جمعرات ‘ 24 ؍ ربیع الاوّل 1431ھ‘ 11 ؍ مارچ 2010ء
ـ 11 مارچ ، 2010
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم نے خواتین کیساتھ نغمہ لگایا جبکہ خاتونِ اول موجود نہیں تھیں۔
خواتین کے عالمی دن پر وفاقی دارالحکومت میں رنگا رنگ تقریب ہوئی‘ وزیراعظم گیلانی کے سامنے خواتین کا ایک جم غفیر بیٹھا تھا اور خاتون اول محفل میں موجود نہ تھیں‘ اسلئے انہیں مکمل آزادی حاصل تھی‘ اب یہ تو نہیں کہتے کہ انکے سینے میں دل نہیں یا ان کیلئے یہ مناسب نہ تھا کہ خواتین کیساتھ گھل مل کر نغمہ گائیں مگر شاید پیپلز پارٹی کی یہ بھی ایک روایت ہے۔ یہ روایت مانیٹر کرنے کیلئے خاتون اول کی موجودگی ہوا کرتی تھی جبکہ اس مرتبہ وزیراعظم کو کھلی چھٹی حاصل تھی اور انہوں نے اسے خوب انجوائے کیا۔ خواتین کے حقوق اسی طرح پورے ہونگے کہ رنگ و آہنگ کی محفلیں سجائی جائیں‘ ناچ گانا پیش کیا جائے اور خواتین رنگ برنگے لباسوں میں ملبوس اکٹھی کی جائیں۔ جب یہ محفل ہو رہی تھی تب اس ملک کی کچھ خواتین سر پر بیس بیس اینٹیں رکھ کر سیڑھیاں چڑھ رہی تھیں‘ خواتین کی حق رسی کا یہ کیسا حسین منظور ہو گا کہ ایک طرف اسلام آباد کے جناح کنونشن سنٹر میں رنگا رنگ تقریب منعقد تھی اور دوسری جانب اس ملک کی مزدور خواتین اینٹیں ڈھو رہی تھیں۔ لوگوں کے برتن مانجھ رہی تھیں‘ یا پھر ہلاکو ٹائٹ خاوندوں کی مار پیٹ سہ رہی تھیں۔ حق رسی کا یہ انداز آخر جشن نو روز کی طرح کیوں منایا جاتا ہے‘ کیا اسی طرح سے ہم ظلم کی چکی میں پسنے والی خواتین کو انکا جائز مقام دلوا سکیں گے؟
٭…٭…٭…٭
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے‘ جمہوری نظام کو خطرے میں ڈالنے والا کام نہیں کرونگا‘ آئینی اصلاحات کا پیکیج اس ماہ کے آخر تک مکمل اور 73ء کا اصل آئین بحال ہو گا۔
صدر آصف علی زرداری نے جو بیان دیا ہے‘ اسکے بعد انکے بارے میں تمام غلط فہمیاں دور ہو جانی چاہئیں‘ جہاں تک مثبت تنقید کا تعلق ہے‘ اسے جاری رہنا چاہئے کیونکہ یہ جمہوری نظام کا تقاضا ہے۔ اے پی این ایس کی تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ سرکاری اشتہارات کا معاملہ طے کرنے کیلئے کمیٹی بنائی جائیگی جس کو حتمی شکل اسی ماہ دیدی جائیگی۔ صدر صاحب کا بیان پاکستان کے موجودہ حالات میں امید کی کرن ہے اور توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ جلد از جلد ملک اور جمہوریت کو لاحق خطرے ٹالنے کیلئے بنیادی اقدامات کرینگے جس کا کہ انہوں نے پختہ ارادہ ظاہر کیا ہے۔ 73ء کے آئین کا اسکی اصل حالت میں بحال ہونا ایک کارنامہ ہو گا‘ جسے یاد رکھا جائیگا۔ کسی معاشرے کو پرسکون اور کامیاب بنانے کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ اس میں جمہوری نظام اپنی تمام تر افادیت کے ساتھ لاگو ہو۔ صدر صاحب کا یہ کہنا کہ وہ جمہوری نظام کو خطرے میں ڈالنے والا کوئی کام نہیں کرینگے‘ ایک ایسا اقدام ہو گا جو اس ملک کو لاحق خطرات سے دور کرنے میں انتہائی ممدومعاون ثابت ہو گا۔
٭…٭…٭…٭
صدر نے ملازمت پیشہ خواتین کو ہراساں کرنے کیخلاف بل پر دستخط کر دیئے۔
ملازمت پیشہ خواتین کو ہراساں کرنے کیخلاف بل پر دستخط کرنا صدر صاحب کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے‘ اب یہ بل ایکٹ بن گیا ہے جو فوری طور پر نافذالعمل ہو گا اور اسکے تحت کام کرنیوالی خواتین کو ہراساں کرنیوالے کو تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی جا سکے گی۔ انہوں نے اسکے علاوہ اس بات کی بھی منظوری دی کہ خواتین کی شکایت دور کرنے کیلئے ایک ادارہ بنایا جائیگا اور وفاقی اور صوبائی سطح پر خواتین کیلئے محتسب کا تقرر بھی ہو بعض مرد حضرات کام کرنیوالی خواتین کو ہراساں کرنے اور انکے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کا کام اسکے باوجود کرتے ہیں کہ انکی اپنی خواتین بھی مختلف جگہوں پر کام کرتی ہیں۔ یہ ایک قومی بے حمیتی کا مسئلہ بھی ہے کہ خواتین کو گھر سے باہر غیرمحفوظ کر دیا جائے۔
جو مرد کسی خاتون کو بری نظر سے دیکھتا ہے‘ اسے یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اسکے اپنے گھر میں بھی خواتین رہتی ہیں‘ جنہیں بری نظر کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں کتنی ہی باصلاحیت خواتین محض اسلئے مردوں کے شانہ بشانہ کام نہیں کر سکتیں کہ وہ مردوں سے محفوظ نہیں بلکہ یہاں تک کہ انکے کام میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ اس بل سے اس طرح کے خطرات سے خواتین کو نجات مل جائیگی اور اسے صدر کا کارنامہ سمجھا جائیگا۔
٭…٭…٭…٭
اکانومسٹ کی تازہ ترین رپورٹ کیمطابق بھارت میں مقیم سولہ کروڑ مسلمان اچھوتوں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ملازمتوں کیلئے دس فیصد کوٹہ بھی نہیں مل رہا۔
یہ اس بھارت کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی ہے جو خود کو دنیا کا سب سے بڑا سیکولر کہتا ہے‘ بھارت میں مسلمانوں کا جو حال ہے‘ وہ اس رپورٹ سے عیاں ہے‘ لہٰذا ان احمقوں کو بھی اپنی جنت سے باہر نکل آنا چاہئے جو امن کی آشا لئے پاکستان اور بھارت کو امن کی جنت بنانا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انکی یہ آشا پوری ہو جائیگی‘ انہیں اکانومسٹ کی اس رپورٹ سے ہی اندازہ لگا لینا چاہئے کہ انکی یہ آشا ہمیشہ نراشا ہی رہے گی۔ اگر بھارت امن کیلئے سنجیدہ ہوتا تو اپنے ہاں مقیم سب سے بڑی مسلمان اقلیت کو کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور نہ کرتا‘ وہ ہمارے دریائوں کو خشک نہ ہونے دیتا‘ان پر سوچی سمجھی سازش کے تحت 63ڈیموں کا جال نہ بچھاتا‘ جسکی وجہ سے ہماری سونا اگلتی زمینیں بنجر ہو رہی ہیں‘ کشمیر اور پانی جیسے ایشوز پر بات چیت کرنے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتا ‘جو ان دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں‘ وہ مذاکرات کا ڈھنڈورا تو بڑے زورشور سے پیٹتا ہے لیکن صرف وقت گزاری اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے۔
بھارت کا اصل چہرہ کسی نہ کسی انداز سے آئے روز سامنے آتا رہتا ہے۔امن کی تحریک چلانے والے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ بھارت نے ہماری ایک جنت پر پچھلے 62 سال سے غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے اور دوسری جنت میں اپنے تربیت یافتہ تخریب کار بھیج کر اسے دوزخ میں تبدیل کر رہا ہے۔ اسکے تخریب کار ہماری اس جنت میں کیسے داخل ہو پاتے ہیں‘ یہ تو داروغہ صاحب کو علم ہونا چاہئے جو شاید بہشتی دروازے پر دھتورا پی کر سو رہے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں