بدھ ‘ 25؍ صفر المظفر1431ھ‘ 10 ؍ فروری 2010ء

ـ 10 فروری ، 2010
خبر ہے قطر میں سیرتِ طیبہ پر النور ہولڈنگ کمپنی انگریزی میں فلم تیار کرے گی۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اپنی نوعیت کے منفرد اجلاس میں نامور علماء کرام نے پیغمبر اسلامؐ کی سیرت طیبہ پر انگریزی میں تیار کی جانے والی بِگ بجٹ فلم پر بحث مکمل کر لی ہے۔ اس فلم کی تیاری کیلئے معروف امریکی فلم ساز بیری اوزبرن کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ بحث میں اس بات پر غور کیا گیا کہ فلم میں حضورؐ کی گفتگو اور افعال کو کیسے پیش کیا جائے گا اور اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ نبی آخرالزمانؐ کو نور‘ سایہ یا کسی دوسرے انداز میں پیش کیا جائے اور صحابہؓ کو کیسے پیش کیا جائے تاہم ابھی تک فلم کی شرعی حیثیت پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اسلام کو فلموں کے ذریعے پھیلانے کا تصور بھی لگتا ہے ایک سازش ہے‘ جتنا پیسہ دوحہ اس فلم کی تیاری پر خرچ کرے گا وہ اسے دنیا بھر میں اسلامی تبلیغی ادارے قائم کرنے پر بھی خرچ کر سکتا ہے۔
یہ فلم اپنی تیاری میں بے تحاشا مشکلات سے دوچار ہو گی اور قدم قدم پر شریعت سے بھی ٹکرائے گی اگرچہ اس پر غور و خوض میں جید علماء کرام شامل تھے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ انہوں نے اس کی کوئی مخالفت نہیں کی۔ دوحہ اگر اسلام کی خدمت ہی کرنا چاہتا ہے اور رسول اللہ ؐکی روح کو خوش کرنا چاہتا ہے اس کے غیر فلمی طریقے بھی ہیں وہ اس دولت کو عالم اسلام کو یکجا کرنے پر بھی خرچ کر سکتا ہے اور عالم اسلام کے مسائل حل کرنے کے سلسلے میں بھی کام میںلا سکتا ہے۔
٭…٭…٭…٭
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے بھارت کے سامنے نہیں جھکیں گے دباؤ میں آئے بغیر قوم کا مقدمہ لڑیں گے۔
وقت کا تقاضا تو یہ ہے کہ قریشی صاحب کے بیان میں قوم کا مقدمہ کے الفاظ نہ ہوتے اور بیان یوں بنتا کہ بھارت کے سامنے نہیں جھکیں گے دباؤ میں آئے بغیر لڑیں گے۔ قریشی صاحب کی باتیں زیادہ تر خوش فہمیوں پر مبنی ہوتی ہیں اُن کا یہ کہنا کہ دنیا دہشت گردی کے خلاف ہمارے ساتھ ہے اِک خیال ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اب ہر بات مذاکرات کے ذریعے ہی طے ہو گی کیا 62 سالہ مذاکرات کے ذریعے کوئی بات طے ہوئی ہے جو اب ہو گی۔
باقی جہاں تک قوم کا مقدمہ لڑنے کا تعلق ہے تو مقدمہ ہم ہار چکے ہیں البتہ لڑیں گے کی گنجائش باقی ہے وہ بھی یہیں ہیں قوم بھی یہی ہے سب دیکھ لیں گے کہ مذاکرات کے ذریعے کشمیر کا مسئلہ حل ہوتا ہے کہ نہیں ہماری طرف سے بھارت کو پیار محبت کی باتیں ارسال کی جاتی ہیں جبکہ من موہن‘ چدم برم وغیرہ وغیرہ نے پاکستان پر الزامات کے دفتر کھول رکھے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کب دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوئی ہے کہ دو ایٹمی ملکوں کے درمیان پانی اور کشمیر کا مسئلہ ایٹمی جنگ کا شاخسانہ بن سکتا ہے۔ وزیر خارجہ کو چاہیے کہ اپنے سفیروں کو چُست کریں اور اپنی سفارت کاری کو مؤثر بنائیں۔
٭…٭…٭…٭
عافیہ صدیقی کو امریکہ سزا دے کے چھوڑے گا۔ عالم اسلام کا یہ حال ہے کہ عافیہ پاکستان کی بیٹی ہے اسلام کی بیٹی نہیں اگر آج 57 اسلامی ممالک عافیہ کو اسلام کی بیٹی سمجھتے ہوئے امریکہ پر عملی دباؤ ڈالیں تو کوئی وجہ نہیں کہ امریکہ عافیہ کو رہا نہ کر دے‘ رہی ہماری بات تو وہ پاکستان کی بیٹی تو ہے مگر سوتیلی کیونکہ ہم اس کے دشمنوں کے دوست ہیں۔ ہم تو ابھی تک نمل یونیورسٹی میں ایک معزز پروفیسر کو زد و کوب کرنے وابے بریگیڈئر رانجھا کو نکال باہر نہیں کر سکے تو عافیہ کو کیا خاک چھڑائیں گے۔
ہمارے سینکڑوں لوگ اس لئے لاپتہ ہیں کہ ان کا امریکہ کو پتہ ہے اور ہم امریکہ کا پتہ کبھی بتاتے نہیں۔ عافیہ کی کہانی ایک من گھڑت امریکی کہانی ہے جس کو امریکی حکومت کا حکم ہے کہ اس لڑکی کو چھوڑنا نہیں اور تو اور عافیہ کے بچوں کا بھی پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں اور ماں بے چاری امریکی ظلم و صعوبت کی ماری جیل میں ان کو یاد کر کے روتی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ عورت نے حجاج کو پکارا تھا اور حجاج نے اس کی ایک پکار پر حملہ کر دیا تھا اور ایک یہ زمانہ ہے کہ اسلامی دنیا جھاگ بن کر رہ گئی ہے۔
٭…٭…٭…٭
بیٹے سے ملاقات نہ ہونے پر ماں تھانے میں ٹکریں مار مار کر ہلاک ہو گئی۔
یہ اُن کا حال ہے جن کے کاندھے پر لکھا ہوتا ہے پولیس کا فرض ہے مدد آپ کی‘ کیا کسی پولیس مین کو اپنی ماں یاد نہ آئی جب کسی کی ماں ان کے سامنے بیٹے سے ملاقات کی خاطر ٹکریں مار مار کر زندگی ہار بیٹھی۔ ایسی پولیس کو تو ابلیس کہنا چاہیے‘ اب چاہے بعد میں کتنی ہی پوچھ گچھ کیوں نہ ہو ایک ماں تو بیٹے کو ایک نظر دیکھنے کی تڑپ لے کر جان دے گئی‘ شاید غیر بھی ہم پر اس لئے ترس نہیں کرتے کہ خود ایک دوسرے پر رحم نہیں کرتے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب سے ہم کس کس ظلم کی فریاد کریں‘ بہرحال جس تھانے نے ایک ماں کو مار دیا اس کے اہلکاروں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ اگر ان اہلکاروں کو بھرے چوک میں سزا دی جائے تو آئندہ کسی کی ماں ٹکریں مار کر ہلاک نہ ہوگی‘ پنجاب پولیس کے مظالم کی داستان بڑی طویل ہے‘ صرف اس لئے کہ اس کی کالی بھیڑوں کو نکال باہر نہیں کیا جاتا۔ لوگ میانی صاحب چلے جاتے ہیں مگر تھانے نہیں جاتے‘ آخر اس ظالم پولیس کو لگام ڈالنے والا کوئی ہے؟
٭…٭…٭…٭
برطانوی وزیر دفاع نے کہا ہے کئی سال سے طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ افغان حکومت کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
امریکی وزیر دفاع کبھی طالبان کے خلاف کارروائیاں کرنے میں بڑے پُرجوش اور تازہ دم دکھائی دیتے تھے اب بوڑھے شیر کی طرح اپنی کچھار سے ہی کمزور سی آواز نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زمانہ ہو گیا ہے طالبان کے ساتھ رابطے میں ہیں مگر طالبان اپنے ضابطے میں ہیں۔ امریکہ کو افغانستان پر وہی کچھ مل رہا ہے جو کبھی برطانیہ کو ملا تھا‘ خسارے کے سودے میں اب امریکہ اپنے نیٹو ساتھیوں کے سمیت تھک چکا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اپنی کسی جانشین حکومت کو طالبان کے ساتھ ملا کر یہاں سے چلتا بنے مگر طالبان اچھی طرح جانتے ہیں کہ کرزئی حکومت کے ساتھ مل کر حکومت بنانا امریکی حکومت قائم کرنے کے مترادف ہے۔ خود کرزئی صاحب کو بھی اب ہرے کوٹ میں شکنیں نظر آنے لگی ہیںوہ اس انجام سے ڈر رہے ہیں جو غداروں کا ہُوا کرتا ہے مگر اب تو حالت یہ ہے کہ امریکہ بھی اس کی مدد نہیں کر سکتا۔ امریکی وزیر دفاع اب کہہ رہے ہیں کہ مسئلہ مذاکرات سے ہی حل ہو گا جبکہ طالبان صرف جنگ سے واقف ہیں وہ مذاکرات جیسی منافقت کے قائل نہیں مزاحمت کرنے کے وہ بادشاہ ہیں۔ افغانستان شدید تباہیاں دیکھنے کے بعد پھر آزاد ہو گا اور وہاں اسلامی حکومت قائم ہو گی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter