حسین حقانی کہتے ہیں: لگتا ہے وزیراعظم ہاﺅس میں نظربند ہوں‘ ہمیشہ یہاں نہیں رہنا چاہتا۔ واپس اپنی زندگی میں جانا چاہتا ہوں کہیں کوئی میرا محافظ مجھ پر بندوق نہ تان لے۔
وزیراعظم نے اپنے نامہ بر کبوتر کو وزیراعظم ہاﺅس کے کبوتر خانے میں بند کر رکھا ہے اور اندر سے حقانی دہائی دے رہے ہیں....
قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو
کہیں سے بہر خدا اب تو ذکرِ یار چلے
آخر حسین حقانی اور وزیراعظم کو کوئی ”دھڑکو“ لگا ہوا تو ہے کہ ایک صیاد بن گیا ہے اور دوسرا صید۔ پھر اس پر طرہ یہ کہ حقانی کو کسی محافظ کے بندوق تاننے کا بھی ڈر لگا ہوا ہے کیونکہ اس ملک میں اب یہ بھی خطرہ ہے کہ جو کوئی توہینِ وطن یا توہینِ رسالت میں کسی طرح بھی ملوث ہوا‘ وہ گارڈ سے خوفزدہ رہتا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے کسی کا جرم فوج کے سر منڈھ دیا حالانکہ حقانی تو اپنوں ہی کا ستم زدہ ہے۔ بھلا فوج اس سے زبردستی استعفیٰ کیوں لے سکتی ہے؟ ہمیں حقانی سے بے حد ہمدردی ہے....
اب اداس پھرتے ہو گیلانی ہاﺅس کی راہداریوں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
شعیب بن عزیز سے تصرف کیلئے معذرت کہ انکے اس شعر نے کتنوں کو اسیر کر رکھا ہے‘ حُسین اپنے نام کی لاج رکھیں کیونکہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔ سر اٹھائے وہ سب کچھ کہہ دیں جو غلاموں نے آقاﺅں کے نام لکھ کر انکی گردن میں حمائل کر دیا۔ بس اتنا سوچ کر ایک آدھ اشک ضرور بہالیں کہ....
تم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردار
تم ترستے ہو کلی کو وہ گلستان بہ کنار
یہ سنہری پنجرہ دراصل ظلمی پنجرہ ہے‘ ہم دعاگو ہیں۔
٭....٭....٭....٭
گوجرانوالہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے عدالت میں اپنے محکمہ کے 22 افسروں کو راشی قرار دیدیا اور انہوں نے انکے راشی ہونے کے حوالے سے حلف دینے سے معذرت کرلی۔
”ایف آئی اے“ دیکھو کیا گل کھلاتی ہے کہ اسکے ڈپٹی ڈائریکٹر نے اپنے ماتحت 22 افسروں کو رشوت خور قرار دیدیا اور جب عدالت نے حلف دینے کیلئے کہا تو مکر گیا‘ یہ تو بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے طوائف تماشبین کےخلاف کہے‘ یہ مجھے چھیڑتا ہے۔ اگر واقعی یہ 22 افسر راشی ہیں تو پھر انکے ڈپٹی ڈائریکٹر گل صنوبر خان نے حلف دینے سے کیوں انکار کیا؟ یہ حال بے حال ہے‘ ہماری تفتیشی ایجنسی کا۔ کہیئے یہ کیا کارکردگی دکھا سکے گی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ افسران راشی ہیں اپنے ڈپٹی کو اس میں سے حصہ نہیں دیتے اور صنوبر صاحب کو کہنا پڑا ہوگا....
پھینکے ہیں اوروں کی طرف گل اور ثمر بھی
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی
لگتا ہے کہ اس ملک میں کرپشن اتنی عام ہے کہ اب یہاں آم بھی اتنے نہیں پیدا ہوتے‘ لقمہ حرام دو چیزوں پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے‘ ایک تو برکت پر اور دوسرے عقل پر۔ یہ جو شب و روز اوپر سے نیچے تک ہم بوالعجبیاں سنتے ہیں‘ یہ اسی حرام خوری کی بدولت ہیں۔
حیرت کی بات ہے کہ کچھ عرصے سے کرنسی نوٹوں پر سے ”حصول رزق حلال عین عبادت ہے“ کا جملہ غائب کر دیا گیا اور یہ لکھا ہوا ہے‘ حکومت پاکستان کی ضمانت سے جاری ہوا۔ اس لئے اب اسے بطور رشوت دینے میں کوئی حرج نہیں کہ ہر نوٹ کو حکومت کی ضمانت حاصل ہے۔ عدالت اگر ذرا سا زور لگا کر تحقیقات کرے تو یہ صنوبر خان اپنے پورے چمن سمیت راشی نکلنے کا امکان ہے۔
٭....٭....٭....٭
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کہا‘ ایک وکیل کو دوسرے کی تضحیک کی اجازت نہیں دے سکتے۔
وکلاءبرادری ہماری ہے‘ لیکن جب ان میں سے کوئی وکلاءعدالت میں حاضر ہوتے ہیں تو ایک دونی دونی‘ دو دونی چار شروع کر دیتے ہیں۔ ایک وکیل دوسرے کا مذاق اڑانے کیلئے قانون کے بجائے جگت بازی کا سہارا لیتا ہے اور چاہتا ہے کہ انصاف قہقہوں کی نذر ہو جائے۔
وکیل کا کام ہے اگر وہ کام کا ہے تو اپنے دلائل اس طرح سے پیش کرے کہ دلیل ذلیل نہ ہو اور کوئی بے گناہ نیلونیل نہ ہو۔ وکالت کا مطلب یہ ہے کہ وکیل ایک بے گناہ کو بے گناہ ثابت کرے نہ کہ گناہ گار کو عابد شب زندہ دار۔
علامہ اقبال نے شاید اس لئے وکالت چھوڑ دی تھی کہ قاتل کہتا تھا مجھے غیرقاتل ثابت کرو‘ کیا فرماتے ہیں علماءدین شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ کیا وکالت کے زور پر مجرم کو پاکدامن ثابت کردے اور بھاری فیس لے کر یہ سمجھے کہ اسکی اچھی دیہاڑی لگ گئی۔ بہرحال اس بارے میں ہم تو کوئی فتویٰ نہیں دے سکتے لیکن قرآن و سنت اور فقہ اسلامی میں درک رکھنے والے اہل علم اس مسئلے پر ضرور غور فرمائیں۔ بہرحال چھوڑیں اس بات کو ہم نے تو چیف جسٹس کی اس بات کو لے کر چلنا ہے کہ آئندہ کوئی بھی وکیل کسی بھی عدالت میں اپنے حریف وکیل کا مذاق نہ اڑائے کیونکہ وکیل کا جوڑ دلیل ہے تضحیک نہیں۔
عدالتوں کا تقدس ہی اسکی تاثیر اور اثرناکی ہے اس لئے چیف جسٹس نے بہت بجا فرمایا کہ وکلاءحضرات آپس میں تضحیک کا تبادلہ نہ کریں....
فولاد کہاں رہتا ہے شمشیر کے لائق
پیدا ہو اگر اسکی طبیعت میں حریری