تازہ ترین:

منگل‘ 15 صفر المظفر 1433ھ‘ 10 جنوری 2012

ـ 10 جنوری ، 2012
مولانا فضل الرحمان نے کہا: زرداری کو اداروں کی تباہی نظر نہیں آتی تو اپنی کوتاہ نظری کا اعتراف کرلیں۔ ججوں کو نہیں‘ عدالتوں کے فیصلے بولنے چاہئیں۔
لگتا ہے مولانا ججوں کو گونگا اور صدر کو نابینا سمجھتے ہیں جبکہ وہ خود پائے لنگ ہیں۔ زرداری کی آنکھوں کو سب کچھ نظر آتا ہے اور دیکھتے بھالتے وہ برداشت کر رہے ہیں‘ اتنی برداشت والا صدر بھلا ہمیں کہاں سے ملے گا؟ مولانا بفضلہ اولانا کا انداز سیاست نیمے دروں‘ نیمے بروں جیسا ہے‘ وہ ایک طرف کوتاہی صدر کی بات کرتے ہیں تو دوسری جانب ججوں کو خاموش رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے فقہ کی کس کتاب میں پڑھا ہے کہ قاضی مقدمہ کو سنے‘ فیصلہ دے اس کو بولنے کی ضرورت نہیں۔ جو فیصلے بولتے ہیں‘ وہ غلط بھی ہو سکتے ہیں‘ صحیح بھی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے غلط صحیح کی بات نہیں کی‘ بس فیصلے بولنے کی اجازت دی ہے۔ کہنا چاہیے تھا کہ ججوں کے فیصلے بولنے چاہئیں‘ وہ کیوں عالم دین ہوتے ہوئے غیرعالمانہ شاعری میں بات کرتے ہیں۔ کشمیر کے بارے میں انکی شاعری تو اب ایک دیوان کی صورت چھاپی جا سکتی ہے۔ سیاسی سوجھ بوجھ کوئی افلاطون کا فلسفہ نہیں کہ جسے سیاست دان اس طرح سے پیش کریں جیسے یہ کوئی مابعدالطبیعاتی مسئلہ ہے جس کی بنیاد پر مبارک ثمرمند جیسے عبقری سائنس دان کی بات بھی نہ سنی جائے اور بعض سیاست دان اور حکمران تو اس طرح سے دھمکی آمیز سٹائل میں گویا ہوتے ہیں کہ....
پڑا فلک کو کبھی کرسیوں والوں سے کوئی کام نہیں
جلا کے راکھ نہ کر دوں تو حکمران میرا نام نہیں
٭....٭....٭....٭
رحمان ملک نے فرمایا ہے: پرویز مشرف کو آتے ہی گرفتار کرلیں گے۔ نواز شریف اور منصور اعجاز میں رابطوں کی معلومات وزیراعظم کو دے دیں۔
رحمان ملک ہنوز نادان ملک چلے آرہے ہیں‘ حالانکہ حالات کافی چشم کشا ہیں ان کو یہ پتہ نہیں کہ مشرف جیسے سانڈ کو پہلے گرفتار اور بعد میں لانا پڑےگا وگرنہ وہ بھائی الطاف کی سنت پر کیوں چلتے؟ یہ سب ازخود جلاوطن حضرات ملاحظہ فرمائیں....
وطن کو بھلاتے بھی نہیں وطن آتے بھی نہیں
خوب حب الوطنی ہے کہ اپنے ہی لوگوں میں آتے بھی نہیں
نادان ملک ہر ناممکن بات کو اس ممکن انداز میں کرتے ہیں کہ لوگ جاگتے میں خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ جب کسی مجرم کو پاکستان لا نہیں سکتے تو اسے آتے ہی گرفتار کیسے کر سکتے ہیں؟ لگتا ہے ملک صاحب نرگسیت کا شکار ہو کر خود اپنی ذات میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ رہائی کا امکان قریب ہے اور پھر سدا آزاد ہی رہیں گے۔ میاں نواز شریف اپوزیشن لیڈر اور ملک کی دوسری بڑی پارٹی کے سربراہ ہیں‘ منصور اعجاز ان سے نہیں تو رحمان ملک سے ملتے اور ان کو ربوہ کی سیرا کراتے؟ بہرحال رحمان ملک اپنی ”کڑکّی“ لگائے رکھیں مگر ذرا ہاتھ بچا کے کہیں وہ خود اس میں نہ آجائیں۔ پرویز مشرف کی آمد آمد اگر واقعتاً آمد ہوتی تو یوں وہ فون پر خطاب نہ کرتے۔ یہ کس قدر دانائی کی بات ہے کہ نادان ملک نے فیصلہ دے دیا ہے‘ نواز شریف کو بتانا پڑیگا منصور اعجاز سے انکا کیا تعلق ہے؟ وہ سازش میں کیوں شریک ہوئے؟ حالانکہ یہ سوال تو نامہ برونامہ گر سے پوچھنا چاہیے۔ نادان ملک کو اسکے سوا کیا خراج تحسین پیش کیا جا سکتا ہے ....
قرعہ فال کے ممنونِ عنایت نہ رہے
ہم تو وہ ہیں جنہیں تدبیر سے ڈر لگتا ہے
٭....٭....٭....٭
فردوس عاشق اعوان فرماتی ہیں: مہنگائی کا ازالہ کرنا صوبائی حکومت کا کام ہے۔
کیوں محترمہ! یہ صوبے کو ذمہ دار ٹھہرانے کا تکلف کیا‘ مہنگائی کا ازالہ کرنا کسی کی ذمہ دار ی ہی نہیں۔ ملک تباہ ہو جائے‘ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ لوڈشیڈنگ کا ملک گیر سونامی آجائے‘ کوئی صوبہ ذمہ دار نہیں‘ خاص کر پنجاب کا صوبہ۔ لوگ اپنے لئے نئے صوبے بنا رہے ہیں اور آپ اپنے ہی صوبے کو ملوث کرکے مرکز کو بچا رہی ہیں؟ کیا آپ کو اب بھی کائرہ کا ڈر ہے؟ تسلی رکھیں بس یہ آخری برس ہے پھر آپ بالکل بے خوف ہو کر کلینک چلا رہی ہونگی۔ مرکز جب مرکزی کنٹرول ہاتھ میں نہ رکھے تو صوبوں میں کنٹرول کیا چیچو کی ملیاں سے آئیگا؟ مرکز کیا اچھائی کا ارزانی کا ازالہ کریگا‘ فردوس عاشق کو رنجیدہ کیوں ہونے دیں‘ انہیں اچھا سا لطیفہ انکے بیان سے لگا کھاتا ہوا سناتے ہیں۔ بچے نے باپ سے پوچھا‘ پانی کہاں سے آتا ہے؟ باپ نے کہا‘ دریا سے۔ دوسرے دن باپ بیٹے کو دریا دکھانے لے گیا‘ بیٹے نے باپ کو دریا میں دھکا دے دیا اور گھر آکر ماں سے کہا‘ امی جلدی کریں نلکا کھولیں‘ ابا جان آرہے ہیں۔ اس لطیفے میں گرانی کے دریا اور صوبوں کی ٹونٹیوں سے اسکے نکلنے کی بات واضح ہے‘ عاشق اعوان ایوان صدارت کو اطلاع دیدیں۔ فردوس عاشق اعوان نہایت بیبی سی بی بی ہیں‘ انکے آنسوﺅں کی جتنی قدر گیلانی نے کی اس کا ان کو بہت اجر ملے گا۔ لیکن وہ وعدہ کریں کہ وہ آئندہ کبھی وزارت اطلاعات کا کوئی کام کائرہ سے نہیں لیں گے۔ چاہے کائرہ اطلاعات کے کتنے ہی ماہر کیوں نہ ہوں....
دلوں کے ساتھ یہ اشکوں کی رائیگانی بھی
کہ ساتھ آگ کے جلنے لگا ہے پانی بھی
لیکن اشکہائے فردوس پر تو رشک آتا ہے کہ رائیگاں نہیں گئے۔
٭....٭....٭....٭
عمران خان کا قول ہے: ابھی تک پولیٹیکل کلاس مجھے سمجھ ہی نہیں سکی۔
جب کوئی بچہ نیا نیا کلاس میں داخل ہوتا ہے تو کافی عرصہ کلاس کے بچے اسے پہچان نہیں پاتے‘ انہوں نے ایک قول زریں یہ بھی پیش کیا کہ زرداری‘ گیلانی اور نواز شریف کو صرف پیسہ بنانے کی فکر ہے‘ خان صاحب شکر کریں کہ انہیں پیسہ بنانے کا شوق ہے‘ پیسہ لٹانے کا نہیں اگر خان صاحب اپنے سونامی پر سوار منزل تک پہنچ گئے تو انکو قوم کے پورے کے پورے پیسے واپس مل جائینگے۔ بشرطیکہ وہ بھی بنانے میں مشغول نہ ہو جائیں کیونکہ ایک صحافی نے کہا کہ وہ ان کا انٹرویو کرنے گئے‘ خان صاحب انکے سامنے دہی میں شہد ملا کر کھاتے رہے۔ مگر صحافی کو پوچھا تک نہیں اور کہنے لگے‘ آپ انٹرویو شروع کریں۔ الغرض وہ خاصے فیاض ہیں۔ یہ اچھا ہے وہ وزیراعظم بن کر کم از کم خزانے پر بیٹھے تو رہیں گے۔ ہم ان کو اتنا عرض کر دیں کہ سیاستدان ان کو اچھی طرح سمجھ گئے ہیں‘ اسی لئے تو انہوں نے کہا کہ سیاست دان ان سے ڈر گئے ہیںاور اسلام آباد کی پہاڑی پر تین ساڑھے تین سو کنال کے اپنے بنگلے کے بارے میں فرماتے ہیں‘ یار سستے زمانے کا ہے۔ وہ سستا زمانہ کہیں مفت کا زمانہ تو نہیں تھا؟
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter