تازہ ترین:

پیر ‘ 16 محرم الحرام 1433ھ‘12 دسمبر 2011ئ

ـ 12 دسمبر ، 2011
نواز شریف کی ذوالفقار علی بھٹو ،نصرت بھٹو اور بینظیر کی قبر پر فاتحہ خوانی۔ فریال تالپور کی بلٹ پروف گاڑی شکریہ کے ساتھ واپس کردی۔ شاندار استقبال میں گو زرداری گو کے نعرے بھی لگے۔ فاتحہ خوانی کے دوران میاں صاحب نے گو زرداری گو کو بھی دعا میں شامل کیا ہوگا، اسی لئے تو استقبال میں یہ نعرہ خوب بلند ہوا۔ نوازشریف کا یہ دورنگی دورہ اللہ جانے کیا رنگ لائے لیکن لگتا ہے کہ کارکنوں کی تسلی کیلئے گو زرداری گو اور زرداری خاندان کیلئے تعاون ہی تعاون۔شاید اُن کو قرآن کی یہ آیت یاد آگئی کہ ” اچھائی ا ور تقویٰ“ کی بنیاد پر تعاون کیا کرو۔نون لیگ کے کارکنوں کیلئے تو یہی کافی ہے کہ انہوں نے سندھی نغموں پر خوب رقص کیا ....
میں ناچوں تو نچا، ڈفلی والے ڈفلی بجا
اب گو زرداری گو تو تبھی ممکن ہے کہ وہ ”کم زرداری کم “کا نعرہ لگائیں اور وہ ضرور آئیں گے کہ ضروری کام سے گئے ہیں،ساتھ ہی اپنا علاج بھی کراتے آئیں گے اسی لئے تو نواز شریف نے اُن کیلئے مشروط دعا کی۔ میاں صاحب میں طبعی شرافت بہرحال موجود ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی مرحومہ منہ بولی بہن اور اُن کی والدہ والدکی قبروں پر دعائے مغفرت کی، گویا گو زرداری گو کو بھی اُنہوں نے اچھی شروعات دی۔ سیاست اپنی جگہ اور انسانی مسلمانی رشتہ اپنی جگہ،اب اللہ ہی جانے کہ آصف زرداری کس جگہ اور نواز شریف کس جگہ۔ بہرحال دونوں میں سیاسی اختلاف کے ساتھ اخلاقی رابطہ بھی ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
چیئر مین تحریک انصاف واشنگٹن پہنچ گئے ہیں۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سمیت دیگر عہدیداروں سے ملاقاتیں جاری ہیں، شاہ محمود قریشی کو بھی بلا لیا ہے۔ فوج آئینی حدود میں رہے سیاستدانوں کو پتلیوں کی طرح کنٹرول کرنے کی پالیسی ختم کردے۔لگتا ہے، انصاف ، ”انصاف“ کے آنے سے پہلے ہی شروع ہوچکا ہے، حالانکہ آئینی حدود تو یہ ہیں کہ کوئی پارٹی جب تک برسر اقتدار نہ آجائے تو وہ حکمران پارٹی کی سی بات نہیں کرتی۔ قوم امریکہ کی ایک نئی غلامی سے آزاد قیادت کی آرزو لئے مینار پاکستان پہنچی تھی لیکن یہ آزاد قیادت قوم کومینار پاکستان کا جھانسہ دیکر خود واشنگٹن پہنچ گئی،یہ مصرع کتنا کثیر الاستعمال ہوچکا ہے مگر بر محل کتنا نیا لگتا ہے....ع ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔ کہیں عمران خان بھی یہ سوچ کر اپنے اقتدار کیلئے امریکی ٹھپہ لگوانے تو نہیں گئے کہ امریکی آشیر باد کے بغیر منزل اقتدار کا حصول ممکن نہیں۔ہم ہر روز لوگوں سے دھوکا کھاتے اوردل میں گنگناتے زمین پر لیٹ جاتے ہیں کہ....ع اک ذرا سی بات پہ برسوں کے یارانے گئے۔ پاکستان کے عوام کے ساتھ 64 برس سے یہی دھوکہ دہی ہورہی ہے۔ ہماری فوج اگر پتلی بن کرسویلین قیادت کی اطاعت نہ کرتی تو کیا ہمارے 24فوجی شہید ہوتے؟ اور فوج کو عمران کیا طعنہ دیناچاہتے ہیں وہ بھی کہہ دیں تاکہ واشنگٹن کو یقین آجائے کہ غلاموں میں ایک نوخیز غلام کا اضافہ ہوگیا۔ خان صاحب یہ شعر آپ کو پسند آئے گا....
رو رہی ہے آج اک ٹوٹی ہوئی مینا اسے
کل تلک گردش میں جس ساقی کے پیمانے رہے
٭....٭....٭....٭....٭
وزیر قانون سندھ ایاز سومرو کے گھر کی بجلی بل ادا نہ کرنے کی وجہ سے کاٹ دی گئی مگر بعد میں وزیر موصوف نے غیر قانونی طورپر بحال کرلی۔ ہمارے ہاں قانون کی عملداری دودھ پیتے ہی فوت ہوجاتی ہے ، کم بخت اسے پاﺅں پر چلنے ہی نہیں دیتے اور بالآخر یہ عمل شکن واکر میں چلتے دکھائی دیتے ہیں اور اُس سے آگے تو واکر بھی چھین لیاجاتا ہے مگر ان کا مسئلہ تو بلھے شاہ والا ہے کہ....
بلہیا اسی مرنا نا ہی گور پیا کوئی ہور
مگر اندر ہی اندر بولتا ہے من کا چور تن کا چور
چار ماہ وزیر قانون نے قانون کے ساتھ سنگساری کے لائق سلوک کیا اور بجلی کا بل سرے سے ادا ہی نہ کیا اور سلام ہے اُن اہلکاروں کو جنہوں نے بجلی کاٹ دی مگر افسوس ہے اُس قانون کے رکھوالے پرجس نے پھر سے ازخود بجلی بحال کردی اور بل نہ دینے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔اس کو کہتے ہیں چوری سینہ زوری مگر منوں مٹی کے نیچے تو پسلیاں ہی ٹوٹ جاتی ہیں اسلئے قیامت کے روز دوبارہ سے مرمت کرکے مرمت کی جائے گی تاکہ زندگی اور درد کا ناطہ جُڑا رہے۔ایاز سومرو صرف ایک نہیں کئی ہوں گے مگر جی دار اہلکاران واپڈا ہوں تو تاریں کٹیں، قانون کا وزیر اگر قانون سے گُلی ڈنڈا کھیلے گا تو ”گڈ گورننس“ کے صحن میں تو سنڈا کھیلے گا، خاص کر جب اُسے سرخ کپڑا بھی دکھا دیا گیا ہو۔ وزیراعلیٰ سندھ جو اپنی جگہ قائم ہیں اپنے قیام کو اتنا کچا کیوں بنائے بیٹھے ہیں جب ایک مزدور باقاعدگی سے بل دیتا ہے تو وزیر کیوں نہیں دیتا، کیا وہ سدرہ کی شاخ سے اترا ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
افغانستان میں مارے گئے اڑھائی سو امریکی فوجی جلاکر ” کچرے کا حصہ“ بنادئیے گئے۔ایک امریکی بیوہ نے کہا: مجھے بتایا گیا کوئی میرے شوہر کی باقیات لینے پر تیار نہ تھا جس پر ایسا کیا گیا کہ اُنہیں کچرے میں پھینک دیا گیا۔جب یہ خبر امریکہ پہنچی تو وہاں سخت غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اگر یہ امریکی لاشیں افغان مسلمانوں کے قبضے میں ہوتیں تو وہ ان کو نہایت انسانی احترام کے ساتھ سپرد خاک کرتے،ان کے چہرے بجلی کے ساتھ جلا کر مسخ نہ کرتے اور نہ ہی ان کو کچرے کا حصہ بناتے کہ کچرے اور انسان کی لاش کی باقیات میں انسان اور غیر انسان کا فرق ہے۔ یہ تو چند سو امریکیوں کی لاشوں کا معاملہ ہے لیکن امریکی فورسز نے جو لاکھوں مسلمان عراق افغانستان میں کارپٹ بمباری کے ذریعے پیوند خاک بنائے،اُن کے بارے میں امریکہ کوکوئی خبر نہیں پہنچی کہ امریکی عوام انسانی حقوق کے ناطے ہی سڑکوں پر نکل کر فراعنہ¿ امریکہ کو روکتے کہ ایسا نہ کرو ، کہ کل دنیا میں باقی انسان ہمارا داخلہ ہی بند کردیں لیکن چند بے حمیت غلام ابن غلام مسلمان حکمرانوں کی ڈالر پرستی اور اقتدار کی خواہش ہے جو مسلمانوںکی لاکھوں میں شہادت پر بھی واشنگٹن جا کر وائٹ ہاﺅس کا طواف کرتے ہیں لیکن ایک دن آئے گا کہ امریکہ کچرے سے بھی بدتر ہوگا اور خون شہیداں ایسی آندھی لائے گا کہ روئے زمین پر ظالموںکا نشان تک باقی نہیں رہے گا کیونکہ امریکی ” کچرا“ بڑا ” خچرا“ ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter