہو گا‘ شیخ رشید۔
فرزند ِ پنڈی کا طوطی بولنا شروع ہو چکا ہے‘ اب اسے رائیونڈ کی طرف اڑان بھر لینی چاہیے۔ صدر‘ وزیراعظم اور اتحادیوں کی کشتی ڈوبنے کے ساتھ ہی شیخ رشید کی قسمت کا ستارہ ایک مرتبہ پھر اوج ثریا پہ پہنچے گا۔ پنڈی کے عوام سے وہ اب بھی لال حویلی کی کھڑکی سے گنگناتے ہیں....
اتنی سی خطا پر رہبری چھینی گئی ہم سے
کہ ہم سے قافلے منزل پر لٹوائے نہیں جاتے
ویسے شیخ رشید ٹی وی پر بولتا ہی اچھا لگتا ہے‘ عوام سے شکوہ اچھا نہیں‘ کیونکہ دن تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ٹاک شو میں انکی اکثر باتیں ”تدیس الاسناد“ ہوتی ہیں کیونکہ شیخ کی روایات کلرک اور سیکرٹری سطح کے لوگوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ جن پر جرح کرنے کے کافی مواقع ہوتے ہیں۔
میاں نوازشریف کو ٹی وی سیاست کیلئے شیخ رشید چاہیے کیونکہ آجکل سیاست اسمبلی سے زیادہ ٹی وی چینل پر ہوتی ہے۔ وہاں کڑک دار آواز چاہیے‘ باقی میدان آپ کا ہے۔ اب بڑے میاں کو جاتی عمرہ میں سیاسی طواف کیلئے ٹکٹ ختم کر دینی چاہیے اور ”مگسوں“ کو جاتی عمرہ کے باغوں میں بلانا چاہیے تاکہ پروانے زیادہ اڑ کر آئیں‘ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔
٭....٭....٭....٭
واہگہ بارڈر پر پاکستان بھارت کے درمیان ٹریڈ گیٹ کا افتتاح کھٹائی میں پڑ گیا۔
بھارت سے تو ہر طرح کی تجارت گھاٹے میں ہے‘ وہ تو اس چیز پر چل رہا ہے ”وچوں وچی کھائی جاﺅ‘ اتوں رولا پائی جاﺅ“ ایک طرف تجارت تو دوسری طرف بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا ہرزہ سرائی کرتا ہے کہ پاکستان کشمیر کے کچھ علاقوں پر ناجائز قابض ہے۔ بھیڑیے کا بچہ کشمیر میں خون خرابہ کر رہا ہے‘ اب واویلا بھی شروع کر دیا ہے۔ بتوں کے پجاری کو کیسے موسٹ فیورٹ قرار دیا جارہا ہے؟ پاکستانیوں کا تو یہ نعرہ ہے کہ کشمیر قرارداد مذمت سے نہیں‘ ہندو کی مرمت سے آزاد ہو گا۔ علامہ اقبال نے اسی بناءپر کہا تھا....
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
ہم تو بے تیغ لڑ کر کشمیر کو ارض پاک میں شامل کرنا چاہتے ہیں لیکن چاہ یوسف سے صدا کچھ اور آتی ہے۔ کیا کشمیریوں کی قربانیوں کے نیچے وہ نحیف آواز اب بند ہو جائیگی۔ استاد امام دین گجراتی نے کہا تھا....
رخ جس طرف کو اپنا اٹھایا کشمیریاں
کیا کیا نہ کام کرکے دکھایا کشمیریاں
قوت دہ اس قدر تو خدا یا کشمیریاں
دائم رہے حریفوں پہ سایا کشمیریاں