بدھ ‘ 23 ؍ ربیع الاوّل 1431ھ‘ 10 ؍ مارچ 2010ء

ـ 10 مارچ ، 2010
ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کے باعث پانچ ماہ کی حاملہ خاتون جاں بحق ہو گئی‘ طبیعت خراب ہونے پر سلیم نامی شخص اپنی بیوی سدرہ کو لے کر لیڈی ایچی سن ہسپتال گیا‘ وہاں اس نے بار بار ڈاکٹروں سے چیک کرنے کیلئے کہا‘ مگر انہوں نے چیک نہ کیا‘ جس کے نتیجے میں سدرہ کو دو خون کی الٹیاں ہوئیں اور وہ چند منٹوں میں دم توڑ گئی۔
پولیس کے بعد ڈاکٹروں کا نمبر ہے‘ کیونکہ جس طرح ہر روز چھترول کی خبریں آتی ہیں‘ اسی طرح ہر روز کسی نہ کسی ہسپتال میں غفلت سے انسان مارنے کی خبر آتی ہے۔ آئی جی پولیس کی طرح وزیر صحت کا بس چلے تو وہ ہسپتالوں میں مریضوں کا داخلہ ہی بند کر دیں۔
ہمارے خیال میں سارے محکموں کے سربراہ آئی جی پولیس اور وزیر صحت بن چکے ہیں‘ جن کو عوام پر کوئی ترس نہیں آتا۔ ایچی سن ہسپتال میں ڈاکٹروں کو بار بار کہنے کے باوجود انہوں نے مریضہ کو دیکھنا تک گوارا نہ کیا‘ کیا تھانوں اور ہسپتالوں میں انسانی زندگی اتنی ارزاں ہو چکی ہے؟
محکمہ صحت کے کرتا دھرتا حضرات اس واقعے کا نوٹس لیں بلکہ لاہور کے تمام ہسپتالوں کو مانیٹر کریں اور ایسی ٹیم تشکیل دیں جو مریضوں کی سنے اور اسکی ڈاکٹر سنیں۔ وگرنہ کوئی وقت آئیگا کہ تھانوں اور ہسپتالوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جائیگا۔ ڈاکٹر لوگ اپنے کلینکوں میں بھاری فیس لے کر تو مریض کی خوب آئو بھگت کرتے ہیں مگر ہسپتال میں ڈیوٹی کی جگہ موت بانٹتے ہیں۔
سارے ڈاکٹر اور سارے پولیس والے برے نہیں ہیں مگر چند ایک افراد کی ’’نیکی‘‘ سے اب برائی کا گراف بہت آگے نکل گیا ہے۔ کچھ اس کا بھی علاج اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟
٭…٭…٭…٭
گورنر پنجاب نے کہا ہے شہباز شریف کو بتانا پڑیگا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہیں یا خلاف؟ دو خطرناک دہشت گرد سیاسی مقاصد کیلئے رہا کر دیئے گئے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ سلمان تاثیر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیں اور آئین کے مطابق غیرجانبدار کردار ادا کریں۔
گورنر پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے درمیان جو نوک جھوک چل رہی ہے‘ اس سے ہمیں پنجابی کا یہ محاورہ یاد آگیا کہ:
’’جوں تکھ دی لڑائی‘ پابو نَسی نَسی آئی‘‘
پنجاب کے چیف ایگزیکٹو وزیر اعلیٰ شہباز شریف ہیں اور صدر کے نمائندے گورنر پنجاب سلمان تاثیر ہیں‘ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان میں سے جوں کون ہے اور تکھ کون؟ باقی رہ گئی بات پابو کی تو وہ ہلکی سی سر میں خارش کرکے دونوں کی لڑائی تھوڑی دیر کیلئے روک لیتی ہے۔
وزیراعلیٰ کی جھوک ہلکی جبکہ گورنر کی نوک بڑی تیز ہوتی ہے‘ مگر تاثیر ہونے کے باوجود اثر صفر ہے۔
یوں لگتا ہے کہ حکومت پر عوام اس نوک جھوک کو طبلے اور ستار کی نوک جھونک سے زیادہ نہیں سمجھتے۔ ستار کو پتہ ہونا چاہئے کہ طبلے کی دھمک بڑی زوردار ہوتی ہے۔
ممکن ہے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی کوئی بات صحیح بھی ہو مگر کہنے کا انداز چاقو چھری والا ہوتا ہے۔ شاید وہ چاہتے ہیں کہ یہ پنجاب کی مخلوط حکومت مخبوط حکومت بن کر رہے۔ ان دونوں میں انصاف اسی طرح ہی ہو سکتا ہے کہ انکی دھینگا مشتی جاری رہنے دی جائے اور لوگ تالیاں بجا کر محظوظ ہوتے رہیں۔
گورنر تو اس سے پہلے بھی بہت گزرے ہیں‘ وہ وزیر اعلیٰ پر تنقید بھی کرتے رہے اور لوگ اسکی تصدیق بھی کرتے رہے مگر یہ واحد تنقید ہے جو بغیر تصدیق کے چل رہی ہے۔
٭…٭…٭…٭
وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے‘ افغانستان کے راستے بھارتی اسلحہ آرہا ہے‘ بھارت کو شواہد پیش کرینگے۔
خدا کا شکر ہے کہ وزیر داخلہ بھی اب ایسے بیانات دینے لگے ہیں جن کا تعلق حق سچ سے ہوتا ہے اور ان کا روئے سخن بھارت جیسے کمینے دشمن کی طرف پھر چکا ہے۔
یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ امریکہ کے توسط سے بھارت کو افغانستان میں رسائی حاصل ہوئی ہے اور وہ وہاں سے دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑنے کے بجائے پاکستان کی سرحد پر ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم کئے ہوئے ہے۔ ایسے ثبوت سامنے آچکے ہیں جن سے اب کوئی یہ انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کو بھارت اسلحہ سپلائی کر رہا ہے‘ یہ نہیں ہو سکتا کہ امریکہ اس شرارت سے بے خبر ہو۔
اس وقت دہشت گردی پاکستان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے‘ اگر بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کو اسلحہ سپلائی کر سکتا ہے تو تربیت یافتہ دہشت گرد بھی بھیج سکتا ہے‘ بلکہ بھیج رہا ہے۔
ہماری وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کو اپنے نیزے سیدھے کرلینے چاہئیں اور بھارت کو اسی طرح ترکی بہ ترکی جواب دینا چاہئے‘ نہ صرف یہ بلکہ ضروری ہو گیا ہے کہ دہشت گردوں کو بھارت کے اسلحے کی اس ترسیل کے معاملے کو پوری دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور اپنے ’’دوست‘‘ امریکہ سے بھی پوچھا جائے کہ کیا اس نے بھارت کو افغانستان میں اسی لئے بلایا تھا کہ وہ پاکستان کی بربادی میں اس کا ساتھ دے اور بہانہ دہشت گردی کے خاتمے کا بنایا جائے۔
بھارت کو یہ معلوم ہونا چاہئے اور کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ پاکستان کے آہنی ہاتھ اسکی کلائیوں کی چوڑیاں توڑ کر رکھ دیںگے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter