جمعرات‘ 1431 ھ‘ 12 ؍ اگست 2010ء
ـ 12 اگست ، 2010
چوہوں نے غازی بروتھا پاور چینل کی 120 فٹ کنکریٹ دیوار میں شگاف کردیا‘ چوہوں کا سائز خرگوش جتنا بتایا جاتا ہے۔
چوہوں کا عذاب بنی نوع اسرائیل کی قوم پر نازل ہوا تھا‘ اللہ تعالیٰ نے اتنی تعداد میں چوہے پیدا کئے کہ لوگوں کا اٹھنا‘ بیٹھا‘ سونا دشوار ہو گیا تھا‘ پھر انہی چوہوں سے اس قوم کو طاعون کی بیماری میں مبتلا کر دیا‘ لہٰذا چوہے اسی عذاب کی نشانی ہیں۔ چوہوں کا عذاب تو آج بھی موجود ہے اور طاعون کی بیماری بھی۔ بس انکی شکلیں بدل گئیں‘ چوہوں نے انسانی شکل اختیار کرلی جبکہ طاعون ’’کرپشن‘‘ کی شکل میں پھیل رہی ہے۔
چوہوں کا کنکریٹ کی دیوار میں دراڑ ڈالنا کوئی حیران کن بات نہیں‘ کیونکہ اس ملک میں اتنے بڑے بڑے سائز کے چوہے موجود ہیں‘ جنہوں نے قومی املاک کو سخت نقصان سے دوچار کر رکھا ہے‘ کسی بھی سرکاری محکمہ میں جھانک کر دیکھ لیں‘ بڑی بڑی توندوں والے چوہے بیٹھے محکمہ کی جڑوں کو کھوکھلا کر نے میں مصروف نظر آئیںگے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان چوہوں کی پرورش حکومت کی زیر نگرانی ہوتی ہے‘ اگر کسی کی نشاندہی پر کوئی پکڑا بھی جائے تو کچھ عرصے اس کیخلاف کارروائی ہوتی ہے پھر لمبی خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے ۔حکومت کو چاہیے کہ غازی بروتھا پاور چینل کی دیوار کی فوری مرمت کروائے‘ تاکہ بروتھا پاور چینل ’’غازی‘‘ بن کر اس وقت جو ملک کی خدمت کر رہا ہے‘ چوہوں کے کترنے سے شہید نہ ہو جائے۔
٭…٭…٭…٭
بابر اعوان نے کہا ہے کہ صدر زرداری کو تقسیم کے سوال بالکل پسند نہیں تھے‘ سکول کے زمانے میں وہ جمع کے سوال زیادہ شوق سے حل کیا کرتے تھے۔
کون کہتا ہے کہ زرداری صاحب کو تقسیم کے سوال پسند نہیں ہیں‘ حالیہ پیپلز پارٹی اسکا واضح ثبوت ہے۔ ویسے زرداری صاحب کا بھی قصور نہیں‘ ان کا نام ہی ’’زر‘‘ داری ہے‘ یہ انہی جمع کے سوالوں کا تو نتیجہ ہے کہ آج انکے اثاثے اتنے زیادہ ہیں کہ انہیں خود بھی اس کا اندازہ نہیں۔ ہو سکتا ہے وہ سکول میں تفریق کے سوال بھی جمع کی صورت میں کرتے ہوںاور استاد کو کہہ دیا ہو کہ جناب مجھ سے صرف جمع کے سوال کرایا کریں کیونکہ بڑے ہو کر میں نے صرف ’’جمع ‘‘ کے ہی کام کرنے ہیں۔ اگر زرداری صاحب تھوڑے سے تقسیم کے سوال بھی کرلیا کریں اور اپنے ڈھیر سارے زر کا معمولی حصہ سیلاب زدگان میں تقسیم کردیںتو یقیناً وہ غریب لوگ اپنی زندگی کا دوبارہ آغاز کر سکیں گے جو سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے برباد ہو گئے ہیں‘ اگر ایسا ہو جائے تو برمنگھم کی بدمزگی اب بھی گل پاشی میں بدل سکتی ہے‘ لیکن کیا کیجئے‘ تقسیم کی طرف تو صاحب آتے ہی نہیں۔
٭…٭…٭…٭
نیوزی لینڈ میں مقیم ایک ترک نژاد تارک وطن نے دعویٰ کیا ہے کہ نیوزی لینڈ کی پولیس لڑائی جھگڑے اور رقص کے درمیان فرق نہیں جانتی‘ اس شخص کو پولیس نے اپنی بیوی پر تشدد کے الزام میں گرفتار کیا تھا‘ جو اپنے ایک روایتی رقص میں مصروف تھا جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اسے اپنی بیوی کو دونوں ہاتھوں اور لاتوں سے پیٹتے ہوئے گرفتار کیا ہے۔ وہ شخص چلاتا رہا کہ وہ رقص کر رہا ہے مگر کیوی پولیس نے اسکی ایک نہ سنی۔
پولیس کہیں کی بھی ہو‘ پولیس ہی ہوتی ہے اور پولیس اتنی معصوم نہیں ہو سکتی کہ اسے رقص اور لڑائی میں فرق ہی نہیں نظر نہ آئے۔ ویسے غلطی ان دونوں میاں بیوی کی ہے جواپنے روایتی رقص کے تھاتھیا کا مظاہرہ نیوزی لینڈ میں کر رہے تھے‘ وہ شکر کریں کہ انہوں نے اپنے رقص کی ’’ہاتھا پائی‘‘ پاکستان میں پیش نہیں کی‘ ورنہ ہماری پولیس انکے ساتھ ایسا ’’رقص‘‘ کرتی کہ وہ اپنا روایتی جوڈوکراٹے رقص ہی بھول جاتے‘ بلکہ وہ یہ بھی بھول جاتے کہ وہ آپس میں میاں بیوی ہیں‘ ایک کو شمال کی جیل میں ڈال دیا جاتا اور دوسرے کو جنوب کی‘ کیونکہ ہماری ہونہار پولیس اس قسم کی کارروائیوں کی بڑی ماہر ہے اور ایسے معاملات منطقی انجام تک پہنچا کر ہی دم لیتی ہے۔
٭…٭…٭…٭
پرویز مشرف نے ہزارہ صوبے کی تحریک سے اتفاق و یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ضرورت ہو‘ وہاں نئے صوبے بننے چاہئیں‘ تحریک ہزارہ سے مذاکرات نہ کرنا غیر جمہوری رویہ ہے‘ طاقت سے آواز دبانے کا سلسلہ جاری رہا تو خونیں انقلاب کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔
یہ وہی پرویزمشرف ہیں‘ جنہوں نے وطن عزیز میں اپنی پرویزیت کا کھل کر مظاہرہ کیا تھا‘ حالانکہ اس وقت لال مسجد کے کارکنوں نے انہیں مذاکرات کی دعوت بھی دی تھی‘ مگر وہ اپنی فرعونیت میں اتنے غرق تھے کہ انہیں ’’قومِ لال مسجد‘‘ نظر ہی نہیں آرہی تھی‘ اب وہ مذاکرات کا درس دے رہے ہیں۔ آج ملک جس نہج پر پہنچ چکا ہے‘ یہ انہی کا توکیا دھرا ہے۔ ہم ان سے گزارش کرینگے کہ وہ پاکستان کا پیچھا چھوڑ دیں‘ امریکہ کی طرح ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کریں‘ یہاں کے معاملات سنبھالنے کیلئے منتخب حکومت موجود ہے۔ جہاں تک نئے صوبے بنانے کا تعلق ہے‘ تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ملک میں موجود چار صوبے پہلے ہی سنبھالے نہیں جا رہے‘ مزید صوبے بنا کر وہ ملک میں انتشار کیوں پیدا کرنا چاہتے ہیں؟ بڑے بھائی پنجاب کے تین بھائی ہی کافی ہیں‘ جنہیں وہ اپنے حصے کا مال پانی دیکر پال رہا ہے‘ لہٰذا دھرتی ماں کی کوکھ سے مزید نئے بھائیوں کی پیدائش بڑے بھائی پرمزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہو گی۔ انہوں نے اپنی سیاسی پارٹی تو بنالی ہے‘ لیکن ہمیں پوری امید ہے کہ وہ پاکستان ہرگز نہیں آئینگے‘ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان آنا ان کیلئے خطرے سے خالی نہیں ہو گا‘ اسلئے وہاں بیٹھے اپنے طبلے تنبورے بجاتے رہیں گے اور الطاف بھائی کی طرح اپنی پارٹی کو بتائینگے کہ اس نے کونسا راگ گانا ہے اور کس کیساتھ تال ملانی ہے۔
٭…٭…٭…٭
الیکٹرانک میڈیا نے خبر نشر کی ہے کہ ایران پر امریکہ کے متوقع حملے کی تیاریاں‘ ایرانی فوج نے امریکی فوجیوں کیلئے قبریں تیار کرلیں۔
جس قوم کا جذبہ ایسا ہو‘ اسے دنیا کی کوئی سپر طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ ایرانیوں کو پختہ یقین ہے کہ امریکہ نے اگر انکی سرزمین پر ناپاک قدم رکھے تو وہ واپس نہیں جائیگا‘یہ جذبہ کبھی ہمارے ہاں بھی پایا جاتا تھا‘ مگر افسوس کہ ہم دشمنوں کی قبریں تیار کرنے کے بجائے‘ امریکہ کے کہنے پر ہر روز اپنے ہی معصوم شہریوں کی قبریں بنا رہے ہیں‘ دشمن کو دشمن نہیں‘ اپنا مخلص دوست سمجھ رہے ہیں حالانکہ اس دوست نے ہمیشہ ہمیں دھوکہ دیا ہے‘جبکہ قرآن نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں