تازہ ترین:

ہفتہ ‘ 14 محرم الحرام 1433ھ‘10 دسمبر 2011

ـ 10 دسمبر ، 2011
بھارتی اداکار امیتابھ بچن نے قرآن پاک کا مطالعہ شروع کر دیا۔ سکون قلب کیلئے قرآن پاک کا ترجمہ پڑھ رہا ہوں‘ مشورہ ٹوئٹر پر ایک پرستار نے دیا ....
لائے اس بت کو التجا کرکے
کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے
امیتابھ بچن کو کسی نے خوب مشورہ دیا ہے کہ بلاشبہ اللہ کے ذکر سے اطمینان قلب ملتا ہے اور انہوں نے قرآن حکیم کا ترجمہ پڑھنا شروع کر دیا۔ گویا کفر ہے مگر ٹوٹ گیا ہے۔ اب ٹکڑوں کو ملا کر مسلمان بنانا بھی قرآن ہی کا کام ہے کیونکہ یہ کتاب ایسی نہیں کہ جسے پڑھنے کے بعد انسان اپنے دل و دماغ میں تبدیلی محسوس نہ کرے اور اگر قرآنی مطالعے کے بعد بھی اسلام قبول نہ کیا تو قرآن ہی جواب دیگا کہ ”یضل بہ کثیر ویھدی بہ کثیراً“ (کہ اس قرآن سے کئی گمراہ اور کتنے ہی راہِ ہدایت پر گامزن ہونگے) شاید قرآن سے رغبت کا ایک سبب یہ بھی ہو کہ ایک آیت (نشانی) تو انکے گھر داخل ہو چکی ہے‘ اب پورا قرآن بچن خاندان کے ہاں پہنچ چکا ہے۔ کیا پتہ وہ آیت بھی انکی دیکھا دیکھی آیتِ الٰہیہ میں بدل جائے۔ قرآن ہدایت ہے‘ مگر ان کیلئے جو صاحب کردار ہوں‘ اگر امیتابھ بچن گناہ سے بچتے ہوئے اچھی نیت سے اس کتاب حکمت و ہدایت کو سمجھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ تو کیا‘ ”حسنِ کافر“ بھی مسلمان ہو جائے۔
آخر یہ پورا ہندوستان ہندو تھا‘ لیکن یہی ہندو اس کثرت سے اسی قرآن کے ذریعے مسلمان ہو گئے کہ ایک پوری مسلم ریاست نے جنم لے لیا اور 25 کروڑ مسلمان تو اب بھی صنم کدہ ہند میں اللہ کا نام لیتے ہیں اور پورے پورے مسلمان ہیں۔ امیتابھ بچن سے ہم بھی کہیں گے کہ قرآن نے برملا کہا ہے: ”بلاشبہ اللہ ہی کے ذکر سے اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے“
٭....٭....٭....٭
فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے حوالے سے صارفین اور بجلی کمپنیوں میں جھگڑے جاری‘ جبکہ نیپرا نے کہا ہے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز معاف نہیں ہونگے۔
فیول ایڈجسٹمنٹ درحقیقت صارفین کو ڈی ایڈجسٹ کرنے کا پروگرام ہے اور ہمارے ہاں اس طرح کی تخریب بداماں اصلاحات کو خوب پذیرائی ملتی ہے۔ بجلی کے ایک عام بل میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی رقم اصل بجلی کے اخراجات سے بڑھ جاتی ہے‘ گویا اصل زر سے سود کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ یہ صارفین ہی کے ساتھ نہیں بلکہ صارفین کے خدا کے ساتھ بھی کھلی جنگ ہے۔ جب فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے حوالے سے صارفین اور بجلی کمپنیوں میں جھگڑے جاری ہیں تو پھر نیپرا کا یہ پینترا ظالمانہ ہے کہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز معاف نہیں ہونگے۔
آجکل معافی بہت مہنگی ہوتی جا رہی ہے اس لئے نیپرا بھی یاد رکھے کہ صارفین کی جانب سے اسے اس دریدہ دہنی کے ساتھ انکار کرنے پر بھی معاف نہیں کیا جا سکتا اور جب عوام بپھر جائیں تو ہمالہ کو بھی پست قامت ہونا پڑتا ہے اس لئے کہ عزمِ عوام تیشہ فرہاد ہے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز عائد کرنا ایک ایسا چارج ہے جو نیپرا کی جڑوں تک پہنچ گیا تو اسے 440 وولٹ کا کرنٹ لگے گا....
جو کہ ظالم ہے وہ ہرگز پھولتا پھلتا نہیں
سبز ہوتے کھیت دیکھا ہے کہیں شمشیر کا
یہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز فی الفور نیپرا ختم کرے ورنہ یوں نہ ہو کہ ستے ہوئے عوام کے ہاتھوں یہ ”ن ی پ را“ ہو جائے۔ بجلی کے بلوں سے دلوں کی یہ حالت ہے کہ پچھلے دنوں ایک شخص بل دیکھ کر ہی دل کا دورہ پڑنے سے نیپرا کے ظلم کی نذر ہو گیا کیونکہ....
دل ہی تو ہے نہ سنگ وخشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
٭....٭....٭....٭
مشرف لیگ کے حافظ محی الدین کے ریسٹ ہاﺅس پر چھاپے میں 17 لڑکیوں سمیت 37 گرفتار‘ چھاپہ قحبہ خانہ کی شکایت پر مارا گیا۔ سابق ایس ایچ او سول لائنز کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر فرار کرا دیا گیا۔
مشرف لیگ کے بجائے اسے پولیس لیگ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کیونکہ 37 عیاشوں کے ساتھ رنگے ہاتھوں ایک سابق ایس ایچ او سول لائنز کو بھی پولیس نے پکڑا مگر پیٹی بھائی ہونے کے ناطے سابق ایس ایچ او سول لائنز کو کمال پلسیانہ ہنرمندی کے ساتھ فرار کرادیا گیا۔ یہ جو پولیس افسر یا اہلکار جب تک سروس میں ہوں‘ لاکھ اور جب ریٹائر ہو جائیں تو سوا لاکھ کے ہو جاتے ہیں اور اتنی حرام کی دولت کمائی ہوتی ہے کہ فارغ البال ہو کر عیش و نشاط اور شراب و کباب میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ الاماشاءاللہ ماسوائے چند کے۔
پنجاب پولیس کو اس واقعے سے جو نیکنامی نصیب ہوئی‘ سو ہوئی لیکن پیر میخانہ و قحبہ خانہ کے مرید خاص حافظ محی الدین کو جو ”ثواب دارین“ ملا‘ اس کا ناطہ سرگردہ میخواران و حسن پرستاں حضرت پرویز مشرف سے جا ملتا ہے اس لئے اب انکی مشرف لیگ خوب پھلے پھولے گی اور مینا کو اتنی بار خالی کرینگے کہ صہبا کا قطرہ تک باقی نہیں رہے گا۔ فارسی میں کسی نے سچ کہا ہے کہ قیاس کن زگلستانِ من بہار مرا‘ خدا جانے اس ملک میں کتنے مشرف کتنے حافظ محی الدین اور کتنے ایس ایچ او سول لائنز ہونگے جن کے قحبہ خانوں نے ابھی تک بغاوت نہیں کی۔ 17 دوشیزائیں اور 37 عیاش ہوں تو 3.3 دوشیزائیں فی کس آئینگی اور آخری عرض یہ ہے کہ ایک حافظ قرآن اس قحبہ خانے کا انچارج چلانے والا اور شرکت کرنیوالا ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter