جمعرات ‘ 26؍ صفر المظفر1431ھ‘ 11 ؍ فروری 2010ء
ـ 11 فروری ، 2010
برطانوی وزیر دفاع نے کہا ہے کئی سال سے طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ افغان حکومت کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
امریکی وزیر دفاع کبھی طالبان کیخلاف کارروائیاں کرنے میں بڑے پُرجوش اور تازہ دم دکھائی دیتے تھے اب بوڑھے شیر کی طرح اپنی کچھار سے ہی کمزور سی آواز نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زمانہ ہو گیا ہے طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں مگر طالبان اپنے ضابطے میں ہیں۔ امریکہ کو افغانستان پر وہی کچھ مل رہا ہے جو کبھی برطانیہ کو ملا تھا‘ خسارے کے سودے میں اب امریکہ اپنے نیٹو ساتھیوں کے سمیت تھک چکا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اپنی کسی جانشین حکومت کو طالبان کے ساتھ ملا کر یہاں سے چلتا بنے مگر طالبان اچھی طرح جانتے ہیں کہ کرزئی حکومت کے ساتھ مل کر حکومت بنانا امریکی حکومت قائم کرنے کے مترادف ہے۔
خود کرزئی صاحب کو بھی اب ہرے کوٹ میں شکنیں نظر آنے لگی ہیںوہ اس انجام سے ڈر رہے ہیں جو غداروں کا ہُوا کرتا ہے مگر اب تو حالت یہ ہے کہ امریکہ بھی اس کی مدد نہیں کر سکتا۔ امریکی وزیر دفاع اب کہہ رہے ہیں کہ مسئلہ مذاکرات سے ہی حل ہو گا جبکہ طالبان صرف جنگ سے واقف ہیں وہ مذاکرات جیسی منافقت کے قائل نہیں مزاحمت کرنے کے وہ بادشاہ ہیں۔ افغانستان شدید تباہیاں دیکھنے کے بعد پھر آزاد ہو گا اور وہاں اسلامی حکومت قائم ہو گی۔
٭…٭…٭…٭
جمشید دستی نے کہا ہے کہ مردوں کو چھیڑنے والی خواتین کو کون لگام دیگا‘ شرارتی خواتین زیادہ تنگ کرتی ہیں‘ مردوں کوبھی تحفظ فراہم کیا جائے۔
خواتین ایک ایسی صنف ہے کہ وہ مردوں کو نہ چھیڑیں تو بھی چھیڑ جاتی ہیں‘ ہماری اسمبلیوں میں اور کچھ ہو نہ ہو‘ مزاحیہ پروگرام چلتے ہی رہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے یہ کہہ کر ایوان کو زعفران زار بنا دیا کہ خواتین کو ہراساں کرنے کیخلاف قانون اچھا ہے مگر جو خواتین مردوں کو چھیڑتی ہیں‘ ان کو کون لگام دیگا‘ مردوں کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ شرارتی خواتین ان کو زیادہ تنگ کرتی ہیں۔ جمشید دستی سمجھ دار آدمی ہیں‘ انہیں اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ ہراساں کرنے میں اور تنگ کرنے میں بڑا فرق ہے بلکہ ہراساں کرنا تو بعض حالات میں قابل دست اندازی ٔ پولیس جرم ہے‘ شرارتی خواتین اگر تنگ کرتی ہیں تو اس میں دو لطیف باتیں ہیں‘ ایک ان کا خواتین ہونا‘ ایک ان کا مردوں کو تنگ کرنا۔ اس پر تو جمشید دستی کو شرارتی خواتین کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ خواتین کو ہراساں کرنے کیخلاف قانون پورے ملک پر لاگو ہو گا اور اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ جو لوگ ایوانوں کے اندر یا ایوانوں کے باہر خواتین کو بدنیتی کی بنیاد پر ہراساں کرتے ہیں‘ ان کیخلاف کارروائی کی جا سکے گی۔
بھارتی اداکار جان ابراہم لہنگا پہن کر ماڈلنگ کرینگے۔
لگتا ہے جان ابراہم پچھلے جنم میں عورت رہی ہیں اور ممکن ہے اس جنم میں ماڈلنگ کا کوئی دستور نہ ہو‘ اس لئے انکے دل کی خواہش دل ہی میں رہ گئی ہو۔ اب دوسرے جنم میں انکی مراد برآسکتی ہے کیونکہ ان کا چہرہ اتنا نسوانی ہے کہ اگر کوئی ماہر ان کا میک اپ کرے تو وہ اچھی خاصی خوبصورت لڑکی اور دھان پان دوشیزہ نظر آسکتی ہیں۔ ان کا اپنا کہنا ہے کہ وہ بنیادی طور پر ماڈل ہیں اور انہیں ماڈلنگ میں بہت مزہ آتا ہے۔ ان کا اب بھی جی چاہتا ہے کہ وہ ماڈلنگ میں حصہ لیں اس لئے وہ لہنگا پہن کر ماڈلنگ کرینگے۔ عین امکان ہے کہ ان کے اس شو کے بعد ممبئی کے کئی سیٹھوں کی طرف سے پرپوزل آجائے۔ بہرحال ان کا آئیڈیا اچھا ہے کیونکہ اس طرح انکے اندر چھپی ہوئی حسینہ کو باہر آنے کا موقع مل جائیگا اور ممکن ہے کہ امیتابھ بچن ان پر لٹو ہو جائیں۔ وہ نسوانی حد تک اتنے خوبصورت ایکٹر ہیں کہ اگر ایکٹریس ہوتے تو ممکن ہے ابھیشک بچن ایشوریا رائے کے بجائے ان سے شادی کرلیتے چلو اچھا ہوا کہ مرد کے روپ میں جنم لے کر بچ بچا ہو گیا۔
٭…٭…٭…٭
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات صوبوں کی مرضی کیخلاف نہیں جائیں گے۔
اس موقع پر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے درمیان ون ٹو ون ملاقات ہوئی جس میں ملکی سیاسی امن و امان کی صورتحال بلدیاتی انتخابات اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر نے شیخ رشید احمد پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس واقعہ میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پورے ملک میں نیا پولیس آرڈر لایا جائیگا اور صوبوں کو بااختیار بنانے کی پالیسی جاری رکھی جائیگی۔
صدر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پورے ملک میں عدل و انصاف کا بول بالا چاہتے ہیں اور انکی یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ بلدیاتی انتخابات صوبوں کی مرضی کیخلاف نہیں جائیں گے۔ اس وقت جبکہ سندھ اور پنجاب میں پانی پر اختلاف چل رہا ہے‘ ان کا یہ کہنا تریاق کا کام کریگا‘ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی صوبہ دوسرے کے وسائل پر قبضہ نہ کرے۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے این آر او پر تفصیلی فیصلے پر عملدرآمد پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ حکومت اعلیٰ عدلیہ کا احترام کرتی ہے‘ عدالتی فیصلوں کے تحت آٹھ ہزار چونتیس میں سے 8032 کیسز کھل چکے ہیں‘ اگر صدر زرداری اپنے ان خیالات پر باقاعدہ عملدرآمد کرائیں تو مسائل کے حل میں تاخیر نہیں ہو گی اور یہ تاثر ملے گا کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے اور ملک کی خدمت کرے۔
٭…٭…٭…٭
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں