منگل ‘28 ؍ شعبان المعظم‘1431 ھ‘ 10 ؍ اگست 2010ء

ـ 10 اگست ، 2010
وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے کہا ہے‘ جوتوں کی سیاست کی تو ہمارے کارکنوں نے بھی دو دو جوتے پہن رکھے ہیں‘ دنیا بھر میں ہمارے کارکن موجود ہیں۔
انسان کے بعض پروگرام ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے اندر پہلے سے ہی جوتے موجود ہوتے ہیں‘ اس لئے سمجھ دار لیڈروں کو چاہیے کہ وہ جوتا پروگرام بنائیں ہی نہیں‘ بابر صاحب نے یہ کہہ کر ہمارے کارکنوں نے بھی دو دو جوتے پہن رکھے ہیں‘ اپنی ہی پارٹی کیخلاف بیان دے دیا ہے کیونکہ جس نے جوتے پھینکے‘ وہ پیپلز پارٹی ہی کا کارکن تھا‘ ظاہر ہے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے‘ اگر انکے دو دو جوتوں کا حساب لگایا جائے تو اس طرح تو جوتوں کی بارش ہو سکتی ہے۔ اس لئے بابر صاحب اپنے کارکنوں کے جوتوں پر نظر رکھیں بلکہ انہیں تلقین کریں کہ وہ آئندہ پیپلز پارٹی کے کسی اجلاس میں جوتے پہن کر نہ آئیں۔
جہاں تک مسلم لیگ نون کے جوتوں کا سوال ہے‘ تو وہ تاحال پرسکون ہیں‘ البتہ اس واقعہ میں مسلم لیگ نون کیلئے درس عبرت ضرور ہے۔ بابر صاحب خود رپورٹر بھی رہے ہیں‘ حیرانگی ہے کہ انہیں یہ تک خبر نہ ہو سکی کہ جوتا پھینکنے والا ان کا اپنا ہی کارکن ہے بلکہ انہیں اپنی ادائوں پر غور کے بعد یہ کہنا چاہیے…؎
دیکھا جو تیر کھاکے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
٭…٭…٭…٭
آل پاکستان مسلم لیگ کے رابطہ کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے‘ مشرف کیلئے وطن واپسی کی تاریخ کا حتمی اعلان کرنا ممکن نہیں۔
لگتا ہے کہ آل پاکستان مسلم لیگ کے رابطہ کمیٹی کے سربراہ بڑے سیانے آدمی ہیں‘ انہیں اندازہ ہو گیا ہے کہ دنیا بھر میں جوتا زنی کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے‘ اس لئے عقلمندی اسی میں ہے کہ اپنے لیڈر کو اس ’’اعزاز‘‘ سے بچایا جائے کیونکہ یہاں وطن عزیز کے کتنے ایسے جوتے بے تاب ہیں‘ جو مشرف کے ہاتھوں خون سے بھر گئے تھے‘ اسکے علاوہ بھی انکی کئی ایسی ’’خدمات‘‘ ہیں‘ جن کا صلہ ان کو جوتوں کی صورت میں مل سکتا ہے کیونکہ سترہ کروڑ جوتوں کو اگر دو سے ضرب دی جائے تو مشرف سیاست کی دکان کے بجائے جوتوں کی دکان کھول سکتے ہیں اور ’’بٹیر افگن‘‘ جیسے انکے جاں نثار بہترین سیلز مین ثابت ہو سکتے ہیں۔
آل پاکستان مسلم لیگ کے رابطہ کمیٹی کے عقلمند رابطہ سربراہ کو چاہیے کہ وہ پرویز مشرف کو بیرون ملک جلسوں سے منع نہ کریں کیونکہ اب زیادہ تر غیرت مند پاکستانی ملک سے باہر بھی موجود ہیں اور وہ جوتے بھی بڑے عمدہ قسم کے پہنتے ہیں۔ اس لئے امپورٹڈ جوتوں کی دکان بھی کھولی جا سکتی ہے اور یہاں تو ایسے پرانے مگر مرتد پرستار بھی موجود ہیں جو انہیں دس بار جوتوں کی دکان کھولنے کا مشورہ دینگے‘ البتہ وہ چاہیں تو الطاف حسین کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے کارکنوں سے ٹیلی فونک خطاب کر سکتے ہیں۔
لاہور بورڈ نے امیدواروں سے رزلٹ کارڈ کے 450 روپے وصول کرنے شروع کر دیئے۔
لاہور بورڈ کو مبارک ہو کہ اس نے اپنی دکان کے ریٹ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو دیکھ کر بڑھا دیئے اور اب وہ رزلٹ کارڈ بھی مہنگے ڈاموں بیچنے لگا ہے۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کے حکام نے اپنے بڑھتے ہوئے اخراجات بجائے پنجاب حکومت سے مانگنے کے‘ بورڈ کی بیوروکریسی کے اخراجات لاکھوں امیدواروں سے رزلٹ کارڈ دیتے وقت 450 روپے کی صورت میں وصول کرنے شروع کر دیئے ہیں‘ جس سے کروڑوں روپے بورڈ کو تو مل جائینگے‘ مگر یہ اضافی بوجھ والدین پر پڑیگا‘ والدین نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لاہور بورڈ کے حکام کو پابند کرے کہ وہ یہ فیس معاف کریں‘ کیونکہ یہ امیدواروں پر اضافی بوجھ ہے۔
کیا جعلی اسناد بیچنے کے بعدبھی اخراجات پورے نہیں ہوئے‘ دراصل بورڈ کے حکام کے اخراجات اور بورڈ کے اخراجات میں فرق ہے۔ بورڈ کے اخراجات پورے ہونے کی بات نہیں‘ درحقیقت بورڈ حکام کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے۔ حکومت پنجاب لاہور تعلیمی بورڈ سے اگر پوچھ سکتی ہے تو پوچھے کہ یہ امیدواروں سے گتے کے ایک ٹکڑے کے 450 روپے وصول کرنے کا کیا جواز ہے‘ جبکہ وہ بھاری بھرکم داخلہ فیس اسی مقصد کیلئے جمع کراتے ہیں‘ کیا یہ بچہ سقہ کی حکومت ہے کہ جس کے من میں جو آئے‘ لاگو کر دے اور قوم کی جیبیں کاٹنا شروع کر دے…ع
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا!
٭…٭…٭…٭
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ تسنیم قریشی نے کہا ہے‘ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی کے پیچھے غیرملکی ہاتھ ہے‘ اگر کوئی چینل یا اخبار سمجھتا ہے کہ وہ حکومت گرا سکتا ہے تو یہ اسکی غلط فہمی ہے۔
کیا ہمارے اپنے ہاتھ ٹوٹ گئے ہیں جو کراچی ٹارگٹ کلنگ میں بیرونی ہاتھوں کی ضرورت پیش آئیگی‘ ہمارے پاس تو باہر سے سوچ آتی ہے‘ امن آشا آتی ہے‘ پروگرام آتا ہے‘ ڈالرز آتے ہیں اور بے شمار ہاتھ متحرک ہو جاتے ہیں بلکہ بدامنی‘ لوڈشیڈنگ اور دیگر کئی مسائل و مصائب میں ڈوبی ہوئی قوم سیلاب میں ڈوب رہی ہے‘ ملاح اپنی عزت بحال کرنے میں لگے ہوئے ہیں‘ ان دنوں ہمارے ملک کی پوری صورتحال اس گیت کے لفظوں میں پوشیدہ ہے:
چنگاری کوئی بھڑکے تو ساون اسے بجھائے
ساون جو اگن لگائے اسے کون بجھائے
مانا طوفاں کے آگے نہیں چلتا زور کسی کا
موجوں کا دوش نہیں ہے‘ یہ دوش ہے اور کسی کا
طوفان میں نیّا ڈولے تو ماجھی پار لگائے
ماجھی جو نائو ڈبوئے اسے کون بچائے
ہم سے مت پوچھو کیسے مندر ٹوٹا سپنوں کا
لوگوں کی بات نہیں ہے‘ یہ قصہ ہے اپنوں کا
کوئی دشمن ٹھیس لگائے تو میت جیا بہلائے
من میت جو گھائو لگائے اسے کون مٹائے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter