جمعۃ المبارک‘ 27؍ صفر المظفر1431ھ‘ 12 ؍ فروری 2010ء
ـ 12 فروری ، 2010
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھارت سے مذاکرات کیلئے حکومتی اور عسکری قیادت نے مشترکہ حکمت عملی طے کرلی‘ بات چیت شرائط پر مبنی نہیں ہونگی‘ برابری کی بنیاد پر مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
اگرچہ اب تک بھارت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ایک لمبی مذاق رات ثابت ہوئے ہیں لیکن یہ موجودہ مذاکرات کیا رنگ لاتے ہیں‘ اس کا دارومدار بھارت کے روایتی رویے پر ہے۔ صدر کی صدارت میں جو اجلاس ہوا ہے‘ اس میں کہا گیا ہے کہ ہم برابری کی بنیاد پر مسائل کا حل چاہتے ہیں‘ اس وقت بھارت کے ساتھ دو ہی بڑے مسئلے ہیں‘ ایک کشمیر اور دوسرا پانی‘ بھارت نے بھی پاکستان کو ٹرخانے کی پالیسی مرتب کرلی ہو گی مگر یہ اب ہماری قیادت پر منحصر ہے کہ وہ ان مذاکرات کو کس طرح کامیاب بناتے ہیں۔
صدر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتے ہیں‘ یہ نہ ہو کہ یہ مذاکرات بھی مذاق رات خیز ثابت ہوں اور مذاکرات کا ایک نیا بھارتی شیطانی سلسلہ شروع ہو جائے۔ یہ مذاکرات نتیجہ خیز تو صرف اسی صورت میں ہو سکتے ہیں کہ کشمیر اور پانی کا مسئلہ حل ہو‘ اگر یہ دو مسائل حل نہیں ہوتے تو ہم اس کو بھی امن آشا مہم سمجھیں گے‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان بھارت کے ساتھ ان مسائل پر جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر وہ مذاکرات کو بے مقصد بنا دیتا ہے تو پھر حکومت پاکستان کو دوسرا آپشن اختیار کرنا پڑیگا۔
٭…٭…٭…٭
اعجاز الحق نے (ق) لیگ سے تعلق ختم کرکے مسلم لیگ (ضیائ) کو فعال بنانے کا اعلان کر دیا۔
پاکستان ترقی کرے نہ کرے‘ مگر اس سے بڑی ترقی اور کیا ہو سکتی ہے کہ بابائے قوم کی مسلم لیگ نے بے تحاشہ بچے دے دیئے۔ اگرچہ یہ مسلم لیگیں پولیو کا شکار ہیں اسی لئے ایک بڑی متحد مسلم لیگ کی ضرورت ہے۔ جسے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی اصل مسلم لیگ کہا جا سکے۔ پاکستان میں قیادت کا فقدان اس لئے بھی ہے کہ مسلم لیگیں حشرت الارض کی طرح پھیل رہی ہیں‘ یہ چھوٹی چھوٹی مسلم لیگیاں جن میں سے تقریباً ہر ایک پر آمریت کی چھاپ ہے‘ کیا قیادت فراہم کر سکیں گی۔ اعجاز الحق ایک آمر کے بیٹے ہیں اور انہوں نے انکی شہادت میں سے ایک عدد مسلم لیگ نکال ماری ہے‘ جہاں تک چودھری برادران کا تعلق ہے‘ وہ چودھریوں کو مسلم اور انکے اکٹھ کو مسلم لیگ سمجھتے ہیں۔ جب تک ان پر آمریت کا سایہ تھا‘ انکے سروں پر ہما بیٹھا رہا‘ اب تو سنا ہے کہ کوے بھی نہیں بیٹھتے۔ سارے کوے ایک ایک کرکے اڑ گئے ہیں اور وہ اپنا جہاز سواریوں سے خالی کسی انجانی سمت کی طرف لے جا رہے ہیں۔
چلو بقول اعجازالحق چودھریوں کی مسلم لیگ تو فیل ہو گئی لیکن انکی فیڈر پینے والی مسلم لیگ کے جوان ہونے کا کیا امکان ہے؟ جناب مجید نظامی نے اپنی سی کتنی ہی کوششیں کیں کہ مسلم لیگ متحد ہوہ جائے اور پاکستان میں ایک مسلم لیگ کا جھنڈا لہرائے لیکن انکی یہ تجویز سنی ان سنی کر دی گئی۔
سرحد کے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ سرحد میں بلیک واٹر موجود نہیں۔
ملک کو وائٹ واٹر کا مسئلہ درپیش ہے‘ مگر بدقسمتی سے اس کی جگہ بلیک واٹر نے لے لی ہے۔ کیا بلیک واٹر کوئی سیاسی پارٹی ہے جو ٹھنڈی سڑک پر وزیر اعلیٰ کو چلتی نظر آئیگی‘ وہ تو ایک دہشت گرد جاسوسی امریکی تنظیم ہے‘ جسے تربیت ہی یہ دی گئی ہے کہ چھپنا کیسے ہے اور وزیر اعلیٰ کی نظر بڑی تیز ہے کہ ان کو سرحد میں بلیک واٹر نظر نہیں آئی‘ انکے سینئر وزیر بشیر احمد بلور تو اعلانیہ کہہ چکے ہیں کہ بلیک واٹر کے اہلکار پشاور میں بھی موجود ہیں۔ یہ سرحد کا معاملہ نہیں ہے‘ پورے ملک کا معاملہ ہے کیونکہ بلیک واٹر سارے پاکستان میں کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگتی پھر رہی ہے اور میاں اس کا بس چلتا ہے کارروائی کر ڈالتی ہے۔ مثال کے طور پر شیخ رشید احمد پر حملہ ہوا‘ انکے تین ساتھی مارے گئے‘ اب اس واقعہ پر بلیک واٹر کا مقصد تو پورا ہو گیا کہ سیاست دان آپس میں ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے۔ امریکہ جب بھی ہمیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے‘ وہ بہانہ فائدہ پہنچانے کا اپناتا ہے۔ بلیک واٹر کو ہم ہی بلیک واٹر کہتے ہیں‘ وہ تو خود کو پاکستانی طالبان کہتے ہیں۔ ہماری آئی ایس آئی کو اگرچہ سب کچھ پتہ ہے لیکن امریکہ نے اسے دبا رکھا ہے اور اس پر ہمارے حکمران بھی خاموش ہیں۔ وزیر اعلیٰ سرحد کی خوش فہمی شاید بلدیاتی انتخابات کی خوشی کے باعث ہے‘ آج پاکستان میں مہنگائی سے لیکر دہشتگردی کے واقعات تک میں امریکہ ملوث ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ذریعے اس نے ہمارے غریبوں کا کچومر نکال دیا ہے‘ قرضے کوئی اور وصول کرتا ہے اور ادائیگی غریب عوام کو کرنی پڑتی ہے۔
٭…٭…٭…٭
اداکارہ میرا کے مبینہ شوہر عتیق الرحمٰن نے کہا ہے کہ میرا نے سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے دعویٰ دائر کیا ہے‘ جبکہ پولیس انویسٹی گیشن میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ وہ میری بیوی ہے۔
میرا نے اس سے پہلے بھی تکذیب نکاح کا دعویٰ کیا تھا جوکہ عدالت نے دو ہزار روپے جرمانے کیساتھ خارج کر دیا۔ ہماری ایکسٹرسوں کی شادیاں اکثر متنازعہ ہوجاتی ہیں کیونکہ فلمی نکاح کرتے کرتے ان کو اصل نکاح بھی جعلی دکھائی دینے لگتے ہیں‘ اگر میرا نے واقعی عتیق الرحمٰن سے شادی کی ہے تو اسکا سیدھا طریقہ تو یہ تھا کہ وہ عدالت میں خلع دائر کر دیتیں کہ میں اس شخص کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی مگر خدا جانے کیوں اس نے ایسا رستہ اختیار کیا کہ جس سے بعض اوقات سستی شہرت حاصل کرنے کا الزام سچ لگنے لگتا ہے۔ میرا ایک اچھی اداکارہ ہے‘ اس نے ممبئی جا کر بھی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی مگر بدقسمتی سے کامیاب نہ ہو سکی۔آج وہ پاکستان میں تکذیب نکاح کی فلم چلا رہی ہیں‘ دیکھتے ہیں اس میں کون کامیاب ہوتا ہے‘ وہ اتنی خوبصورت ہے کہ اسکی خوبصورتی نے اسے گمراہ کر ڈالا۔ بہرحال وہ اس جھنجھٹ سے نکل کر کسی اچھی فلم میں کام کرنے میں مصروف ہو جائے‘ جہاں تک شادی کا تعلق ہے‘ شادیاں تو شوبز میں بنتی ٹوٹتی رہتی ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں