بال ٹھاکرے کی پوتی نے مسلمان سے شادی کرلی اور پوتی کے اسلام قبول کرنے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ نیہا اور محمد نبی فزیو تھراپسٹ ہیں‘ ملاقات ڈیڑھ برس قبل ایک کلینک میں ہوئی‘ بال ٹھاکرے کے خاندان نے شادی میں بھرپور شرکت کی۔ بال ٹھاکرے نہ صرف اس شادی پر رضا مند ہوئے بلکہ پوری طرح شریک ہونے کے ساتھ ساتھ دولہا دلہن کو مبارکباد بھی دی۔
خدا نصیب کرے ہند کے ”نیتاﺅں“ کو
وہ سجدہ جس میں ہے ملت کی زندگی کا پیام
یہ تو ایک اجتماعی دعائے خیر تھی جو قلم سے نکل گئی‘ تاہم وہ بال ٹھاکرے جو مسلمانانِ ہند کیلئے کنوئیں کھودتے ہیں‘ کیا شان ہے میرے رب کی کہ آج انکے جگر کا ٹکڑا اسلام کے پہلو میں سما گیا ہے اور دوسری جانب امیتابھ بچن کو بھی اللہ نے توفیق دی ہے کہ وہ قرآن سے اطمینان قلب حاصل کرنے لگے ہیں کیا پتہ بال ٹھاکرے اب مزید مسلمانانِ ہند کیلئے وبال ٹھاکرے نہ بنیں اور وہ بھی پورا قرآن نہیں تو ایک پنجسورہ ہی حاصل کرکے باترجمہ پڑھ لیں۔ کیا پتہ وہ بھی ماضی کے کروڑوں ہندوﺅں اور اپنی پوتی کی طرح اسلام کے دامن میں پناہ لے کر ہر مصیبت سے محفوظ ہو جائیں۔
یہ انکی دریا دلی ہے کہ انہوں نے نہ صرف اس شادی کو قبول کیا بلکہ جوڑے کو مبارکباد بھی دی۔ ہندوستان کی تقدیر اور گیتا دونوں میں صنم پرستی کی نفی ہے اگر صنم پرستی ہی کرنی ہے تو بال ٹھاکرے بالی وڈ چلے جایا کریں‘ چلتے پھرتے جیتے جاگتے صنم تتلیوں کی مانند اڑتے پھرتے ہیں۔ یہ کم از کم بے جان پتھروں کے چرنوں میں بیٹھنے جیسے گناہِ بے لذت سے بہتر ہو گا۔
ہم بال ٹھاکرے کو پاکستان آنے کی بھی دعوت دیتے ہیں‘ وہ ہمارے گنبد بھی دیکھیں کہ انکی اجلی چھاﺅں میں کتنی ٹھنڈک ہے اور انہیں ایک معبود کی پرستش کی دعوت بھی دیتے ہیں۔
٭....٭....٭....٭
خبر آئی ہے کہ شامی فوج نے حضرت خالد ابن ولید کا مزار شہید کر دیا۔ دیواریں گولیوں سے چھلنی کردی گئیں‘ شامی فوج نے کہا‘ اس مزار میں مزاحمت کار چھپے ہوئے تھے‘ اس لئے یہ کارروائی کرنا پڑی۔
شامی فوج کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ خالد بن ولید غازی تھے اور شوق شہادت لے کر اس دنیائے فانی سے رخصت ہوئے۔ شامی فوجیں یہ مت بھولیں کہ سیف اللہ کسی وقت بھی حرکت میں آسکتی ہے۔ جہاں تک مزاحمت کاروں کے وہاں چھپنے کا تعلق ہے‘ تو اگر مزاحمت کار نعوذباللہ روضہ رسول یا کعبة اللہ میں چھپ جائیں تو کیا وہاں بھی شامی فوجیں یہی کچھ کرینگی۔
بشار الاسد کیخلاف عوام الناس کا بغاوت کرنا اگرچہ امریکی اشارے کا نتیجہ ہے تاہم وہ بھی سوچ رکھیں کہ مصر والی پوزیشن نہ ہو جائے کیونکہ وہاں بھی امریکی ہاتھ تھا‘ جو بعد میں کٹ کر گر گیا۔ یہی عمل شام میں بھی ہو سکتا ہے۔ شام کی سرکاری فوج کو عوامی فوج کے سامنے اتنی زیادہ بھی پھرتی نہیں دکھانی چاہیے کہ وہ اسلامی تاریخ کے عظیم جرنیل‘ صاحب سیف اللہ صحابی رسول خالد بن ولید غازی کے مزار کو بھی گولیوں کا نشانہ بنا دیں۔ امریکہ عالم اسلام کو منتشر و تباہ کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے لیکن ....ع
الٹی پڑ گئیں سب تدبیریں‘ کچھ نہ دوا نے کام کیا
شام اسرائیل کے راستے کا وہ پتھر ہے جو اسے باقی عرب دنیا میں داخل ہونے سے روکتا ہے۔ بشار الاسد اور شام کے عوام اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ امریکہ کا ولدالحرام انکے تعاقب میں ہے۔ اس لئے محفوظ راستہ اختیار کریں اور ایک عوام کی نمائندہ حکومت بنا کر فریقین راضی ہو جائیں‘ اسی میں خیر ہے۔
٭....٭....٭....٭
حجام اندھا ہو گیا‘ زمینداروں نے ظلم کی انتہا کردی‘ چار ظالموں کا ریمانڈ۔ بیوی بھی بااثر ملزموں سے ملی ہوئی ہے۔ اس کیخلاف بھی کارروائی کی جائے۔
ننکانہ کے ایک حجام کو بااثر زمینداروں نے تیزاب چھڑک کر اندھا کر دیا‘ اسکی بیوی بھی بے وفا نکلی اور مجرموں کے ساتھ مل گئی۔ یہ بے اثر کب تک بااثر افراد کے ہاتھوں ظلم سہتے رہیں گے؟ یہ حجام تو اندھا ہو گیا لیکن حکومت پہلے ہی اندھی آندھی بن چکی ہے‘ یہی وجہ ہے کہ آنکھوں جیسی نعمت سے حجام محروم ہو گیا۔
کیا کبھی کوئی ایسی قیادت بھی آئیگی جو ظالموں کی حجامت اس طرح سے کرے کہ انکی جڑوں تک پر اُسترا پھر جائے اور پھر یہاں کوئی ظالم زادہ جنم نہ لے سکے۔ ہماری پولیس نے چار ظالموں کا تو ریمانڈ لے لیا اور مرکزی مجرم کی تلاش میں اسکی آنیاں جانیاں دیدنی ہیں۔ آخر کیا ہو گا‘ حجام کسی چوراہے پر بھیک مانگے گا‘ اسکی جفاشعار بیوی زمینداروں کے کام کی نہ رہ کر دربدر کی ٹھوکریں کھائے گی۔ عدالت تک کیس اور تھانے میں چار مجرم پہنچ چکے ہیں‘ مگر آخرکار عدالت بھی پہنچ میں آجائیگی اور پولیس تو ریٹائر ہو کر بھی موثر ہوتی ہے جبکہ اس کا منہ گنگا کی طرف ہوتا ہے۔ کرسی پر بیٹھتی ہے تو گویا جرموں پر بیٹھتی ہے اور خوب انڈے دیتی ہے۔ یہ ظلم بھی ٹی وی پر چلنے والی پٹی کی طرح گزر جائیگا اور پھر اگلے روز ظلم کی اگلی پٹی چلے گی کہ پچھلی کو مٹا دیا گیا۔ اور اگر اس ملک میں ظلم نہیں مٹے گا تو غریب مظلوم محروم حجام ہو یا کوئی اور اسی طرح لٹے گا۔ اس حجام کا تو جہاں لُٹ گیا‘ کیا اس کربلا پر ایکشن تو کجا‘ کوئی ماتم کرنےوالا بھی نہ ہو گا۔ یہ آسمان کہیں ٹوٹ نہ پڑے۔