منگل ‘ 22 ؍ ربیع الاوّل 1431ھ‘ 9 ؍ مارچ 2010ء

ـ 9 مارچ ، 2010
بوتل میں بند دو بھوت آن لائن نیلامی کیلئے پیش کر دیئے گئے۔
نیوزی لینڈ کے ایک گھر سے جولائی 2009ء میں عامل کی جھاڑ پھونک کے ذریعے مبینہ طور پر دو بھوت پکڑ کر بوتل میں بند کئے گئے‘ جنہیں آن لائن نیلامی کیلئے پیش کر دیا گیا۔ ان بھوتوں کی بولیاں چار سو ڈالر سے زائد تک پہنچ چکی ہیں‘ فروخت کرنے والے شخص کا کہنا ہے کہ ان بھوتوں نے کافی عرصے سے اسکے گھر میں بسیرا کیا ہوا تھا اور اسے تنگ کرتے رہتے تھے۔ اس شخص کے بقول ان بھوتوں کو پکڑ کر بوتلوں میں بند کروانے کے بعد اب وہ انہیں بیچ کر ان سے مکمل چھٹکارا پانا چاہتا ہے۔
بھوت تو ہمارے ہاں بھی بہت ہیں اور تنگ بھی بہت کرتے ہیں‘ انکی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ کسی ایک گھر کے بجائے پورے ملک پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ان میں ہر طرح کے بھوت ہیں‘ جو اپنے اپنے شعبے میں دن رات اپنی کارکردگی دکھاتے رہتے ہیں‘ مگر ہمارے ہاں اتفاق سے کوئی ایسا عامل نہیں جو ان کو بوتلوں میں بند کرکے انکی بولی لگا دے۔
ایک عامل نے تقریباً آٹھ ہزار بھوت پکڑے ہیں‘ مگر انہیں ابھی بوتلوں میں بند نہیں کیا جا سکا۔ بیرونی دنیا میں تو بھوت بکتے ہیں‘ ہمارے بھوت کوئی مفت لینا چاہئے تو بھی ہم ان کو دان کرنے کیلئے تیار ہیں۔ آج تک یہ نہیں پتہ چل سکا کہ یہ بھوت ہوتے کیا ہیں یا تو یہ انسان سے الگ کوئی مخلوق ہے جو کسی نہ کسی کے گھر میں بسیرا کر لیتے ہیں اور انہیں تنگ کرتے رہتے ہیں مگر انکی تعداد اتنی نہیں جتنی انسانی بھوتوں کی ہے۔
٭…٭…٭…٭
دفتر خارجہ نے کہا ہے امریکہ کا پاکستانیوں سے سلوک دوستی نہیں‘ بھارتی فوجی صلاحیت میں اضافہ امن کیلئے خطرہ ہے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کا قول ہے‘ تمہارے دوست تین ہیں اور تمہارے دشمن بھی تین ہیں‘ تمہارے دوست وہ ہیں جن میں سے کوئی تمہارا دوست ہے اور تمہارے دوست کا بھی دوست ہے اور تمہارے دشمن کا دشمن ہے اور تمہارے دشمنوں میں سے وہ شخص تمہارا دشمن ہے جو تمہارے دوست کا دشمن ہے اور تمہارے دشمن کا دوست ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ دوست وہ نہیں ہوتا جس کیلئے تمہیں تکلیف اٹھانی پڑے۔
امریکہ ہمارے دشمن کا دوست ہے اور ہم سے بھی دوستی جتلاتا ہے جبکہ اسکے یہاں آنے سے پورا پاکستان تکلیف میں ہے جس روز ہم اپنے دوستوں اور دشمنوں کی پہچان کرکے انکے ساتھ انکے مطابق ہی سلوک کرینگے تو ہمیں یہ نہیں سہنا پڑیگا۔
امریکہ ہمارا دوست نہیں‘ حضرت علیؓ کا یہ قول ہمارے حالات پر صادق آتا ہے اور ہم بڑی آسانی سے اس میں سے امریکہ بھارت اور اسرائیل کو تلاش کر سکتے ہیں۔
غضب خدا کا کہ 62 سال سے بھارت ہمارے ساتھ دشمنی کر رہا ہے اور ہم اس سے نہ صرف مذاکرات کر رہے ہیں بلکہ ہمارے مہربان اس سے دوستی کی مہم بھی چلا رہے ہیں۔
ماضی میں بھی ایسا کیا گیا اور تجارتی تعلقات کے ذریعے اس نے ہماری صنعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا‘ ہم امریکہ کی دوستی کو روتے ہیں اور حال ہی کی بات ہے کہ بھارتی اداکارہ ارمیلا ہمارے ایک صنعت کار کے بیٹے کی شادی میں 25 لاکھ کا مجرا کرکے گئی‘ کہئے یہ صنعت کار پاکستان کا دشمن ہے یا ارمیلا‘ اگر ہم نے بھارت سے دشمنی نبھائی ہوتی اور امریکہ کی دوستی میں چھپی دشمنی پہچانی ہوتی تو آج پاکستان کی یہ حالت نہ ہوتی۔
٭…٭…٭…٭
تھانوں میں صحافیوں اور کیمرے پر پابندی لگادی گئی۔
پولیس کی جانب سے شہریوں پر تھرڈ ڈگری تشدد کے مناظر میڈیا پر آنے کے بعد مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کیلئے آئی جی پنجاب طارق سلیم ڈوگر نے تھانوں میں صحافیوں اور کیمرے پر پابندی لگا دی۔ آئی جی نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ تھانوں کے اردگرد صحافیوں کی نقل و حرکت کو مانیٹر کیا جائے‘ یہاں تک کہ انہیں موبائل فون بھی تھانے کے اندر نہ لے جانے دیا جائے اور تھانے کے انچارج کی اجازت کے بغیر کسی صحافی کو تھانے کے اندر نہ جانے دیا جائے۔
اب تو ہماری نظر حکومت سے زیادہ چیف جسٹس آف پاکستان پر لگی رہتی ہے کہ وہ ہی آئی جی صاحب کی درفنطنی کا ازخود نوٹس لے کر اسے عدالت میں طلب کریں‘ اگر میڈیا پولیس تشدد کی فوٹج قوم کو نہ دکھائے تو یہ تھانے عقوبت خانے تو پوری قوم کا کچومر نکال دیں‘ پولیس کی غلط کارروائیوں پر ایکشن لینے کے بجائے آئی جی پولیس کھلم کھلا پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ اس لئے حکومت پنجاب کے وزیر اعلیٰ ان کو بلا کر پوچھ سکتے ہیں کہ آخر انہوں نے کس کی اجازت سے پولیس کو یہ کھلی چھٹی دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ عوام کے ساتھ جو بھی ظلم کرے‘ وہ پردے سے باہر نہ آئے۔
توقع تو یہ تھی کہ پولیس کے سربراہ اپنی پولیس کی ہنجاریوں کا سختی سے نوٹس لیں گے مگر یہ تو یوں لگتا ہے کہ وہ بھی انکے ساتھ شامل ہیں‘ انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ میڈیا ایک ایسی فوج ہے جس نے ہر آمریت کو کچلنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے‘ اس لئے پولیسیانہ آمریت نہیں چلے گی‘ صحافی میڈیا بلااجازت موبائل اور کیمرے کے ساتھ تھانوں کے اندر جائیگا اور انہیں برہنہ کرتا رہے گا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter